ایم کیو ایم وزیر اعظم سے کون سے مطالبات منوانے میں کامیاب رہی؟

وزیراعظم شہباز شریف سے متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) پاکستان کے وفد نے ملاقات کی، جس میں آئندہ مالی سال کے بجٹ، بلدیاتی اختیارات اور سندھ کی سیاسی صورتحال سے متعلق اہم امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
ذرائع کے مطابق ایم کیو ایم کے وفد نے ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی کی قیادت میں وزیراعظم کو بجٹ سے متعلق اپنی تجاویز پیش کیں۔ ملاقات میں آرٹیکل 140 اے، کراچی اور حیدرآباد کے ترقیاتی منصوبوں اور سندھ میں گورنر کے عہدے سے متعلق معاملات بھی زیر بحث آئے۔ایم کیو ایم رہنماؤں نے مؤقف اختیار کیا کہ سندھ کی گورنر شپ ان کی جماعت کے پاس ہونی چاہیے۔ اس پر حکومتی نمائندوں نے جواب دیا کہ گورنر کی تبدیلی سے متعلق ایم کیو ایم کو اعتماد میں لیا گیا تھا، جبکہ مستقبل میں اس معاملے پر مزید مشاورت کی جائے گی۔ذرائع کا کہنا ہے کہ وزیراعظم شہباز شریف نے کراچی کے لیے 20 ارب روپے اور حیدرآباد کے لیے 5 ارب روپے کے ترقیاتی پیکج پر اصولی آمادگی ظاہر کی ہے۔
ملاقات میں بلدیاتی حکومتوں سے متعلق مجوزہ آئینی ترمیمی بل پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔ حکومت نے ایم کیو ایم کو یقین دہانی کرائی کہ اس معاملے پر پیپلز پارٹی سے مشاورت کی جائے گی، جبکہ مسلم لیگ (ن) اس مجوزہ آئینی ترمیم کی حمایت کرتی ہے۔
ایم کیو ایم کے وفد میں ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی، ڈاکٹر فاروق ستار، مصطفیٰ کمال، امین الحق اور جاوید حنیف شامل تھے، جبکہ حکومتی وفد میں اسحاق ڈار، رانا ثناء اللہ، احسن اقبال، اعظم نذیر تارڑ، عطا اللہ تارڑ اور توقیر شاہ شریک ہوئے۔
