ساڑھے17ہزار ارب روپے کا بجٹ، تنخواہ دار طبقے کو ٹیکس ریلیف ملنے کا امکان

آئندہ مالی سال 2026-27 کا وفاقی بجٹ آج قومی اسمبلی میں پیش کیا جائے گا، جس کا مجموعی حجم تقریباً 17 ہزار 500 ارب روپے ہونے کا امکان ہے۔ بجٹ میں سرکاری ملازمین، پنشنرز اور تنخواہ دار طبقے کے لیے متعدد اہم تجاویز شامل کیے جانے کی توقع ہے۔

ذرائع کے مطابق نئے مالی سال کے بجٹ میں گریڈ 1 سے 22 تک کے سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں 7 فیصد اضافے کی تجویز دی گئی ہے، جبکہ ریٹائرڈ ملازمین کی پنشن میں بھی 7 فیصد اضافے پر غور کیا جا رہا ہے۔ اسی طرح کم از کم ماہانہ اجرت میں اضافے کی تجویز بھی زیر غور ہے۔بجٹ دستاویزات کے مطابق دفاعی اخراجات کے لیے تقریباً 3 ہزار ارب روپے مختص کیے جانے کا امکان ہے، جبکہ قرضوں پر سود کی ادائیگی کے لیے 7 ہزار 824 ارب روپے رکھنے کی تجویز ہے۔ حکومت نے پیٹرولیم لیوی کی مد میں ایک ہزار 727 ارب روپے وصول کرنے کا ہدف بھی مقرر کیا ہے۔

ذرائع کے مطابق فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کے لیے 15 ہزار 267 ارب روپے کے ٹیکس ریونیو کا ہدف تجویز کیا گیا ہے، جبکہ تنخواہ دار طبقے کو تقریباً 50 ارب روپے کے ٹیکس ریلیف کی فراہمی پر بھی غور کیا جا رہا ہے۔مجوزہ تجاویز کے تحت انکم ٹیکس سلیب کی تعداد 6 سے بڑھا کر 8 کیے جانے کا امکان ہے۔ اسی طرح ماہانہ 4 لاکھ 67 ہزار روپے تک آمدن پر 29 فیصد اور 5 لاکھ 83 ہزار روپے تک آمدن پر 32 فیصد ٹیکس عائد کرنے کی تجاویز زیر غور ہیں، جبکہ اس سے زائد آمدن پر 35 فیصد ٹیکس شرح برقرار رکھی جا سکتی ہے۔ذرائع کے مطابق سالانہ ایک کروڑ روپے سے زائد آمدن رکھنے والوں پر عائد سرچارج ختم کیے جانے کی تجویز بھی بجٹ کا حصہ بن سکتی ہے۔ اس کے علاوہ کرپٹو ٹریڈنگ سے حاصل ہونے والے منافع کو ٹیکس نیٹ میں لانے کے لیے گین ٹیکس عائد کیے جانے کا امکان ہے۔

بجٹ میں سابق قبائلی علاقوں کے لیے ٹیکس استثنی ختم کرنے اور بچوں کے فارمولا دودھ، گھی اور کوکنگ آئل سمیت متعدد اشیائے خورونوش پر ٹیکس تبدیلیوں کے باعث قیمتوں میں اضافے کا خدشہ بھی ظاہر کیا جا رہا ہے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ سولر پینلز، اسٹیشنری اشیا اور اسٹاک مارکیٹ پر موجودہ ٹیکسوں میں کوئی تبدیلی نہ کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے، جبکہ درآمدی الیکٹرک گاڑیوں پر سیلز ٹیکس 25 فیصد تک بڑھائے جانے اور ہائبرڈ گاڑیوں پر موجودہ ٹیکس شرح برقرار رکھنے کی تجویز زیر غور ہے۔

آئندہ مالی سال کے لیے برآمدات کا ہدف 32.8 ارب ڈالر اور درآمدات کا تخمینہ 70 ارب ڈالر مقرر کیے جانے کا امکان ہے۔ ذرائع کے مطابق دفاع اور وزارت داخلہ کے علاوہ کوئی نیا ترقیاتی منصوبہ شروع نہ کرنے کی پالیسی اپنائی جا سکتی ہے۔

وفاقی بجٹ پیش کرنے کے لیے قومی اسمبلی کا اجلاس آج سہ پہر 3 بجے ہوگا، جبکہ اس سے قبل دوپہر 2:30 بجے وفاقی کابینہ کا اجلاس طلب کیا گیا ہے، جس میں بجٹ کی منظوری دی جائے گی۔ وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب کابینہ کو بجٹ پر بریفنگ دیں گے، جبکہ بجٹ قومی اسمبلی کے بعد شام 5 بجے سینیٹ میں بھی پیش کیا جائے گا۔

وفاقی بجٹ میں سب سے زیادہ رقم قرضوں پر سود کی ادائیگی کے لیے مختص کیے جانے کا امکان ہے۔ ذرائع کے مطابق اس مد میں 7 ہزار 824 ارب روپے رکھے جائیں گے، جو مجموعی اخراجات کا بڑا حصہ ہوگا۔ماہرین کا کہنا ہے کہ قرضوں کی ادائیگی کا بڑھتا ہوا بوجھ حکومت کے مالی وسائل پر دباؤ برقرار رکھے ہوئے ہے اور یہی وجہ ہے کہ ترقیاتی اور سماجی شعبوں کے لیے دستیاب وسائل محدود ہوتے جا رہے ہیں۔

حکومت نے آئندہ مالی سال کے دوران پٹرولیم لیوی کی مد میں 1 ہزار 727 ارب روپے وصول کرنے کا ہدف تجویز کیا ہے، جو محصولات کے اہم ذرائع میں شامل ہوگا۔اسی طرح برآمدات کا ہدف 32.8 ارب ڈالر جبکہ درآمدات کا ہدف 70 ارب ڈالر مقرر کیے جانے کا امکان ہے۔ حکومت کا مؤقف ہے کہ برآمدات میں اضافے اور درآمدی دباؤ میں کمی سے بیرونی شعبے میں استحکام لانے میں مدد ملے گی۔

ذرائع کے مطابق بجٹ میں کسی بڑے نئے ترقیاتی منصوبے کے آغاز کا امکان نہیں ہے۔ حکومت کی ترجیح پہلے سے جاری منصوبوں کی بروقت تکمیل اور وسائل کے مؤثر استعمال پر مرکوز رہے گی۔اس کے علاوہ سابق فاٹا کے لیے جاری ٹیکس استثنیٰ ختم کیے جانے کی تجویز بھی زیر غور ہے، جس کا مقصد محصولات میں اضافہ اور ٹیکس نظام میں یکسانیت پیدا کرنا بتایا جا رہا ہے۔

معاشی ماہرین کے مطابق یہ بجٹ پاکستان کی معیشت کے لیے انتہائی اہمیت کا حامل ہوگا کیونکہ حکومت کو ایک طرف مالیاتی نظم و ضبط برقرار رکھنا ہے جبکہ دوسری جانب عوام کو مہنگائی کے اثرات سے ریلیف فراہم کرنے کی توقعات بھی موجود ہیں۔بجٹ میں کیے جانے والے فیصلے نہ صرف آئندہ مالی سال کی معاشی سمت کا تعین کریں گے بلکہ حکومت کے مالیاتی اور اقتصادی اصلاحاتی ایجنڈے کی کامیابی یا ناکامی پر بھی اثرانداز ہوں گے۔

Back to top button