ایران امریکا امن معاہدے کی اہم شقیں منظر عام پرآ گئیں

امریکا اور ایران کے درمیان مجوزہ امن معاہدے کے حتمی مسودے کی اہم تفصیلات منظر عام پر آ گئی ہیں، جن کا مقصد دونوں ممالک کے درمیان جاری کشیدگی کو کم کرنا اور جنگ کے مستقل خاتمے کی راہ ہموار کرنا ہے۔
عرب میڈیا ادارے العربیہ کے مطابق مجوزہ معاہدے میں موجودہ جنگ بندی میں مزید 60 روز کی توسیع اور عالمی تجارت کے لیے انتہائی اہم سمجھی جانے والی آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کی تجویز شامل ہے۔رپورٹس کے مطابق معاہدے کے تحت امریکا ایران پر عائد اقتصادی پابندیاں اور ناکہ بندی ختم کرے گا، جبکہ دونوں ممالک جنگ بندی کی توسیعی مدت کے دوران ایران کے افزودہ یورینیئم پروگرام سے متعلق مذاکرات جاری رکھیں گے۔
مجوزہ مسودے میں تمام فریقین کو فوری طور پر جارحانہ فوجی کارروائیاں روکنے کا پابند بنانے کی شق بھی شامل کی گئی ہے۔ اس دوران کسی بھی قسم کے حملوں یا عسکری اقدامات سے گریز کیا جائے گا تاکہ امن عمل متاثر نہ ہو۔معاہدے میں یہ بھی تجویز دی گئی ہے کہ اگر جنگ بندی کی خلاف ورزی ہوتی ہے تو اس معاملے کو ثالثی اور رابطہ کاری کے ایک مخصوص نظام کے ذریعے حل کیا جائے گا، تاکہ تنازع مزید شدت اختیار نہ کرے۔
رپورٹس کے مطابق گزشتہ چند ہفتوں کے دوران پاکستان کی ثالثی میں ایران اور امریکا کے درمیان متعدد سفارتی رابطے ہوئے ہیں، جن میں جنگ کے خاتمے کے لیے مختلف تجاویز کا تبادلہ کیا گیا۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ فریقین ایک مفاہمتی یادداشت (MoU) کو حتمی شکل دینے پر کام کر رہے ہیں۔
خیال رہے کہ اس سے قبل امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی اشارہ دیا تھا کہ ایران کے ساتھ اسی ہفتے معاہدہ طے پانے کا امکان ہے اور اس پر دستخط یورپ میں کیے جا سکتے ہیں۔تاہم، تاحال نہ تو واشنگٹن اور نہ ہی تہران کی جانب سے اس مجوزہ معاہدے کی تمام تفصیلات کی باضابطہ تصدیق کی گئی ہے، جس کے باعث ان رپورٹس کو محتاط انداز میں دیکھا جا رہا ہے۔
