کشمیر احتجاج: راولاکوٹ میں دھرنا ختم، مظاہرین منتشر، کشیدگی برقرار

پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر میں کئی روز سے جاری سیاسی کشیدگی کے دوران راولاکوٹ میں کالعدم قرار دی گئی جموں کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے دھرنے عارضی طور پر ختم ہو گئے، تاہم تنظیمی قیادت نے واضح کیا ہے کہ احتجاج کا خاتمہ نہیں ہوا بلکہ ممکنہ سکیورٹی آپریشن کے خدشات کے باعث شرکا کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا گیا ہے۔ تاہم دھرنے ختم ہونے کے باوجود خطے میں بے چینی برقرار ہے، جبکہ حالیہ جھڑپوں کے بعد ہلاکتوں کی مجموعی تعداد 12 سے تجاوز کر گئی ہے۔
حکام کے مطابق جمعرات اور جمعے کی درمیانی شب راولاکوٹ کے دریک عیدگاہ گراؤنڈ اور متیالمیرہ میں قائم احتجاجی کیمپ اس وقت خالی ہونا شروع ہوئے جب دھرنوں کے سٹیج سے ممکنہ کارروائی سے متعلق اعلانات کیے گئے۔ کمشنر پونچھ سردار وحید خان نے تصدیق کی کہ انتظامیہ نے مظاہرین کو دھرنے ختم کرنے کی وارننگ دی تھی، جس کے بعد وہ منتشر ہو گئے اور انہیں ہٹانے کے لیے کسی مسلح آپریشن کی ضرورت پیش نہیں آئی۔
دوسری جانب عوامی ایکشن کمیٹی کے رہنما عمر نذیر نے مؤقف اختیار کیا کہ احتجاجی شرکا کو صرف عارضی طور پر منتشر کیا گیا تھا تاکہ کسی ممکنہ تصادم سے بچا جا سکے۔ ان کے مطابق صبح ہوتے ہی متعدد مظاہرین دوبارہ دھرنا مقامات کی جانب لوٹ آئے اور تنظیم کی پُرامن جدوجہد جاری رہے گی۔ مقامی ذرائع نے بھی بتایا کہ بارش کے بعد کچھ افراد دوبارہ دریک عیدگاہ گراؤنڈ میں موجود دیکھے گئے۔مقامی صحافیوں کے مطابق رات گئے دھرنوں میں موجود افراد کو ممکنہ سکیورٹی آپریشن سے متعلق آگاہ کیا گیا، جس کے بعد بڑی تعداد میں لوگ علاقے سے نکل گئے۔ اطلاعات کے مطابق پس پردہ رابطوں میں عوامی ایکشن کمیٹی کے نمائندے اور بعض مقامی شخصیات شامل تھیں، جہاں کمیٹی کی جانب سے کالعدم قرار دیے جانے کا نوٹیفکیشن واپس لینے کا مطالبہ کیا جا رہا تھا، جبکہ حکام کا اصرار تھا کہ پہلے دھرنا اور لانگ مارچ ختم کیا جائے۔
ادھر وفاقی وزیر قانون بیرسٹر عقیل ملک نے واضح کیا کہ حکومت کی جانب سے کالعدم عوامی ایکشن کمیٹی کے ساتھ کسی قسم کے مذاکرات نہیں کیے جا رہے۔ ان کے مطابق امن و امان کو نقصان پہنچانے اور انتشار پھیلانے والوں کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی جاری رہے گی۔اسی دوران کشمیر حکومت نے ایک اہم انتظامی اقدام کرتے ہوئے عوامی ایکشن کمیٹی کے کارکنوں اور رہنماؤں کے خلاف گزشتہ دو برس کے دوران واپس لیے گئے فوجداری مقدمات بحال کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ جاری نوٹیفکیشن کے مطابق مئی 2024 اور دسمبر 2025 کے احتجاجی واقعات سے متعلق توڑ پھوڑ، کارِ سرکار میں مداخلت اور دفعہ 144 کی خلاف ورزی جیسے مقدمات میں دی گئی قانونی رعایتیں واپس لے لی گئی ہیں۔ سیاسی مبصرین کے مطابق اس اقدام کا مقصد تنظیم کی قیادت پر قانونی دباؤ بڑھانا ہے۔
راولاکوٹ میں جمعرات کو حالات اس وقت مزید کشیدہ ہو گئے جب رینجرز اور مظاہرین کے درمیان تصادم کی اطلاعات سامنے آئیں۔ عینی شاہدین کے مطابق مظاہرین نے فورسز کی پیش قدمی روکنے کی کوشش کی، جس کے بعد شیلنگ اور مبینہ فائرنگ ہوئی۔ ان جھڑپوں کے دوران ضلع پلندری سے تعلق رکھنے والے نوجوان سبحان عارف جان کی بازی ہار گئے جبکہ متعدد افراد زخمی ہوئے۔ انتظامیہ نے تصدیق کی کہ یہ واقعہ ایک کارروائی کے دوران پیش آیا۔عوامی ایکشن کمیٹی کا منصوبہ مختلف اضلاع سے آنے والے قافلوں کو راولاکوٹ میں یکجا کر کے مظفرآباد کی جانب مارچ کرنے کا تھا، تاہم مظفرآباد میں پہلے ہی دفعہ 144 نافذ ہے اور ہر قسم کے اجتماعات پر پابندی برقرار ہے۔ شہر میں شٹر ڈاؤن اور پہیہ جام ہڑتال کے باعث معمولاتِ زندگی شدید متاثر ہوئے ہیں۔
مبصرین کے مطابق آزاد کشمیر میں جاری سیاسی بحران اس وقت شدت اختیار کر گیا جب آٹے پر سبسڈی اور بجلی کے بلوں میں ریلیف سے متعلق حکومتی مذاکرات ناکام ہو گئے۔ بعد ازاں حکومت نے عوامی ایکشن کمیٹی کو کالعدم قرار دیتے ہوئے اس کے بعض رہنماؤں کے خلاف بغاوت کے مقدمات درج کرنے اور گرفتاریوں کے لیے انعامات کا اعلان کیا۔ موجودہ صورت حال میں اگرچہ راولاکوٹ میں دھرنے ختم ہونے سے وقتی سکون پیدا ہوا ہے، تاہم سیاسی اختلافات، قانونی کارروائیوں اور عوامی مطالبات کے باعث خطے میں کشیدگی کے مکمل خاتمے کے امکانات فی الحال محدود دکھائی دیتے ہیں۔
