بھارتی کاکروچ جنتا پارٹی کے پاکستان میں چرچے کیوں؟

انڈیا میں ایک طنزیہ نام سے شروع ہونے والی نوجوانوں کی احتجاجی تحریک نے نہ صرف بھارتی سیاست میں ہلچل پیدا کی بلکہ پاکستان میں بھی ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ سوشل میڈیا پر یہ سوال گردش کرنے لگا ہے کہ جب سری لنکا، بنگلہ دیش، نیپال اور اب انڈیا میں نوجوانوں کی قیادت میں تحریکیں حکومتی فیصلوں کو متاثر کر رہی ہیں تو پاکستان میں ایسی کوئی بڑی عوامی تحریک کیوں سامنے نہیں آ رہی؟
امریکی تھنک ٹینک اٹلانٹک کونسل سے وابستہ جنوبی ایشیا امور کے ماہر مائیکل کوگلمین نے بھی یہی سوال اٹھایا کہ پاکستان میں نوجوانوں کی قیادت میں کوئی ایسی وسیع تحریک کیوں نہیں ابھر رہی، حالانکہ جن مسائل نے خطے کے دیگر ممالک میں نوجوانوں کو سڑکوں پر آنے پر مجبور کیا، جیسے بے روزگاری، بدعنوانی، سیاسی بے چینی اور احساسِ محرومی، وہ پاکستان میں بھی موجود ہیں۔
یہ سوال انڈیا میں شروع ہونے والی ’کاکروچ جنتا پارٹی‘ (CJP) نامی طنزیہ تحریک کے پس منظر میں سامنے آیا۔ یہ تحریک اس وقت شروع ہوئی جب انڈین سپریم کورٹ کے چیف جسٹس سوریہ کانت کے ایک مبینہ تبصرے پر شدید ردعمل سامنے آیا۔ ایک عدالتی سماعت کے دوران ان کے ریمارکس کو نوجوانوں اور بے روزگار افراد کے حوالے سے توہین آمیز سمجھا گیا، جس کے بعد سوشل میڈیا پر احتجاجی مہم شروع ہوئی۔اگرچہ بعد میں وضاحت کی گئی کہ یہ تبصرہ جعلی اور بوگس ڈگریوں رکھنے والوں کے حوالے سے تھا، لیکن اس وقت تک یہ معاملہ عوامی بحث کا موضوع بن چکا تھا۔ نوجوانوں نے طنزیہ انداز میں خود کو ’کاکروچ‘ کہنا شروع کیا اور ’میں بھی کاکروچ ہوں‘ کا ہیش ٹیگ مقبول ہو گیا۔
چند ہی دنوں میں لاکھوں افراد نے اس تحریک سے وابستگی ظاہر کی۔ سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر اس کی مقبولیت میں اضافہ ہوا اور حزب اختلاف کے رہنماؤں نے بھی اس تحریک کی حمایت کی۔ بعد میں یہ تحریک صرف ایک عدالتی بیان کے خلاف احتجاج تک محدود نہ رہی بلکہ امتحانی پرچوں کے لیک ہونے، تعلیمی نظام کی خامیوں اور نوجوانوں کے مسائل کے خلاف آواز بن گئی۔
نئی دہلی کے جنتر منتر پر ہزاروں طلبہ اور نوجوان جمع ہوئے جہاں مظاہرین اور پولیس کے درمیان جھڑپیں بھی ہوئیں۔ احتجاج کے دباؤ کے بعد بھارتی حکومت نے امتحانی نظام میں اصلاحات، فاسٹ ٹریک عدالتوں کے قیام اور شفافیت کے لیے اقدامات کا اعلان کیا جبکہ وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان نے بھی استعفیٰ دے دیا۔
انڈیا کے ان واقعات کے بعد پاکستان میں سوشل میڈیا پر یہ بحث شروع ہوئی کہ کیا پاکستان میں بھی ایسی نوجوان تحریک جنم لے سکتی ہے؟ بعض حلقوں کا کہنا تھا کہ پاکستان میں بھی وہی مسائل موجود ہیں جو خطے کے دیگر ممالک میں نوجوانوں کو متحرک کرتے رہے ہیں۔مائیکل کوگلمین کے مطابق پاکستان میں نوجوانوں کی بڑی تحریک نہ اٹھنے کی ممکنہ وجوہات میں سیاسی ماحول، مختلف سماجی گروہوں میں تقسیم، نوجوانوں کے درمیان اتحاد کا فقدان اور 1980 کی دہائی سے طلبہ یونینز پر پابندی شامل ہیں۔
کچھ صارفین نے اس رائے سے اختلاف کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان میں نوجوان مکمل طور پر غیر فعال نہیں ہیں۔ ان کے مطابق مختلف سیاسی مواقع پر نوجوان بڑی تعداد میں سڑکوں پر نکلے، تاہم ہر تحریک کو مختلف سیاسی اور ریاستی حالات کا سامنا کرنا پڑا۔
کچھ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ پاکستان میں اجتماعی جدوجہد کے بجائے انفرادی ترقی کا رجحان زیادہ مضبوط ہے، جس کی وجہ سے وسیع پیمانے پر عوامی تحریک کے لیے ضروری اجتماعی شعور پیدا نہیں ہو پاتا۔
دوسری جانب بعض لوگوں کا خیال ہے کہ پاکستان کے نوجوان سیاسی طور پر متحرک ضرور ہیں، لیکن موجودہ سیاسی اور سماجی حالات میں کسی بڑی منظم تحریک کا بننا مشکل ہے۔ ان کے مطابق ماضی میں ہونے والے احتجاج اس بات کا ثبوت ہیں کہ نوجوان مسائل پر ردعمل دیتے ہیں، مگر ان تحریکوں کو طویل المدتی تنظیمی شکل نہیں مل پاتی۔
اس بحث میں طنز و مزاح کا عنصر بھی نمایاں رہا۔ سوشل میڈیا پر کئی صارفین نے انڈیا کی نوجوان تحریک کا حوالہ دیتے ہوئے پاکستان کے حالات پر تبصرے کیے۔ معروف کانٹینٹ کری ایٹر عون علی کھوسہ نے بھی ایک طنزیہ ویڈیو کے ذریعے اس بحث میں حصہ لیا۔
ویڈیو میں انہوں نے ابتدا میں تاثر دیا کہ شاید وہ پاکستان میں بھی نوجوانوں کو اپنے حقوق کے لیے اٹھ کھڑے ہونے کا کہیں گے، لیکن آخر میں طنزیہ انداز میں کہا کہ "یہاں سب کچھ ٹھیک چل رہا ہے، آرام سے گھر میں بیٹھیں۔”اصل سوال: نوجوان خاموش ہیں یا حالات مختلف ہیں؟ماہرین کے مطابق پاکستان، بھارت، سری لنکا، بنگلہ دیش اور نیپال کے سیاسی و سماجی حالات مختلف ہیں، اس لیے ہر ملک میں نوجوانوں کے ردعمل کا انداز بھی مختلف ہو سکتا ہے۔
ماحول دوست اقدامات اپنائیں، حکومت سے لاکھوں کے انعامات پائیں، مگر کیسے؟
کسی بھی بڑی عوامی تحریک کے لیے صرف مسائل کا ہونا کافی نہیں ہوتا بلکہ قیادت، تنظیم، مشترکہ مقصد اور اظہار کے مواقع بھی ضروری ہوتے ہیں۔ پاکستان میں نوجوان آبادی بہت بڑی ہے، لیکن سوال یہ ہے کہ کیا یہ طاقت کسی منظم اجتماعی تبدیلی کی شکل اختیار کر سکتی ہے یا نوجوان اپنی جدوجہد کو انفرادی راستوں تک محدود رکھیں گے؟فی الحال ’کاکروچ جنتا پارٹی‘ کا احتجاج انڈیا سے نکل کر ایک بڑی علاقائی بحث بن چکا ہے، جس نے جنوبی ایشیا میں نوجوانوں کے کردار، سیاسی نظام پر اعتماد اور عوامی آواز کے مؤثر ہونے جیسے بنیادی سوالات دوبارہ زندہ کر دیے ہیں۔
