پاکستانی شدت پسند گروہ نے افغان طالبان کے چھکے کیسے چھڑائے؟

افغانستان کے شمال مشرقی صوبے بدخشاں میں طالبان حکومت کی فورسز اور طالبان مخالف مسلح گروہ افغانستان فریڈم فرنٹ (اے ایف ایف) کے درمیان جاری جھڑپوں نے ایک بار پھر افغانستان کی سکیورٹی صورتحال پر سوالات اٹھا دیے ہیں۔ پاکستان کے ضلع لوئر چترال سے متصل اس علاقے میں دونوں فریق ایک دوسرے کو بھاری نقصان پہنچانے کے دعوے کر رہے ہیں، تاہم آزاد ذرائع سے ان دعوؤں کی تصدیق نہیں ہو سکی۔ ایسے میں اہم سوال یہ ہے کہ افغانستان فریڈم فرنٹ کیا ہے، اس کے مقاصد کیا ہیں اور طالبان حکومت کے لیے یہ کتنا بڑا چیلنج بن سکتا ہے؟
افغانستان کے صوبہ بدخشاں میں طالبان حکومت اور طالبان مخالف مسلح گروہ افغانستان فریڈم فرنٹ (اے ایف ایف) کے درمیان حالیہ جھڑپوں نے ملک کی پیچیدہ سکیورٹی صورتحال کو دوبارہ نمایاں کر دیا ہے۔ بدخشاں ایک حساس جغرافیائی اہمیت رکھنے والا صوبہ ہے، جس کی سرحدیں پاکستان، تاجکستان اور چین سے ملتی ہیں، یہی وجہ ہے کہ یہاں ہونے والی کسی بھی عسکری سرگرمی کے اثرات پورے خطے پر مرتب ہو سکتے ہیں۔
افغانستان فریڈم فرنٹ نے دعویٰ کیا ہے کہ گزشتہ چند روز کے دوران اس کے جنگجوؤں نے بدخشاں کے ضلع زیباک میں طالبان فورسز کے خلاف کارروائیاں کیں، جن میں طالبان کے فوجی قافلے کو راکٹ حملے کا نشانہ بنانے اور متعدد اہلکاروں کو ہلاک و زخمی کرنے کا دعویٰ بھی شامل ہے۔
اے ایف ایف کے مطابق اس کے جنگجوؤں نے طالبان کی پیش قدمی کو روک دیا اور بعض اہم مقامات پر اپنی پوزیشنیں مضبوط کیں۔ گروہ نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ طالبان کی جانب سے کمک پہنچانے کی کوششوں کو ناکام بنایا گیا، تاہم طالبان حکومت نے ان دعوؤں کی تصدیق نہیں کی۔
دوسری جانب طالبان حکام کا کہنا ہے کہ بدخشاں میں سکیورٹی فورسز کا کنٹرول برقرار ہے اور مخالف جنگجوؤں کو شدید مزاحمت کا سامنا کرنا پڑا۔ طالبان فوج کے جوائنٹ چیف آف اسٹاف فصیح الدین فطرت نے دعویٰ کیا کہ مخالف گروہ کے کئی افراد ہلاک اور زخمی ہوئے جبکہ کچھ جنگجو پاکستان کے علاقے چترال کی طرف فرار ہو گئے۔
طالبان حکام نے ان افراد کو "باغی” قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ افغانستان میں امن و امان خراب کرنے کی کوشش کرنے والوں کے خلاف کارروائی جاری رہے گی۔ بدخشاں کے گورنر محمد اسماعیل غزنوی نے بھی مسلح مخالف گروہوں سے اپیل کی ہے کہ وہ مزاحمت ترک کر کے سیاسی عمل کا حصہ بنیں۔
خیال رہے کہ افغانستان فریڈم فرنٹ طالبان مخالف ایک مسلح گروہ ہے جو زیادہ تر سابق افغان حکومت کے فوجی اہلکاروں پر مشتمل بتایا جاتا ہے۔ اس کی قیادت سابق افغان حکومت کی فوج کے جوائنٹ چیفس آف اسٹاف جنرل یاسین ضیا کر رہے ہیں۔یہ گروہ طالبان کے دوبارہ اقتدار میں آنے کے بعد وجود میں آنے والی مزاحمتی تنظیموں میں شامل ہے اور مختلف اوقات میں افغانستان کے مختلف علاقوں میں طالبان فورسز کے خلاف حملوں کی ذمہ داری قبول کرتا رہا ہے۔اے ایف ایف کا مؤقف ہے کہ وہ افغانستان میں ایک ایسے نظام کے لیے جدوجہد کر رہا ہے جس میں سیاسی شمولیت، انسانی حقوق اور عوامی نمائندگی کو اہمیت حاصل ہو، جبکہ طالبان حکومت اسے ایک مسلح مخالف گروہ قرار دیتی ہے۔
واضح رہے کہ بدخشاں افغانستان کا ایک انتہائی اہم صوبہ ہے کیونکہ یہ جغرافیائی طور پر وسطی اور جنوبی ایشیا کے سنگم پر واقع ہے۔ اس کی سرحدیں چین، تاجکستان اور پاکستان سے ملتی ہیں، جبکہ اس کا دشوار گزار پہاڑی علاقہ عسکری سرگرمیوں کے لیے پیچیدہ ماحول فراہم کرتا ہے۔حالیہ جھڑپیں پاکستان کے ضلع لوئر چترال کے قریب ہوئی ہیں، جس کی وجہ سے پاکستان سمیت خطے کے دیگر ممالک بھی افغانستان کی سکیورٹی صورتحال پر نظر رکھے ہوئے ہیں۔
یاد رہے کہ طالبان نے اگست 2021 میں اقتدار سنبھالنے کے بعد ملک کے بڑے حصے پر کنٹرول قائم کر لیا تھا، تاہم مختلف طالبان مخالف گروہ اب بھی بعض علاقوں میں سرگرم ہیں۔افغانستان فریڈم فرنٹ کے علاوہ دیگر چھوٹے گروہ بھی طالبان کے خلاف کارروائیاں کرتے رہے ہیں۔ اگرچہ یہ گروہ طالبان حکومت کے لیے ملک گیر سطح کا بڑا خطرہ ثابت نہیں ہوئے، لیکن دور دراز اور پہاڑی علاقوں میں ان کی موجودگی سکیورٹی چیلنج برقرار رکھتی ہے۔مبصرین کے مطابق بدخشاں میں حالیہ واقعات اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ طالبان حکومت کے سامنے صرف حکمرانی کا مسئلہ نہیں بلکہ ملک کے مختلف حصوں میں مکمل سکیورٹی کنٹرول برقرار رکھنے کا چیلنج بھی موجود ہے۔
ماہرین کا ماننا ہے کہ افغانستان میں کسی بھی قسم کی عسکری کشیدگی کا براہ راست اثر ہمسایہ ممالک پر پڑتا ہے۔ پاکستان خصوصاً سرحدی علاقوں کی صورتحال پر نظر رکھتا ہے کیونکہ ماضی میں بھی افغانستان سے منسلک سکیورٹی معاملات دونوں ممالک کے تعلقات پر اثر انداز ہوتے رہے ہیں۔
کویت کے ساتھ دفاعی معاہدہ پاکستان کیلئے اتنا اہم کیوں؟
ماہرین کے مطابق افغانستان میں پائیدار امن کے لیے صرف فوجی طاقت کافی نہیں بلکہ سیاسی مفاہمت، اقتصادی ترقی اور تمام طبقات کی شمولیت بھی ضروری ہے۔بدخشاں کی حالیہ جھڑپیں اگرچہ محدود نوعیت کی دکھائی دیتی ہیں، لیکن یہ اس حقیقت کی نشاندہی کرتی ہیں کہ افغانستان میں امن و استحکام کا سفر اب بھی کئی چیلنجز سے گزر رہا ہے۔
