کویت کے ساتھ دفاعی معاہدہ پاکستان کیلئے اتنا اہم کیوں؟

کویت نے پاکستان کے ساتھ جون 2023 میں طے پانے والے دفاعی تعاون کے معاہدے کو تین سال بعد شاہی فرمان کے ذریعے باضابطہ قانونی حیثیت دے دی ہے۔ اس پیش رفت کے بعد دونوں ممالک کے درمیان فوجی تربیت، دفاعی ٹیکنالوجی، انٹیلی جنس، لاجسٹکس، تحقیق اور مہارت کے تبادلے کے لیے ایک مستقل ادارہ جاتی فریم ورک قائم ہو جائے گا،دفاعی ماہرین کے مطابق کویت کے ساتھ معاہدے نے نہ صرف خطے کی بدلتی ہوئی سکیورٹی صورتحال پر گہرے اثرات مرتب ہونگے بلکہ اس معاہدے سے پاکستان کا بڑھتا ہوا سفارتی کرداربھی مزید مضبوط ہو گا۔
خیال رہے کہ کویت کی جانب سے پاکستان کے ساتھ دفاعی تعاون کے معاہدے کی باقاعدہ منظوری مشرقِ وسطیٰ کی بدلتی ہوئی جغرافیائی و سیاسی صورتحال میں ایک اہم پیش رفت قرار دی جا رہی ہے۔ کویتی شاہی فرمان کے اجرا کے بعد یہ معاہدہ نہ صرف قانونی حیثیت اختیار کر گیا ہے بلکہ دونوں ممالک کے درمیان دفاعی تعاون کو ایک منظم اور دیرپا ادارہ جاتی فریم ورک بھی حاصل ہو گیا ہے۔
یہ معاہدہ 11 جون 2023 کو پاکستان کے اُس وقت کے سفیر ملک محمد فاروق اور کویتی وزارتِ دفاع کے جوائنٹ پلاننگ ڈائریکٹر بریگیڈیئر جنرل فواز خضیر محمد الحربی کے درمیان طے پایا تھا۔ اب تین سال بعد جاری ہونے والے شاہی فرمان کے ذریعے کویت نے اس معاہدے کو اپنی قومی قانون سازی کا حصہ بنا دیا ہے، جس کے بعد متعلقہ وزارتیں اس پر عمل درآمد کی پابند ہوں گی۔
معاہدے کی بنیاد دونوں ممالک کی مسلح افواج کے درمیان پیشہ ورانہ تعاون کو فروغ دینا ہے۔ اس کے تحت فوجی تربیت، مشترکہ مشقیں، دفاعی تعلیم، لاجسٹکس، دفاعی تحقیق، سائنسی و تکنیکی تعاون، فوجی انٹیلی جنس، مہارت کے تبادلے اور دفاعی صنعت میں اشتراک جیسے شعبوں میں تعاون بڑھایا جائے گا۔ اس مقصد کے لیے دونوں ممالک سالانہ منصوبہ بندی کریں گے اور مشترکہ فوجی کمیٹی بھی قائم کی جائے گی، جو تعاون کے مختلف پہلوؤں کا جائزہ لے گی۔
معاہدے میں حساس معلومات کے تحفظ، دانشورانہ املاک (انٹیلیکچوئل پراپرٹی) کے حقوق، مالی انتظامات اور اختلافات کے حل کا طریقہ کار بھی واضح کیا گیا ہے۔ کسی بھی تنازعے کی صورت میں دونوں ممالک اسے باہمی مشاورت سے حل کریں گے اور معاملہ کسی بین الاقوامی عدالت یا تیسرے فریق کے پاس نہیں لے جایا جائے گا۔
اس معاہدے کی ایک اہم خصوصیت یہ ہے کہ یہ پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان موجود مشترکہ دفاعی معاہدے سے مختلف نوعیت کا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ معاہدے میں ایک ملک پر حملے کو دونوں ممالک پر حملہ تصور کیا جاتا ہے، جبکہ کویت کے ساتھ ہونے والا معاہدہ مکمل طور پر دفاعی تعاون، صلاحیت سازی، تربیت اور ادارہ جاتی اشتراک تک محدود ہے۔ اس میں باہمی دفاع یا فوجی مداخلت کی کوئی شق شامل نہیں۔
کویت میں پاکستان کے سفیر ظفر اقبال کے مطابق پاکستان اور کویت کے دفاعی تعلقات نئی بات نہیں بلکہ 1980 کی دہائی سے دونوں ممالک مختلف شعبوں میں تعاون کرتے آ رہے ہیں۔ موجودہ معاہدے کا مقصد انہی تعلقات کو جدید تقاضوں کے مطابق ایک منظم اور قانونی شکل دینا ہے تاکہ مستقبل میں تعاون مزید مؤثر بنایا جا سکے۔
دفاعی ماہرین کا خیال ہے کہ یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب مشرقِ وسطیٰ میں ایران، امریکہ اور اسرائیل کے درمیان کشیدگی نے خلیجی ممالک کو اپنی دفاعی حکمت عملی پر نظرثانی پر مجبور کر دیا ہے۔ ایسے ماحول میں کویت سمیت کئی خلیجی ریاستیں اپنی سلامتی کے لیے مختلف شراکت داریوں کو مضبوط بنا رہی ہیں تاکہ کسی ایک طاقت پر انحصار کم کیا جا سکے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق حالیہ برسوں میں پاکستان نے نہ صرف خلیجی ممالک کے ساتھ اپنے دفاعی تعلقات کو وسعت دی ہے بلکہ ایران اور امریکہ کے درمیان ثالثی کی کوششوں میں بھی نسبتاً فعال کردار ادا کیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ خطے میں پاکستان کو ایک ایسے ملک کے طور پر دیکھا جا رہا ہے جو فوجی مہارت کے ساتھ ساتھ سفارتی سطح پر بھی اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اس معاہدے سے پاکستان کو کئی عملی فوائد حاصل ہو سکتے ہیں۔ ان میں دفاعی صنعت میں تعاون، فوجی تربیت کے مواقع، سرمایہ کاری، توانائی کے شعبے میں شراکت داری، پاکستانی افرادی قوت کے لیے روزگار کے نئے امکانات اور خلیجی ممالک کے ساتھ اقتصادی تعلقات کا مزید استحکام شامل ہیں، جبکہ پاکستان کی دفاعی صلاحیت اور پیشہ ورانہ مہارت کو بھی بین الاقوامی سطح پر مزید پذیرائی مل سکتی ہے۔
سہیل آفریدی عدالت میں عمران خان رہائی فورس سے مکر گئے
دوسری جانب بعض تجزیہ کار محتاط رائے رکھتے ہیں۔ ان کے مطابق فی الحال یہ معاہدہ زیادہ تر سیاسی اور سفارتی اہمیت کا حامل ہے اور اس کے حقیقی نتائج کا انحصار اس بات پر ہوگا کہ دونوں ممالک مستقبل میں ان شقوں پر کس حد تک عملی پیش رفت کرتے ہیں۔ اگر مشترکہ منصوبے، تربیتی پروگرام اور دفاعی تعاون کے عملی اقدامات سامنے آتے ہیں تو یہ معاہدہ خطے میں پاکستان اور کویت کے تعلقات کو نئی بلندیوں تک لے جا سکتا ہے۔
