ماحول دوست اقدامات اپنائیں، حکومت سے لاکھوں کے انعامات پائیں، مگر کیسے؟

پنجاب حکومت نے فضائی آلودگی، سموگ اور موسمیاتی تبدیلیوں کے چیلنج سے نمٹنے کے لیے "گرین کریڈٹ پروگرام” متعارف کرا دیا ہے، جس کے تحت ماحول دوست سرگرمیوں میں حصہ لینے والے شہریوں کو مالی انعامات اور دیگر مراعات دی جائیں گی۔ درخت لگانے، الیکٹرک گاڑی یا موٹر سائیکل خریدنے، سائیکل استعمال کرنے، پلاسٹک ری سائیکلنگ اور پانی کے تحفظ جیسے اقدامات اب صرف ماحول کے لیے فائدہ مند نہیں بلکہ شہریوں کے لیے مالی فائدے کا ذریعہ بھی بن سکیں گے۔
پاکستان موسمیاتی تبدیلیوں اور فضائی آلودگی جیسے سنگین مسائل سے دوچار ہے، جبکہ پنجاب ہر سال سموگ کے باعث شدید ماحولیاتی بحران کا سامنا کرتا ہے۔ اسی صورتحال کے پیش نظر پنجاب حکومت نے ماحولیات کے تحفظ کو عوامی سطح پر فروغ دینے کے لیے گرین کریڈٹ پروگرام کا آغاز کیا ہے، جس کا مقصد شہریوں کو ماحول دوست طرزِ زندگی اپنانے کی ترغیب دینا اور انہیں اس کے بدلے مالی مراعات فراہم کرنا ہے۔
اس منصوبے کے ساتھ حکومت نے محکمہ تحفظِ ماحولیات کے بجٹ میں بھی نمایاں اضافہ کیا ہے۔ گزشتہ سال کے مقابلے میں رواں مالی سال کے لیے محکمہ ماحولیات کا بجٹ نو ارب روپے سے بڑھا کر 15 ارب روپے سے زیادہ کر دیا گیا ہے۔ یہ فنڈز سموگ کنٹرول، کلائمیٹ آبزرویٹری، جدید ماحولیاتی لیبارٹریوں، انوائرمنٹ پروٹیکشن فورس کے قیام اور دیگر 34 ترقیاتی منصوبوں پر خرچ کیے جائیں گے تاکہ ماحولیاتی مسائل سے مؤثر انداز میں نمٹا جا سکے۔
گرین کریڈٹ پروگرام کا بنیادی مقصد صرف درخت لگانا نہیں بلکہ شہریوں میں ماحول دوست رویوں کو فروغ دینا ہے۔ اس پروگرام کے تحت درختوں کی شجرکاری اور ان کی نگہداشت، پانی کے تحفظ کے اقدامات، کچرے کی علیحدگی اور ری سائیکلنگ، فضائی آلودگی کم کرنے والی سرگرمیوں، حیاتیاتی تنوع کے تحفظ اور ماحولیات سے متعلق آگاہی مہمات میں حصہ لینے والے افراد کو گرین کریڈٹس دیے جائیں گے، جنہیں بعد ازاں مالی انعامات یا دیگر مراعات میں تبدیل کیا جا سکے گا۔
پروگرام میں شرکت کے لیے شہریوں کو حکومت کے آن لائن گرین کریڈٹ پورٹل پر اپنی رجسٹریشن کرنی ہوگی۔ رجسٹریشن کے بعد وہ اپنی ماحول دوست سرگرمیوں کی تفصیلات اور متعلقہ دستاویزی ثبوت اپ لوڈ کریں گے۔ محکمہ تحفظِ ماحولیات ان درخواستوں کی جانچ پڑتال کرے گا اور منظوری کے بعد درخواست گزار کو گرین کریڈٹس جاری کیے جائیں گے، جو مقررہ قواعد کے مطابق مالی معاونت میں تبدیل کیے جا سکیں گے۔
حکومت نے مختلف سرگرمیوں کے لیے مالی مراعات بھی مقرر کی ہیں۔ اگر کوئی شہری الیکٹرک کار، رکشہ یا موٹر سائیکل خریدتا ہے اور اس کی تفصیلات پورٹل پر درج کرتا ہے تو اسے 10 ہزار سے ایک لاکھ روپے تک مالی معاونت دی جا سکتی ہے۔ اسی طرح سائیکل خریدنے یا باقاعدگی سے استعمال کرنے والے افراد کو 10 ہزار سے 20 ہزار روپے تک کی مراعات دی جائیں گی۔ پلاسٹک یا دیگر قابلِ ری سائیکل اشیا جمع کر کے فروخت کرنے والے شہری بھی متعلقہ رسیدیں پورٹل پر اپ لوڈ کر کے انعام کے مستحق بن سکیں گے۔
محکمہ تحفظِ ماحولیات کے مطابق اس پروگرام کے تحت اب تک چار کروڑ 40 لاکھ روپے سے زائد کی مالی معاونت کی منظوری دی جا چکی ہے، جبکہ تقریباً 500 شہریوں کے انعامات کی تصدیق مکمل ہو چکی ہے اور انہیں جلد ادائیگیاں کی جائیں گی۔ حکومت کا کہنا ہے کہ اگلے مرحلے میں الیکٹرک وہیکل شورومز، تعلیمی اداروں اور صنعتی شعبے کو بھی اس پروگرام کا حصہ بنایا جائے گا تاکہ زیادہ سے زیادہ شہری اس سے مستفید ہو سکیں۔
حکومت پنجاب اس منصوبے کو بین الاقوامی سطح پر بھی وسعت دینا چاہتی ہے۔ حکام کے مطابق گرین کریڈٹ پروگرام کو مستقبل میں کاربن کریڈٹ اور ایمیشنز ٹریڈنگ سسٹم (ETS) سے جوڑنے پر کام جاری ہے، جس سے نہ صرف ماحول دوست منصوبوں کو عالمی مالی معاونت حاصل ہو سکے گی بلکہ پنجاب کو گرین فنانسنگ کے نئے مواقع بھی میسر آئیں گے۔
نئی حکومتی پٹرولیم پالیسی نے عوام کی چیخیں کیسے نکلوائیں؟
ماہرین ماحولیات کا کہنا ہے کہ گرین کریڈٹ پروگرام ایک مثبت اور بروقت اقدام ہے، تاہم اس کے ساتھ ساتھ وسیع پیمانے پر شجرکاری، صنعتی آلودگی پر مؤثر کنٹرول، گاڑیوں سے خارج ہونے والے دھویں میں کمی اور صاف توانائی کے فروغ جیسے اقدامات بھی ناگزیر ہیں۔ ان کے مطابق اگر حکومتی منصوبوں پر مؤثر عمل درآمد کیا گیا تو پنجاب نہ صرف سموگ کے مسئلے پر قابو پا سکے گا بلکہ ماحولیاتی تحفظ کے میدان میں ایک کامیاب مثال بھی قائم کر سکتا ہے۔
