’نیٹ بلنگ‘:سولر صارفین کو بجلی کے بل زیادہ کیوں آنے لگے؟

پاکستان میں بجلی کی بڑھتی قیمتوں سے بچنے کے لیے لاکھوں روپے خرچ کر کے سولر سسٹم لگانے والے نئے صارفین اب ایک نئی مشکل سے دوچار ہیں۔ فروری 2026 کے بعد نافذ ہونے والی نئی پالیسی کے تحت نیٹ میٹرنگ کی جگہ ’نیٹ بلنگ‘ کا نظام متعارف کروایا گیا، جس کے نتیجے میں بہت سے صارفین کو توقعات کے برعکس زیادہ بجلی کے بل موصول ہو رہے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ جو لوگ سولر توانائی کو طویل مدتی بچت کا ذریعہ سمجھ رہے تھے، وہ اب اس نظام کی افادیت پر سوال اٹھا رہے ہیں۔
ماہرین کے مطابق اس تبدیلی کی بنیادی وجہ نیٹ میٹرنگ اور نیٹ بلنگ کے درمیان موجود فرق ہے۔ پہلے نیٹ میٹرنگ کے تحت صارف دن کے وقت اپنے سولر سسٹم سے پیدا ہونے والی اضافی بجلی گرڈ کو فراہم کرتے تھے اور اس کے بدلے تقریباً اتنے ہی یونٹس کا کریڈٹ حاصل کر لیتے تھے۔ یوں رات کے وقت گرڈ سے حاصل کی جانے والی بجلی ان یونٹس کے ذریعے ایڈجسٹ ہو جاتی تھی اور صارفین کے بل انتہائی کم یا بعض اوقات صفر تک آ جاتے تھے۔تاہم نیٹ بلنگ کے نئے نظام میں یونٹس کا تبادلہ ختم کر دیا گیا ہے۔ اب اگر کوئی صارف دن کے وقت اضافی بجلی گرڈ کو دیتا ہے تو بجلی تقسیم کار کمپنیاں اسے 11 سے 13 روپے فی یونٹ کے حساب سے خریدتی ہیں، لیکن جب یہی صارف رات کے وقت یا ضرورت کے مطابق گرڈ سے بجلی لیتا ہے تو اسے 37 سے 55 روپے فی یونٹ کے نرخ ادا کرنا پڑتے ہیں۔ اس فرق کی وجہ سے صارفین کے بل نمایاں طور پر بڑھ جاتے ہیں۔
اسلام آباد کے رہائشی ساجد حسین بھی انہی متاثرین میں شامل ہیں۔ انہوں نے گزشتہ سال اپنے گھر پر سولر سسٹم نصب کیا اور نیٹ میٹرنگ کے لیے درخواست دی، لیکن ان کی درخواست منظور ہونے تک نئی پالیسی نافذ ہو چکی تھی۔ ان کا کہنا ہے کہ دن کے وقت ان کی پیدا کردہ سستی بجلی گرڈ لے لیتا ہے، لیکن رات کے وقت انہیں عام صارفین کی طرح مہنگی بجلی خریدنا پڑتی ہے، جس کے باعث ان کے ماہانہ اخراجات میں کمی کے بجائے اضافہ ہو گیا ہے۔
پاور سیکٹر کے ماہر محمد حسین کے مطابق اگر کوئی صارف دن میں 50 یونٹ اضافی بجلی گرڈ کو فراہم کرتا ہے تو اسے تقریباً 600 روپے کا کریڈٹ ملتا ہے، لیکن اگر وہ رات کو اتنے ہی 50 یونٹس گرڈ سے استعمال کرے تو موجودہ نرخوں، ٹیکسوں اور فکسڈ چارجز کے باعث اس کا بل تقریباً 2 ہزار روپے تک پہنچ سکتا ہے۔ یوں پرانے نظام کے برعکس، جہاں یونٹس برابر ہونے کی صورت میں بل تقریباً ختم ہو جاتا تھا، نئے نظام میں صارف کو اضافی ادائیگی کرنا پڑتی ہے۔
توانائی کے ماہرین کے مطابق فی الحال یہ نئی پالیسی صرف ان صارفین پر لاگو ہو رہی ہے جنہوں نے فروری 2026 کے بعد نیٹ میٹرنگ کے لیے رجسٹریشن کروائی۔ اس کے برعکس، اس تاریخ سے پہلے معاہدہ مکمل کرنے والے صارفین اب بھی پرانے "یونٹ کے بدلے یونٹ” نظام سے فائدہ اٹھا رہے ہیں، جس کے باعث ان کے بل کم آ رہے ہیں اور انہیں صرف فکسڈ چارجز یا معمولی ٹیکس ادا کرنا پڑتے ہیں تاہم یہ ریلیف مستقل نہیں ہے۔ نیپرا کے قواعد کے مطابق پرانے نیٹ میٹرنگ معاہدے عموماً تین سے سات سال کے لیے ہوتے ہیں۔ معاہدے کی مدت مکمل ہونے کے بعد یہ صارفین بھی لازمی طور پر نیٹ بلنگ کے نظام میں منتقل ہو جائیں گے۔ اسی خدشے کے پیش نظر بہت سے پرانے سولر صارفین اب بیٹری بیک اپ اور مکمل آف گرڈ نظام جیسے متبادل آپشنز پر غور کر رہے ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ نیٹ بلنگ کے نظام نے سولر سسٹم کی واپسی سرمایہ یعنی Return on Investment کی مدت کو بھی بڑھا دیا ہے۔ پہلے جہاں سولر پر کی گئی سرمایہ کاری نسبتاً کم عرصے میں پوری ہو جاتی تھی، اب نئے صارفین کو اپنی لاگت پوری کرنے کے لیے زیادہ وقت درکار ہوگا۔ اس کے باوجود بجلی کی مسلسل بڑھتی قیمتوں کے تناظر میں سولر توانائی اب بھی ایک اہم متبادل تصور کی جا رہی ہے، تاہم صارفین کے لیے ضروری ہے کہ وہ نظام نصب کرنے سے قبل موجودہ پالیسی، بلنگ کے طریقہ کار اور ممکنہ مالی اثرات کا مکمل جائزہ لیں۔ ماہرین کے بقول موجودہ صورتحال میں نیٹ بلنگ نے سولر صارفین کے لیے بجلی کے بلوں کی نوعیت بدل دی ہے۔ اگرچہ سولر توانائی اب بھی بجلی کے بحران کا ایک مؤثر حل سمجھی جاتی ہے، لیکن نئی پالیسی کے بعد صارفین کی بچت کا انحصار صرف بجلی پیدا کرنے پر نہیں بلکہ اس بات پر بھی ہے کہ وہ اپنی پیدا کردہ توانائی کو کس حد تک خود استعمال کر پاتے ہیں اور گرڈ پر انحصار کو کس قدر کم کر سکتے ہیں۔
