ریئل سٹیٹ سیکٹر میں ’فائل سسٹم‘ ختم، متبادل نظام کیسے کام کرے گا؟

پاکستان کے ریئل اسٹیٹ سیکٹر میں ایک بڑی تبدیلی لانے کا فیصلہ کیا گیا ہے جس کے تحت جائیداد کی خرید و فروخت میں دہائیوں سے استعمال ہونے والا فائل سسٹم ختم کیا جا رہا ہے۔ حکام کے مطابق اس نظام کی جگہ ایک جدید، ڈیجیٹل اور شفاف طریقہ کار متعارف کروایا جائے گا تاکہ سرمایہ کاروں اور عام شہریوں کو فراڈ سے بچایا جا سکے۔
خیال رہے کہ فائل سسٹم دراصل ایسے پلاٹوں کی کاغذی ملکیت یا وعدے پر مبنی ہوتا تھا جن کا زمین پر باضابطہ وجود، نمبر یا حدود متعین نہیں ہوتی تھیں۔ ہاؤسنگ سوسائٹیاں ترقیاتی کام مکمل ہونے سے پہلے ہی ان فائلوں کو فروخت کر دیتی تھیں، جبکہ سرمایہ کار قیمتوں میں اضافے کی توقع پر انہیں خریدتے اور آگے فروخت کرتے رہتے تھے۔ وقت گزرنے کے ساتھ یہی نظام سٹے بازی، مصنوعی قیمتوں کے تعین اور غیر قانونی کاروباری سرگرمیوں کا مرکز بنتا گیا۔حکام کے مطابق متعدد غیر منظور شدہ ہاؤسنگ سکیموں نے اپنی اصل اراضی سے کہیں زیادہ فائلیں فروخت کیں، جس کے نتیجے میں ہزاروں افراد برسوں بعد یہ جان کر مشکلات کا شکار ہوئے کہ ان کے نام پر کوئی حقیقی پلاٹ موجود ہی نہیں۔ اس صورتحال نے نہ صرف عوام کا اعتماد مجروح کیا بلکہ ریئل اسٹیٹ کے شعبے کی ساکھ کو بھی نقصان پہنچایا۔
اس پس منظر میں حکومت نے فیصلہ کیا ہے کہ یکم جولائی 2026 کے بعد پنجاب میں فائلوں کی خرید و فروخت کی اجازت نہیں ہوگی۔ تمام ہاؤسنگ سوسائٹیوں کو 30 جون تک اپنا مکمل ریکارڈ سرکاری ڈیجیٹل نظام میں منتقل کرنا ہوگا۔ نئے نظام کے تحت جائیداد کی ملکیت کا ثبوت پراپرٹی سرٹیفکیٹ ہوگا، جو پنجاب لینڈ ریکارڈز اتھارٹی کے ذریعے جاری کیا جائے گا۔اس سرٹیفکیٹ پر موجود کیو آر کوڈ کو سکین کر کے کسی بھی جائیداد کی مکمل تفصیلات حاصل کی جا سکیں گی، جن میں اصل مالک کا نام، پلاٹ کی قانونی حیثیت، اس کی سابقہ ملکیت کی تاریخ اور دیگر ضروری معلومات شامل ہوں گی۔ اس سے خریدار کسی بھی سرمایہ کاری سے پہلے جائیداد کی تصدیق خود کر سکے گا۔
حکام کا کہنا ہے کہ تمام نجی ہاؤسنگ سکیموں کو اپنے منصوبوں کا ریکارڈ ہاؤسنگ سوسائٹیز مینجمنٹ سسٹم سے منسلک کرنا ہوگا۔ اس نظام کو سب رجسٹرار کے اختیارات کے ساتھ مربوط کیا جا رہا ہے تاکہ ہر لین دین سرکاری ریکارڈ کا حصہ بنے اور کوئی بھی سوسائٹی اپنی مرضی سے اضافی فائلیں جاری نہ کر سکے۔ حکام کے بقول اس اصلاحاتی عمل میں نیب بھی کردار ادا کر رہا ہے۔ متعلقہ حکام کے مطابق مستقبل میں کوئی بھی ڈویلپر اپنی منظور شدہ اور دستیاب زمین سے زیادہ پلاٹ فروخت نہیں کر سکے گا۔ اس کے علاوہ ریئل اسٹیٹ میں نقد لین دین کی حوصلہ شکنی کرتے ہوئے بینکنگ چینلز کے ذریعے ادائیگیوں کو فروغ دیا جا رہا ہے تاکہ مالی معاملات کا مکمل ریکارڈ موجود رہے۔
حکام کے مطابق وہ افراد جنہوں نے پہلے سے فائلیں خرید رکھی ہیں، انہیں ہدایت کی گئی ہے کہ وہ اپنی متعلقہ ہاؤسنگ سوسائٹیوں سے فوری رابطہ کریں اور یہ یقینی بنائیں کہ ان کی فائلوں کا ڈیٹا مقررہ مدت کے اندر سرکاری ڈیجیٹل نظام میں منتقل ہو جائے۔ اگر ایسا نہ ہوا تو آئندہ چند ماہ بعد ایسی فائلوں کی قانونی حیثیت ختم ہو سکتی ہے اور ان کی خرید و فروخت ممکن نہیں رہے گی۔
ماہرین کے مطابق اس نئے نظام سے ایک جانب سرمایہ کاروں کا تحفظ ممکن ہوگا، جبکہ دوسری جانب جائیداد کے شعبے میں شفافیت اور اعتماد کو فروغ ملے گا۔ تاہم اس تبدیلی کی کامیابی کا انحصار مؤثر عملدرآمد، ڈیجیٹل نظام کی فعالیت اور متعلقہ اداروں کی مسلسل نگرانی پر ہوگا۔ اگر یہ نظام مؤثر انداز میں نافذ ہو جاتا ہے تو پاکستان کے ریئل اسٹیٹ سیکٹر میں فراڈ اور غیر یقینی صورتحال میں نمایاں کمی لائی جا سکتی ہے۔
