حکومت معاشی اہداف حاصل کرنے میں یکسر ناکام کیوں؟

اقتصادی سروے نے حکومت کے معاشی ترقی اور بہترے کے دعوؤں کی قلعی کھول دی۔ وفاقی حکومت کی جانب سے جاری کردہ اقتصادی سروے 2025-26 ایک ایسی معیشت کی تصویر پیش کرتا ہے جس میں کچھ شعبوں میں بہتری ضرور دیکھی گئی، تاہم مجموعی طور پر حکومت اپنے بیشتر معاشی اہداف حاصل کرنے میں کامیاب نہ ہو سکی۔ اگرچہ ترسیلاتِ زر، آئی ٹی برآمدات، سٹاک مارکیٹ اور کمپنیوں کی رجسٹریشن جیسے شعبوں میں مثبت پیش رفت سامنے آئی، لیکن اقتصادی ترقی کی رفتار، زرعی پیداوار، برآمدات اور فی کس آمدن کے اہداف حاصل نہ ہونے کی وجہ سے معاشی کارکردگی توقعات سے کم رہی۔
وفاقی حکومت کے جاری کردہ اقتصادی سروے برائے مالی سال 2025-26 کے مطابق رواں برس معیشت کے بعض شعبوں میں نمایاں بہتری دیکھنے میں آئی، تاہم مجموعی طور پر حکومت اپنے بیشتر اہم معاشی اہداف حاصل کرنے میں ناکام رہی۔ معاشی شرح نمو، زرعی پیداوار، برآمدات اور فی کس آمدن جیسے بنیادی اشاریے مقررہ اہداف سے کم رہے، جس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ اقتصادی استحکام کے باوجود پائیدار ترقی کے سفر میں متعدد چیلنجز بدستور موجود ہیں۔
اقتصادی سروے کے مطابق رواں مالی سال کے دوران ملکی معیشت کی شرح نمو 4.2 فیصد مقرر کی گئی تھی، لیکن حقیقی ترقی کی شرح صرف 3.7 فیصد ریکارڈ کی جا سکی۔ ماہرین کے مطابق اس کی بڑی وجوہات زرعی شعبے کی کمزور کارکردگی، عالمی معاشی غیر یقینی صورتحال، توانائی کے شعبے کے مسائل اور سرمایہ کاری کی محدود رفتار ہیں۔
زرعی شعبہ، جو پاکستان کی معیشت میں بنیادی حیثیت رکھتا ہے، 4.5 فیصد کے ہدف کے مقابلے میں صرف 2.89 فیصد ترقی کر سکا۔ اہم فصلوں کی مجموعی پیداوار میں بھی خاطر خواہ اضافہ نہ ہو سکا اور یہ شعبہ مقررہ اہداف سے پیچھے رہا۔ اگرچہ لائیو سٹاک کے شعبے میں 3.75 فیصد بہتری دیکھی گئی، تاہم مجموعی زرعی کارکردگی معیشت کو مطلوبہ رفتار فراہم نہ کر سکی۔
اسی طرح صنعتی شعبہ بھی 4.30 فیصد کے ہدف کے مقابلے میں 3.51 فیصد نمو تک محدود رہا۔ اگرچہ بڑی صنعتوں اور مینوفیکچرنگ کے بعض ذیلی شعبوں میں بہتری دیکھی گئی، لیکن توانائی کی بلند لاگت، مالیاتی دباؤ اور سرمایہ کاری میں سست روی نے صنعتی ترقی کی رفتار کو متاثر کیا۔ بجلی، گیس اور پانی کی فراہمی کے شعبے میں تو 3.5 فیصد ترقی کے ہدف کے برعکس تقریباً 10 فیصد تک گراوٹ ریکارڈ کی گئی، جو معیشت کے لیے ایک بڑا دھچکہ ثابت ہوئی۔
بیرونی شعبے میں بھی حکومت اپنے اہداف حاصل نہ کر سکی۔ اشیاء کی برآمدات کا ہدف 35.3 ارب ڈالر مقرر کیا گیا تھا، تاہم 11 ماہ کے دوران برآمدات صرف 28 ارب ڈالر تک پہنچ سکیں۔ دوسری جانب درآمدات 63 ارب ڈالر رہیں، جس کے باعث تجارتی خسارے کا دباؤ برقرار رہا۔ ماہرین کے مطابق برآمدات میں اضافے کے لیے پیداواری لاگت میں کمی، مسابقتی ماحول اور نئی منڈیوں تک رسائی ضروری ہے۔
فی کس آمدن کے حوالے سے بھی نتائج توقعات کے مطابق نہ رہے۔ حکومت نے روپے کی صورت میں فی کس آمدن کا ہدف 5 لاکھ 60 ہزار 803 روپے مقرر کیا تھا، لیکن حقیقی آمدن 5 لاکھ 33 ہزار 629 روپے رہی۔ تاہم ڈالر کے مقابلے میں روپے کی نسبتاً بہتر کارکردگی کی وجہ سے ڈالروں میں فی کس آمدن بڑھ کر 1901 ڈالر تک پہنچ گئی۔
اس کے باوجود اقتصادی سروے میں کئی مثبت پہلو بھی سامنے آئے۔ آئی ٹی اور ڈیجیٹل شعبے کے ذریعے جولائی سے مارچ تک 3 ارب 80 کروڑ ڈالر ملک میں آئے، جن میں پاکستانی فری لانسرز کا حصہ تقریباً 96 کروڑ ڈالر رہا۔ اسی طرح سمندر پار پاکستانیوں کی ترسیلاتِ زر میں 9 فیصد اضافہ ہوا اور ان کا حجم 38 ارب ڈالر تک پہنچ گیا، جو مالی سال کے اختتام تک 41 ارب ڈالر تک پہنچنے کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔
زرمبادلہ کے ذخائر میں بھی بہتری دیکھی گئی اور یہ 17.1 ارب ڈالر تک پہنچ گئے۔ روشن ڈیجیٹل اکاؤنٹس میں جمع شدہ رقوم 12.7 ارب ڈالر ریکارڈ کی گئیں۔ پاکستان سٹاک ایکسچینج میں سرمایہ کاروں کی تعداد میں اضافہ ہوا جبکہ 39 ہزار سے زائد نئی کمپنیوں کی رجسٹریشن کے بعد ملک میں رجسٹرڈ کمپنیوں کی مجموعی تعداد تقریباً تین لاکھ تک پہنچ گئی۔
معاشی ماہرین کے مطابق اگرچہ موجودہ حکومت نے معاشی استحکام کی جانب پیش رفت کی ہے، لیکن پائیدار ترقی کے لیے زرعی اصلاحات، برآمدات میں اضافہ، صنعتی توسیع، توانائی کے شعبے کی بہتری اور نجی سرمایہ کاری کے فروغ جیسے اقدامات ناگزیر ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ صرف مالیاتی نظم و ضبط کافی نہیں بلکہ روزگار کے مواقع پیدا کرنے اور پیداواری صلاحیت بڑھانے والی پالیسیوں کی بھی ضرورت ہے۔
اقتصادی سروے مجموعی طور پر ایک ایسی معیشت کی عکاسی کرتا ہے جو بحران سے نکلنے کی کوشش کر رہی ہے، لیکن اب بھی اپنے ترقیاتی اہداف تک پہنچنے کے لیے متعدد ساختی مسائل سے نبرد آزما ہے۔ یہی وجہ ہے کہ مثبت اشاریوں کے باوجود حکومت رواں برس بھی اپنے زیادہ تر اہم معاشی اہداف حاصل کرنے میں کامیاب نہ ہو سکی۔
