کیا پاکستانیوں کو اب اٹلی ویزا اپائنٹمنٹ مفت ملے گی؟

پاکستان میں اٹلی کے ویزا اپائنٹمنٹ بحران کے خاتمے کے لیے سفارت خانے نے نیا طریقہ کار متعارف کرا دیا ہے تاکہ ویٹنگ لسٹ سسٹم، سرکاری آن لائن پورٹل، بی ایل ایس سینٹرز کے ذریعے درخواستوں کی وصولی کے ذریعے ویزا اپائنٹمنٹ کے عمل کو شفاف بناتے ہوئے لاکھوں روپے میں فروخت ہونے والی سلاٹس کی بلیک مارکیٹ کا خاتمہ کیا جا سکے۔

پاکستان میں اٹلی کے ویزا کی اپائنٹمنٹ حاصل کرنا گزشتہ چند برسوں سے ہزاروں شہریوں کے لیے ایک بڑا مسئلہ بنا ہوا تھا۔ ورک پرمٹ، فیملی ری یونین، شینگن اور سٹوڈنٹ ویزا کے خواہش مند افراد اکثر شکایت کرتے رہے کہ سرکاری آن لائن سسٹم سے اپائنٹمنٹ حاصل کرنا تقریباً ناممکن ہو چکا ہے، جبکہ منظم ایجنٹ مافیا یہی اپائنٹمنٹس لاکھوں روپے میں فروخت کر رہا ہے۔ اب اٹلی کے سفارت خانے نے نئے قواعد جاری کرتے ہوئے اس نظام کو زیادہ شفاف اور منظم بنانے کی کوشش کی ہے۔

سفارت خانے کے مطابق اب شینگن، ورک اور فیملی ری یونین ویزا کی درخواستیں اور اپائنٹمنٹ صرف اسلام آباد، لاہور، ملتان اور فیصل آباد میں موجود بی ایل ایس ویزا سینٹرز کے ذریعے ہی جمع کرائی جا سکیں گی۔ درخواست گزاروں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ صرف سرکاری آن لائن پورٹل کے ذریعے رجسٹریشن کریں اور کسی غیر متعلقہ ویب سائٹ یا ایجنٹ پر انحصار نہ کریں۔

نئے نظام کی سب سے اہم تبدیلی ویٹنگ لسٹ سسٹم کا نفاذ ہے۔ سفارت خانے کے مطابق ورک اور فیملی ری یونین ویزا کی غیر معمولی تعداد کے باعث درخواست گزاروں کو پہلے ویٹنگ لسٹ میں شامل کیا جائے گا اور پھر رجسٹریشن کے مطابق باری آنے پر اپائنٹمنٹ جاری کی جائے گی۔ اس طریقہ کار کا مقصد اپائنٹمنٹ سسٹم میں شفافیت لانا اور خودکار سافٹ ویئرز یا بوٹس کے ذریعے سلاٹس پر قبضہ کرنے کی روایت ختم کرنا ہے۔

طلبہ کے لیے بھی نیا طریقہ کار متعارف کرایا گیا ہے۔ اٹلی میں اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے کے خواہش مند امیدواروں کو ویزا اپائنٹمنٹ لینے سے پہلے یونیورسٹیلی (Universitaly) پورٹل پر اپنی پری اینرولمنٹ مکمل کرنا ہوگی، جس کے بعد ہی ان کی ویزا درخواست پر کارروائی کی جائے گی۔

اسی طرح یورپی یونین یا اٹلی کے شہریوں کے اہلِ خانہ کے لیے فیملی ری یونین کے معاملات کو عام درخواست گزاروں سے الگ رکھا گیا ہے۔ ایسے افراد مخصوص طریقہ کار کے تحت سفارت خانے سے براہِ راست رابطہ کرکے اپائنٹمنٹ حاصل کر سکیں گے۔

اٹلی کے سفارت خانے نے واضح کیا ہے کہ ویزا اپائنٹمنٹ فروخت نہیں کی جا سکتی۔ اگر کوئی شخص یا ایجنٹ پیسوں کے عوض اپائنٹمنٹ فراہم کرنے کی پیشکش کرے تو اس کی فوری اطلاع سفارت خانے کو دی جائے۔ سفارت خانے کا کہنا ہے کہ وہ ایسے غیر قانونی نیٹ ورکس سے آگاہ ہے اور ان کے خلاف کارروائی کے لیے اقدامات کیے جا رہے ہیں۔

گزشتہ چند برسوں میں متعدد پاکستانی شہریوں نے شکایت کی کہ ورک پرمٹ کی محدود مدت ختم ہونے کے خدشے کے باعث وہ مجبوری میں ایجنٹوں کو لاکھوں روپے ادا کرتے رہے۔ بعض متاثرین کے مطابق بھاری رقوم ادا کرنے کے باوجود نہ اپائنٹمنٹ ملی اور نہ ہی پوری رقم واپس حاصل ہو سکی۔ایسے میں سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا نئے سسٹم کے نفاذ سے واقعی بحران ختم ہو جائے گا؟
امیگریشن ماہرین کا کہنا ہے کہ نئے ضوابط مثبت پیش رفت ضرور ہیں، تاہم ان کی کامیابی کا انحصار مؤثر عمل درآمد پر ہوگا۔ اگر ویٹنگ لسٹ سسٹم شفاف انداز میں چلایا گیا، آن لائن پورٹل کو جدید تکنیکی تحفظ فراہم کیا گیا اور بوٹس کے ذریعے اپائنٹمنٹ حاصل کرنے والوں کا راستہ روکا گیا تو غیر قانونی ایجنٹ مافیا کی سرگرمیاں کافی حد تک محدود ہو سکتی ہیں۔

 

امریکہ ایران امن مذاکرات کی بحالی میں اصل رکاوٹ کون ہے؟

دوسری جانب ماہرین کا یہ بھی کہنا ہے کہ صرف قواعد تبدیل کرنا کافی نہیں ہوگا۔ ویزا درخواستوں کی بڑھتی ہوئی تعداد کے پیش نظر سفارت خانے کو اپنے عملے اور پروسیسنگ کی صلاحیت میں بھی اضافہ کرنا ہوگا تاکہ درخواست گزاروں کو بروقت اپائنٹمنٹس اور ویزے فراہم کیے جا سکیں۔مختصراً، اٹلی کے سفارت خانے کے نئے اقدامات ویزا اپائنٹمنٹ سسٹم کو شفاف بنانے کی ایک اہم کوشش ہیں۔ اگر ان پر سختی سے عمل درآمد ہوا تو وہ وقت دور نہیں جب پاکستانی شہریوں کو اپائنٹمنٹ حاصل کرنے کے لیے لاکھوں روپے خرچ کرنے کے بجائے اپنی باری کا انتظار کرنا پڑے گا، اور ویزا کا عمل زیادہ منصفانہ اور قابلِ اعتماد بن سکے گا۔

Back to top button