امریکہ ایران امن مذاکرات کی بحالی میں اصل رکاوٹ کون ہے؟

ایران اور امریکا کے درمیان عارضی جنگ بندی کے باوجود اعتماد کا فقدان برقرار ہے۔ اگرچہ پاکستان، قطر، عمان اور چین کی ثالثی سے مذاکرات کی امید پیدا ہوئی ہے، لیکن جوہری پروگرام، آبنائے ہرمز اور علاقائی مفادات جیسے بنیادی اختلافات اب بھی دونوں ممالک کے درمیان مستقل امن کی راہ میں بڑی رکاوٹ ہیں۔
ایران اور امریکا کے درمیان حالیہ کشیدگی میں وقتی کمی کے بعد ایک بار پھر سفارتی سرگرمیاں تیز ہو گئی ہیں، تاہم سب سے بڑا سوال یہی ہے کہ کیا موجودہ جنگ بندی مستقل امن کی بنیاد بن سکے گی یا یہ صرف ایک عارضی وقفہ ثابت ہوگی۔ دونوں ممالک کے بیانات، ثالث ممالک کی سرگرمیاں اور خطے کی بدلتی صورتحال اس امر کی نشاندہی کر رہی ہے کہ جنگ کے سائے ابھی مکمل طور پر ختم نہیں ہوئے۔

ایران نے واضح کیا ہے کہ اس نے امریکا سے براہِ راست مذاکرات کی کوئی درخواست نہیں کی، تاہم یہ بھی حقیقت ہے کہ ثالث ممالک کے ذریعے رابطوں کا سلسلہ جاری ہے۔ پاکستان، قطر، عمان اور چین جیسے ممالک پس پردہ سفارتی کوششوں میں مصروف ہیں تاکہ دونوں فریق دوبارہ مذاکرات کی میز پر آ سکیں اور خطے کو ایک بڑی جنگ سے بچایا جا سکے۔

تجزیہ کاروں کے مطابق موجودہ صورتحال میں پاکستان کا کردار خاص اہمیت اختیار کر گیا ہے۔ اسلام آباد نہ صرف دونوں فریقوں کے ساتھ سفارتی روابط رکھتا ہے بلکہ ایک قابلِ اعتماد ثالث کے طور پر بھی دیکھا جا رہا ہے۔ اسی طرح قطر اور عمان بھی ماضی کی طرح رابطوں کے پل کا کردار ادا کر رہے ہیں، جبکہ چین، ایران کا اہم تجارتی شراکت دار ہونے کے باعث سفارتی عمل پر اثر انداز ہونے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

اگرچہ سفارتی کوششیں جاری ہیں، لیکن بنیادی اختلافات اپنی جگہ برقرار ہیں۔ ایران آبنائے ہرمز پر اپنے مؤقف اور جوہری پروگرام پر کسی بڑی رعایت کے لیے تیار دکھائی نہیں دیتا، جبکہ امریکا بھی اپنی سکیورٹی شرائط اور خطے میں اپنے مفادات سے پیچھے ہٹنے کے آثار نہیں دے رہا۔ یہی باہمی بداعتمادی مذاکراتی عمل کو سب سے بڑا چیلنج بنا رہی ہے۔

ماہرین کا خیال ہے کہ یہ تنازع صرف عسکری نہیں بلکہ اقتصادی اور تزویراتی مفادات کی جنگ بھی ہے۔ امریکی دباؤ اور فوجی کارروائیوں کا مقصد ایران کی صلاحیت محدود کرنا تھا، لیکن بعض تجزیہ کاروں کے مطابق ان حملوں نے ایرانی معاشرے میں داخلی اتحاد کو مزید مضبوط کیا ہے، جس سے تہران کے مؤقف کو اندرونِ ملک تقویت ملی ہے۔

ادھر امریکا کو بھی اندرونی سیاسی دباؤ کا سامنا ہے۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایک ایسے مرحلے پر ہیں جہاں وہ خارجہ پالیسی میں کامیابی کو اپنی سیاسی پوزیشن مضبوط کرنے کے لیے اہم سمجھتے ہیں، تاہم خطے میں طویل جنگ نہ صرف امریکی مفادات بلکہ اتحادی ممالک کے لیے بھی بڑے خطرات پیدا کر سکتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ واشنگٹن ایک طرف فوجی آپشن برقرار رکھے ہوئے ہے تو دوسری جانب سفارت کاری کے دروازے بھی بند نہیں کرنا چاہتا۔

خطے کے حالات اس بات کی بھی نشاندہی کرتے ہیں کہ اگرچہ ایران اور امریکا دونوں جنگی تیاری جاری رکھے ہوئے ہیں، لیکن وہ ایک ایسی براہِ راست اور طویل جنگ سے گریز کرنا چاہتے ہیں جس کے معاشی، سیاسی اور عسکری نتائج پورے مشرقِ وسطیٰ کو متاثر کر سکتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ثالثی کی کوششوں کو دونوں جانب سے مکمل طور پر مسترد بھی نہیں کیا جا رہا۔

 

اتحاد المجاہدین کا قیام پاکستانی ایجنسیز کے لیے نیا چیلنج

آنے والے دن اس تنازع کے لیے فیصلہ کن ثابت ہو سکتے ہیں۔ اگر ثالث ممالک کی سفارتی کوششیں کامیاب رہیں تو موجودہ جنگ بندی ایک وسیع تر مفاہمتی عمل کی بنیاد بن سکتی ہے، لیکن اگر بنیادی اختلافات برقرار رہے اور اعتماد بحال نہ ہو سکا تو خطہ دوبارہ شدید کشیدگی کی لپیٹ میں آ سکتا ہے۔

Back to top button