ایران امریکہ کشیدگی، صدر ٹرمپ کیا کرنے والے ہیں؟

مشرق وسطیٰ میں ایک بار پھر خطرے کی گھنٹیاں بجنے لگی ہیں، امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی نئی شدت اختیار کرتی دکھائی دے رہی ہے اور دنیا کی نظریں اس سوال پر مرکوز ہیں کہ واشنگٹن اب تہران کے خلاف کیا قدم اٹھانے والا ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ وہ ایران کے معاملے پر ایک ’’بڑا فیصلہ‘‘ کرنے کے مرحلے میں ہیں اور مستقبل قریب میں اہم واقعات رونما ہوسکتے ہیں، جبکہ ایران نے واضح انتباہ دیا ہے کہ اگر امریکا اور اس کے اتحادیوں نے نیا حملہ کیا تو جواب ’’دردناک‘‘ ہوگا۔ اس صورتحال نے خلیج، آبنائے ہرمز اور مشرقِ وسطیٰ کے اہم مقامات پر سکیورٹی خدشات کو مزید بڑھا دیا ہے۔
ٹرمپ نے فاکس نیوز کو دیے گئے انٹرویو میں ایران کے حوالے سے آنے والے فیصلے کو انتہائی اہم قرار دیا اور ایرانی قیادت کو محتاط رہنے کا پیغام دیا۔ اسی دوران انہوں نے کیمپ ڈیوڈ میں اپنی ہفتہ وار مصروفیات مختصر کرکے وائٹ ہاؤس واپسی کی، جبکہ خطے میں امریکی سفارتی مشنز نے سکیورٹی الرٹ بڑھا دیا ہے۔ امریکی حکام کی جانب سے بعض مقامات پر سرکاری اہلکاروں کی نقل و حرکت کے لیے بھی اضافی احتیاطی اقدامات کیے گئے ہیں۔
دوسری طرف ایران کے سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کے سیکریٹری محسن رضائی نے کہا ہے کہ تہران نے امریکا کے ساتھ مذاکرات دوبارہ شروع کرنے کے لیے سات شرائط پیش کی ہیں اور قطر کے ذریعے یہ شرائط واشنگٹن تک پہنچائی جاچکی ہیں۔ رضائی کے مطابق ایران کی نمایاں شرائط میں تمام محاذوں پر جنگ کا خاتمہ، منجمد ایرانی اثاثوں کی واپسی اور امریکی بحری ناکہ بندی کا خاتمہ شامل ہے۔ تاہم ایران نے ساتوں شرائط کی مکمل تفصیلات باضابطہ طور پر عوام کے سامنے نہیں رکھیں۔
ایرانی مؤقف میں سفارتی راستہ بھی موجود ہے اور سخت عسکری انتباہ بھی۔ محسن رضائی نے کہا ہے کہ اگر امریکا ان شرائط کو مسترد کرتا ہے تو ایران ایک فیصلہ کن جنگ کے لیے بھی تیار ہے۔ ان کے مطابق ایران نے اپنی عسکری منصوبہ بندی میں تبدیلی کی ہے اور امریکی بحری اثاثوں کو خلیج، خلیجِ عمان اور بحیرۂ عرب تک اپنی حکمت عملی میں اہم ہدف سمجھا جا رہا ہے۔ یہ بیانات ایرانی حکام کے مؤقف کی عکاسی کرتے ہیں، جن کی آزادانہ طور پر مکمل عسکری تصدیق ممکن نہیں۔
اس کے باوجود سفارتی رابطے مکمل طور پر ختم نہیں ہوئے۔ قطر نے تصدیق کی ہے کہ وہ تقریباً دو ہفتوں سے واشنگٹن اور تہران کے درمیان مذاکرات دوبارہ شروع کرانے کے لیے مختلف تجاویز پر کام کررہا ہے اور اس کے ثالث دونوں دارالحکومتوں کے درمیان رابطے میں ہیں۔ قطر کا کہنا ہے کہ اسے امریکی حکام کی جانب سے یہ یقین دہانی بھی ملی ہے کہ واشنگٹن کسی معاہدے تک پہنچنا چاہتا ہے۔ پاکستان بھی اس سفارتی عمل میں رابطہ کاری کا کردار ادا کررہا ہے۔
ادھر خطے میں سکیورٹی صورتحال بھی تشویش ناک ہے۔ سعودی عرب نے کہا ہے کہ حوثیوں کی جانب سے ریاض کو بیلسٹک میزائل سے نشانہ بنانے کی کوشش کی گئی جسے روک دیا گیا، جبکہ عراق کے کردستان میں اربیل ایئرپورٹ کے قریب دھماکوں کی اطلاعات بھی سامنے آئی ہیں۔ امریکی محکمہ خارجہ نے سعودی عرب اور حوثیوں کے درمیان لڑائی میں مزید شدت کے امکان سے خبردار کیا ہے۔ اس تمام صورتحال کے باعث خلیجی ممالک میں موجود امریکی سفارتی اور سرکاری تنصیبات کے لیے حفاظتی اقدامات بڑھائے گئے ہیں۔
آبنائے ہرمز کا بحران اس پوری صورتحال کو مزید حساس بنا رہا ہے، کیونکہ یہ عالمی توانائی اور سمندری تجارت کے لیے انتہائی اہم گزرگاہ ہے۔ قطر انرجی کے سربراہ سعد الکعبی نے بھی خبردار کیا ہے کہ ہرمز میں جاری بحران کے باعث کمپنی کے بعض ترقیاتی منصوبے متاثر یا تاخیر کا شکار ہوسکتے ہیں کیونکہ ضروری سامان قطر تک پہنچنے میں مشکلات پیش آرہی ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ کشیدگی صرف فوجی محاذ تک محدود نہیں بلکہ توانائی، تجارت، شپنگ اور عالمی معیشت پر بھی اثرات مرتب کررہی ہے۔
اب اصل سوال یہ ہے کہ ٹرمپ کا ’’بڑا فیصلہ‘‘ کیا ہوگا؟ کیا واشنگٹن دوبارہ بڑے پیمانے پر عسکری کارروائی کی طرف جائے گا، معاشی دباؤ بڑھائے گا یا مذاکرات کا راستہ اختیار کرے گا؟ دوسری طرف ایران نے مذاکرات کے لیے شرائط بھی پیش کردی ہیں اور کسی نئے حملے کی صورت میں سخت ردعمل کا عندیہ بھی دے دیا ہے۔ ایسے میں آنے والے دن خلیج کی سلامتی، آبنائے ہرمز کی صورتحال اور عالمی توانائی کی منڈی کے لیے غیر معمولی اہمیت اختیار کرگئے ہیں۔
