PTIنے لاشیں اٹھانے اور اسلام آباد کو سومنات بنانے کی دھمکی کیوں دی؟

27 ستمبر کے پی ٹی آئی احتجاج سے پہلے سیاسی درجہ حرارت اس وقت مزید بڑھ گیا جب تحریک انصاف خیبرپختونخوا کے صدر جنید اکبر کے ’’لاشیں اٹھائیں گے‘‘ اور ’’اسلام آباد کو سومنات بنا دیں گے‘‘ کے بیان نے سیاسی حلقوں اور سوشل میڈیا پر نئی بحث چھیڑ دی۔ جنید اکبر نے کارکنوں سے خطاب میں کہا کہ اس مرتبہ اگر احتجاج کے دوران ہلاکتیں ہوئیں تو وہ خاموش ہوکر واپس نہیں جائیں گے بلکہ نئے لوگ آگے آئیں گے۔ انہوں نے اسلام آباد پہنچنے کے لیے موٹروے، جی ٹی روڈ، مارگلہ کے پہاڑوں اور ڈیرہ اسماعیل خان سمیت متعدد راستوں کا ذکر بھی کیا۔ ان بیانات کو حکومت اور سیاسی مخالفین نے احتجاج میں ممکنہ تصادم کے تناظر میں لیا، جبکہ پی ٹی آئی رہنما نے بعد ازاں وضاحت کی کہ ’’سومنات‘‘ کا حوالہ اسلام آباد بار بار آنے کے عزم کے لیے استعمال کیا تھا۔
جنید اکبر نے اپنے وضاحتی بیان میں کہا کہ یہ ملک انہیں اپنی جان اور سیاست دونوں سے زیادہ عزیز ہے اور لوگوں سے اپیل کی کہ ان کی پوری تقریر سنی جائے۔ انہوں نے کہا کہ اگر ان کی گفتگو میں کوئی بات غلط محسوس ہو تو وہ اس پر معذرت کرنے کے لیے تیار ہیں۔ یوں ان کے ابتدائی بیان اور بعد کی وضاحت نے معاملے کو مزید سیاسی بحث کا موضوع بنا دیا ہے، جہاں ایک جانب ان کے اصل الفاظ زیر بحث ہیں اور دوسری جانب وہ ان الفاظ کی تشریح اپنے بیان کے مجموعی تناظر میں کررہے ہیں۔
وفاقی وزیر دفاع خواجہ آصف نے جنید اکبر کے بیان پر سخت ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ ’’نہ اسلام آباد سومنات ہے اور نہ یہ شخص محمود غزنوی‘‘۔ ان کے مطابق اسلام آباد پاکستان کا دارالحکومت، وفاق کی علامت اور اہم ریاستی مرکز ہے۔ خواجہ آصف نے یہ بھی سوال اٹھایا کہ خیبرپختونخوا میں جاری بدامنی اور سکیورٹی اہلکاروں کی ہلاکتوں کے پس منظر میں ایسی زبان کیوں استعمال کی جارہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ سیاسی اقتدار کے حصول کے لیے اس نوعیت کی زبان قابلِ اعتراض ہے۔
حکومت کی جانب سے صرف سیاسی ردعمل ہی سامنے نہیں آیا بلکہ 27 ستمبر کے احتجاج کے حوالے سے انتظامی اور سکیورٹی اقدامات بھی پہلے ہی تیز کیے جاچکے ہیں۔ اسلام آباد ہائیکورٹ کے تفصیلی فیصلے میں سیاسی احتجاج کے حق کے ساتھ یہ واضح کیا گیا ہے کہ احتجاج اس انداز میں نہیں ہونا چاہیے جس سے شہریوں کی نقل و حرکت، اسپتالوں، تعلیمی اداروں یا دیگر بنیادی سہولتوں تک رسائی متاثر ہو۔ عدالت نے سرکاری وسائل کو سیاسی مارچ کے لیے استعمال کرنے سے متعلق بھی پابندیاں واضح کی ہیں۔
دوسری طرف پی ٹی آئی کا مؤقف ہے کہ 27 ستمبر کا احتجاج اس کے سیاسی مطالبات کے لیے ہے اور پارٹی اسے سیاسی و آئینی جدوجہد کے طور پر پیش کررہی ہے۔ جنید اکبر کے بیان کے بعد سامنے آنے والی وضاحت بھی اسی تناظر میں اہم ہے، کیونکہ انہوں نے براہ راست کہا کہ پاکستان ان کے لیے انتہائی عزیز ہے اور ’’سومنات‘‘ کی مثال کو اپنے اسلام آباد جانے کے عزم سے جوڑا۔ تاہم ان کے ابتدائی خطاب کے الفاظ نے حکومت اور مخالف سیاسی حلقوں کو یہ سوال اٹھانے کا موقع دیا ہے کہ احتجاج کے دوران سیاسی قیادت کی زبان اور کارکنوں کو دیے جانے والے پیغامات کس حد تک کشیدگی کو بڑھا سکتے ہیں۔
یہ تنازع ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب حکومت اور پی ٹی آئی کے درمیان پہلے ہی 27 ستمبر کے مارچ، اسلام آباد میں داخلے، گرفتاریوں اور احتجاج کے طریقۂ کار پر شدید اختلاف موجود ہے۔ حالیہ دنوں میں پی ٹی آئی کے بعض رہنماؤں اور کارکنوں کے خلاف کارروائیاں بھی ہوئی ہیں، جبکہ حکومت کا کہنا ہے کہ قانون کی خلاف ورزی یا شہری زندگی میں خلل ڈالنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ دوسری طرف پی ٹی آئی قیادت اپنے احتجاج کو پُرامن قرار دیتی رہی ہے۔
جنید اکبر کے بیان نے اب 27 ستمبر کے احتجاج کے حوالے سے ایک بنیادی سوال مزید نمایاں کردیا ہے: کیا سیاسی اختلاف اور احتجاج سخت بیانات تک محدود رہیں گے یا زمینی سطح پر بھی کشیدگی بڑھے گی؟ اس کا جواب ابھی سامنے آنا باقی ہے۔ فی الحال واضح طور پر اتنا ضرور ہے کہ ’’لاشیں اٹھانے‘‘ اور ’’سومنات‘‘ جیسے الفاظ نے حکومت اور پی ٹی آئی کے درمیان پہلے سے موجود سیاسی تناؤ کو مزید نمایاں کردیا ہے، جبکہ دونوں جانب سے آنے والے بیانات اور عملی اقدامات پر اب پوری سیاسی توجہ مرکوز ہے۔
