27ستمبر،پی ٹی آئی نے کوئی گڑبڑ کی تو حکومتی ردعمل کیا ہو گا؟

27 ستمبر کا پی ٹی آئی لانگ مارچ اب محض ایک سیاسی احتجاج نہیں رہا بلکہ حکومت کی سخت تیاریوں، گرفتاریوں، عدالتی احکامات اور ممکنہ تصادم کے خدشات نے صورتحال کو انتہائی حساس بنا دیا ہے۔ سینئر تجزیہ کار نجم سیٹھی نے دعویٰ کیا ہے کہ اگر تحریک انصاف نے اسلام آباد داخل ہونے یا کسی قسم کی گڑ بڑ کی کوشش کی تو ریاست کی جانب سے سخت رویہ اختیار کیا جائے گا اور احتجاج میں سخت باتیں کرنے والے پی ٹی آئی رہنماؤں کے خلاف بھی کارروائی ہوسکتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت سمجھتی ہے کہ پی ٹی آئی کو سیاسی طور پر سمجھانے کی کوششیں کی جاچکی ہیں اور اب احتجاج روکنے کے لیے طاقت کا راستہ اختیار کرنے کی تیاری ہے۔
نجم سیٹھی نے دنیا نیوز کے پروگرام ’’آج کی بات سیٹھی کے ساتھ‘‘ میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ علیمہ خان کی گرفتاری میں وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کا کوئی کردار نہیں اور ان کے مطابق معاملات کسی اور سطح سے ہینڈل کیے جارہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر پی ٹی آئی دوبارہ لانگ مارچ کرتی ہے اور ریاستی اداروں کی جانب سے کریک ڈاؤن کیا جاتا ہے تو اس کے نتیجے میں پارٹی قیادت اور کارکن ایک طویل عرصے تک سیاسی طور پر خاموش بھی ہوسکتے ہیں۔ سیٹھی نے موجودہ صورتحال کو ماضی کے احتجاجوں سے جوڑتے ہوئے کہا کہ ریاست پہلے بھی پی ٹی آئی کے خلاف سخت رویہ اختیار کرچکی ہے اور آئندہ بھی ایسا ہوسکتا ہے۔
اسی دوران عملی طور پر پی ٹی آئی کے خلاف کارروائیوں کی اطلاعات سامنے آچکی ہیں۔ علیمہ خان کو لاہور میں 3 ایم پی او کے تحت حراست میں لے کر کوٹ لکھپت جیل منتقل کیا گیا ہے۔ لاہور کے ڈپٹی کمشنر کے حکم کے مطابق ان کی حراست 30 دن کے لیے کی گئی۔ پی ٹی آئی نے اس گرفتاری کی مذمت کرتے ہوئے اسے سیاسی دباؤ قرار دیا ہے، جبکہ بیرسٹر گوہر کا کہنا ہے کہ 27 ستمبر کا مارچ پُرامن اور سیاسی ہوگا اور پارٹی کسی تصادم یا تشدد کی خواہاں نہیں۔
اسلام آباد میں بھی پی ٹی آئی کارکنوں کے خلاف کارروائیوں کی اطلاعات ہیں۔ پولیس نے 27 ستمبر کے احتجاج کی تیاریوں کے سلسلے میں بعض کارکنوں کو مختلف مقدمات کے تحت گرفتار کیا ہے، جبکہ ساہیوال میں بھی پی ٹی آئی کے کارکنوں اور عہدیداروں کی گرفتاریوں اور ایم پی او کے تحت حراست کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔ اس صورتحال نے پی ٹی آئی کے اعلان کردہ مارچ سے قبل سیاسی کشیدگی کو مزید بڑھا دیا ہے۔
نجم سیٹھی نے پی ٹی آئی رہنما جنید اکبر کی حالیہ سخت تقریر کا حوالہ دیتے ہوئے دعویٰ کیا کہ سخت زبان استعمال کرنے والے دیگر رہنماؤں کے خلاف بھی کارروائی ہوسکتی ہے اور آنے والے دنوں میں مزید گرفتاریاں ممکن ہیں۔ انہوں نے وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی کی گرفتاری کا امکان بھی ظاہر کیا، تاہم یہ ایک تجزیاتی دعویٰ ہے، کسی گرفتاری کا سرکاری اعلان نہیں۔ سہیل آفریدی کی حکومت اور پی ٹی آئی قیادت 27 ستمبر کے مارچ کے حوالے سے اپنی حکمت عملی پر مشاورت جاری رکھے ہوئے ہے۔
دوسری طرف جنید اکبر کے بیان پر حکومتی حلقوں کی جانب سے تنقید بھی سامنے آئی ہے۔ ڈان کی رپورٹ کے مطابق جنید اکبر نے اپنے خطاب میں اسلام آباد کے احتجاج کے حوالے سے سخت زبان استعمال کی، جس پر حکومتی وزرا نے ردعمل دیا۔ یہ معاملہ اس وقت سامنے آیا ہے جب حکومت اور سکیورٹی ادارے 27 ستمبر کے احتجاج کے ممکنہ اثرات کے حوالے سے پہلے ہی انتظامات سخت کررہے ہیں۔
اس تمام صورتحال میں عمران خان سے ملاقات کا معاملہ بھی اہم بن گیا ہے۔ نجم سیٹھی کے مطابق اڈیالہ جیل میں عمران خان کے طبی معائنے کے بعد یہ سوال بھی موجود ہے کہ کیا ان سے کسی ممکنہ سیاسی رابطے یا حکمت عملی کے حوالے سے بات ہوئی ہے۔ تاہم ان کے مطابق اصل رکاوٹ یہ ہے کہ وکلا اور پارٹی رہنماؤں کی عمران خان سے ملاقات نہیں ہوپارہی، اس لیے یہ واضح نہیں کہ خود عمران خان 27 ستمبر کے مارچ اور موجودہ سیاسی حکمت عملی کے بارے میں کیا فیصلہ چاہتے ہیں۔
دوسری طرف پی ٹی آئی مسلسل یہ مؤقف اختیار کررہی ہے کہ اس کا احتجاج آئینی اور پُرامن ہے۔ بیرسٹر گوہر نے علیمہ خان کی گرفتاری کے بعد بھی کہا کہ پارٹی کسی قسم کا تصادم یا تشدد نہیں چاہتی اور اپنے آئینی و سیاسی مطالبات کے لیے پُرامن جدوجہد کرے گی۔ یوں ایک طرف حکومت ممکنہ بدامنی اور قانون کی خلاف ورزی کے خلاف سخت کارروائی کی تیاری کررہی ہے، جبکہ دوسری طرف پی ٹی آئی اپنے احتجاج کو سیاسی اور آئینی حق قرار دے رہی ہے۔
اب اصل سوال یہ ہے کہ 27 ستمبر تک سیاسی رابطوں سے کوئی راستہ نکلتا ہے یا نہیں۔ اگر مذاکرات یا سیاسی رابطہ کامیاب نہ ہوا تو گرفتاریوں، انتظامی پابندیوں اور احتجاجی تیاریوں کے باعث کشیدگی مزید بڑھ سکتی ہے۔ تاہم 27 ستمبر سے پہلے کسی حتمی تصادم یا بڑے کریک ڈاؤن کے بارے میں پیش گوئی کرنا قبل از وقت ہوگا۔ فی الحال اتنا واضح ہے کہ حکومت نے انتظامی اور سکیورٹی سطح پر تیاری تیز کردی ہے، جبکہ پی ٹی آئی اپنی احتجاجی کال پر قائم ہے اور دونوں جانب سے سخت بیانات کے باعث سیاسی درجہ حرارت مسلسل بڑھ رہا ہے۔
