پی ٹی آئی احتجاج، پنجاب کے سرکاری ملازمین پر بڑی پابندی لگ گئی

خیبرپختونخوا انتظامیہ کے بعد اب 27 ستمبر کے اسلام آباد مارچ سے قبل پنجاب حکومت نے بڑا انتظامی قدم اٹھاتے ہوئے سرکاری مشینری، وسائل اور اہلکاروں کے سیاسی اجتماعات میں استعمال پر مکمل پابندی عائد کردی ہے۔ حکومت نے واضح کیا ہے کہ اسلام آباد جانے والے کسی بھی مارچ، جلوس یا ریلی کے لیے صوبائی حکومت کے سرکاری فنڈز، گاڑیاں، مشینری، سرکاری وسائل یا اہلکار استعمال نہیں کیے جاسکیں گے، جبکہ کسی سرکاری ملازم یا افسر کو سیاسی اجتماع میں شرکت یا اس کی سہولت کاری کے لیے مجبور، ورغلایا یا دباؤ میں لانے کی بھی اجازت نہیں ہوگی۔ خلاف ورزی کی صورت میں متعلقہ افسر یا اہلکار کے خلاف فوری محکمانہ اور انضباطی کارروائی کی جائے گی۔
پنجاب حکومت کے سروسز اینڈ جنرل ایڈمنسٹریشن ڈیپارٹمنٹ کے امپلی منٹیشن اینڈ کوآرڈی نیشن ونگ نے 19 ستمبر کو تمام انتظامی سیکرٹریز، آئی جی پنجاب، ڈویژنل کمشنرز اور ڈپٹی کمشنرز کو مراسلہ جاری کیا ہے، جس میں اسلام آباد ہائیکورٹ کے 14 ستمبر کے فیصلے پر فوری اور مکمل عملدرآمد یقینی بنانے کی ہدایت کی گئی ہے۔ تمام محکموں کو یہ احکامات اپنے ماتحت دفاتر، منسلک اداروں اور فیلڈ فارمیشنز تک پہنچانے اور 23 ستمبر تک جامع تعمیلی رپورٹ جمع کرانے کا کہا گیا ہے۔
اسلام آباد ہائیکورٹ نے 27 ستمبر کے مجوزہ احتجاج سے متعلق اپنے تفصیلی فیصلے میں واضح کیا تھا کہ سیاسی جماعتوں اور شہریوں کو پُرامن اجتماع اور سیاسی اظہار کا حق حاصل ہے، تاہم یہ حق دوسرے شہریوں کے بنیادی حقوق متاثر کرنے کے انداز میں استعمال نہیں کیا جاسکتا۔ عدالت کے مطابق کسی سیاسی جماعت، رہنما یا صوبائی حکومت کو سڑکوں، شاہراہوں، انٹرچینجز یا دیگر عوامی مقامات پر اس انداز میں قبضہ کرنے کا قانونی اختیار نہیں جس سے شہریوں کی آزادانہ نقل و حرکت، کاروبار، تعلیمی اداروں، اسپتالوں یا دیگر بنیادی سہولتوں تک رسائی متاثر ہو۔
عدالت نے صوبائی حکومتوں کو یہ بھی ہدایت کی تھی کہ کسی مارچ یا ریلی کے لیے سرکاری فنڈز، سرکاری افسران، گاڑیاں، مشینری یا دیگر سرکاری سامان استعمال نہ کیا جائے اور کسی سرکاری ملازم کو ایسے احتجاج میں شرکت پر مجبور نہ کیا جائے۔ پنجاب حکومت کا تازہ مراسلہ اسی عدالتی حکم کو انتظامی سطح پر نافذ کرنے کی کڑی قرار دیا گیا ہے۔
حکومت نے سرکاری ملازمین کو مبینہ سیاسی دباؤ سے تحفظ دینے کے لیے شکایت کا طریقہ کار بھی مقرر کیا ہے۔ مراسلے کے مطابق اگر کسی سرکاری ملازم یا افسر پر کسی سیاسی رہنما یا عہدیدار کی جانب سے ریلی یا جلوس میں شرکت کے لیے دباؤ ڈالا جائے تو وہ پنجاب کے پروونشل انٹیلی جنس سیل سے رابطہ کرسکتا ہے۔ اس مقصد کے لیے 042-99210114 اور 042-99214494 ہیلپ لائن نمبرز جاری کیے گئے ہیں۔
یہ اقدام ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب 27 ستمبر کے احتجاج کے حوالے سے وفاق اور صوبوں کے درمیان انتظامی رابطے بھی بڑھ گئے ہیں۔ خیبر پختونخوا حکومت نے بھی اپنے افسران کو اسلام آباد مارچ میں سرکاری طور پر سہولت فراہم کرنے سے روک دیا ہے، جبکہ عدالت کے احکامات کے تحت تمام صوبائی حکومتوں کو سرکاری وسائل کے استعمال کی روک تھام یقینی بنانے کی ہدایت کی گئی ہے۔
اب 27 ستمبر کے احتجاج سے قبل اصل انتظامی چیلنج یہ ہے کہ ایک طرف سیاسی جماعت کے احتجاج اور پُرامن اجتماع کے حق کو برقرار رکھا جائے اور دوسری طرف سرکاری وسائل کے سیاسی استعمال، شہریوں کی نقل و حرکت میں رکاوٹ اور عوامی اداروں کی معمول کی سرگرمیوں میں خلل کو روکا جائے۔ پنجاب حکومت کے تازہ احکامات نے اس معاملے میں سرکاری افسران اور اہلکاروں کی ذمہ داریاں واضح کردی ہیں، جبکہ خلاف ورزی کی صورت میں محکمانہ کارروائی کا راستہ بھی کھول دیا گیا ہے۔
