پی ٹی آئی، جماعت اسلامی احتجاج، حکومت کیلئے اصل چیلنج کون؟

اسلام آباد ایک بار پھر سیاسی احتجاجوں کے دباؤ میں ہے، ایک طرف جماعت اسلامی پٹرولیم لیوی اور ایندھن کی بڑھتی قیمتوں کے خلاف اپنا احتجاج کررہی ہے اور دوسری طرف تحریک انصاف نے 27 ستمبر کو وفاقی دارالحکومت کی طرف مارچ کا اعلان کر رکھا ہے۔ بظاہر دونوں جماعتیں حکومت کے خلاف احتجاجی میدان میں موجود ہیں اور پی ٹی آئی نے جماعت اسلامی کے احتجاج کی حمایت کرتے ہوئے اسے اپنے 27 ستمبر کے مارچ میں شرکت کی دعوت بھی دی ہے، لیکن سکیورٹی حکام کے مطابق دونوں احتجاجی سرگرمیوں کے درمیان فی الحال کوئی عملی یا آپریشنل تعلق نہیں۔ حکام کی تشویش بنیادی طور پر پی ٹی آئی کے مارچ کے ممکنہ اثرات، ماضی کے احتجاجی ریکارڈ اور اسلام آباد میں شہری زندگی، نقل و حرکت اور امن و امان پر پڑنے والے ممکنہ دباؤ سے متعلق ہے۔
ایک سینئر سکیورٹی اہلکار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا ہے کہ جماعت اسلامی اور پی ٹی آئی کے احتجاج کو سکیورٹی ادارے ایک ہی نوعیت کی سرگرمی نہیں سمجھتے۔ ان کے مطابق جماعت اسلامی کے احتجاج سے متعلق سکیورٹی جائزہ نسبتاً مختلف ہے، جبکہ پی ٹی آئی کے 27 ستمبر کے مارچ کو ماضی کے احتجاجی واقعات اور ممکنہ شہری خلل کے تناظر میں زیادہ حساس سمجھا جارہا ہے۔ اہلکار کے مطابق حکام کی بنیادی ترجیح یہ ہے کہ کسی بھی احتجاج کے نتیجے میں شہریوں کی نقل و حرکت، کاروباری سرگرمیوں، ہسپتالوں اور روزمرہ زندگی کو مفلوج نہ ہونے دیا جائے۔
جماعت اسلامی نے پٹرولیم لیوی اور ایندھن کی قیمتوں کے خلاف احتجاج کا اعلان کیا ہے، جبکہ پی ٹی آئی کے 27 ستمبر کے مارچ کے مطالبات میں عمران خان کی رہائی، آئین کی بالادستی اور عدالتی احکامات پر عمل درآمد شامل ہیں۔ پی ٹی آئی کی قیادت مسلسل اپنے احتجاج کو پرامن اور آئینی قرار دے رہی ہے۔ بیرسٹر گوہر علی خان یہ بھی کہہ چکے ہیں کہ پارٹی احتجاج کے لیے سرکاری وسائل استعمال نہیں کرے گی اور اڈیالہ جیل میں زبردستی داخل ہونے کے کسی منصوبے کی تردید کرچکے ہیں۔
تاہم دونوں احتجاجوں کے درمیان سیاسی رابطے ضرور موجود ہیں۔ پی ٹی آئی نے جماعت اسلامی کے احتجاج کی حمایت کی ہے اور اس کی قیادت کو 27 ستمبر کے مارچ میں شرکت کی دعوت بھی دی ہے۔ لیکن سکیورٹی حکام کے مطابق اس سیاسی رابطے کو فی الحال کسی مشترکہ یا مربوط سکیورٹی آپریشن کے طور پر نہیں دیکھا جارہا۔ یعنی سیاسی سطح پر تعاون کی بات اپنی جگہ، لیکن انتظامی اور سکیورٹی جائزے میں دونوں احتجاج الگ الگ سرگرمیاں ہیں۔
اسلام آباد ہائی کورٹ کا حالیہ تفصیلی فیصلہ بھی اس پوری صورتحال میں اہم قانونی پس منظر فراہم کرتا ہے۔ عدالت نے قرار دیا ہے کہ کسی سیاسی جماعت یا رہنما کو ایسی صورت میں عوامی سڑکوں، شاہراہوں، انٹرچینجز یا دیگر مقامات پر قبضے کا قانونی حق نہیں جس سے شہریوں کی آزادانہ نقل و حرکت، کاروبار، تعلیمی اداروں یا طبی سہولیات تک رسائی متاثر ہو۔ عدالت نے صوبائی حکومتوں کو یہ بھی ہدایت کی ہے کہ احتجاج یا مارچ کے لیے سرکاری فنڈز، سرکاری گاڑیاں، مشینری یا دیگر ریاستی وسائل استعمال نہ کیے جائیں۔
عدالت نے یہ بھی واضح کیا کہ احتجاج کا حق اپنی جگہ آئینی حق ہے، لیکن اس حق کے استعمال سے دوسرے شہریوں کے بنیادی حقوق متاثر نہیں ہونے چاہئیں۔ تفصیلی فیصلے میں عدالت نے ماضی کے بعض احتجاجی واقعات کا بھی جائزہ لیا اور آئندہ کسی ایسی سرگرمی سے خبردار کیا جس سے شہریوں کی آزادانہ نقل و حرکت یا معمول کی زندگی متاثر ہو۔
ادھر حکومت بھی 27 ستمبر کے احتجاج کے حوالے سے سخت سکیورٹی انتظامات کررہی ہے۔ اسلام آباد کے داخلی و خارجی راستوں اور اہم مقامات پر کنٹینرز اور اضافی نفری تعینات کیے جانے کی اطلاعات ہیں، جبکہ حکام نے شہر کے سکیورٹی انتظامات کا جائزہ بھی لیا ہے۔
اس پوری صورتحال میں اصل سوال یہ نہیں کہ جماعت اسلامی اور پی ٹی آئی سیاسی طور پر ایک دوسرے کے قریب آتی ہیں یا نہیں، بلکہ یہ ہے کہ اگر دونوں جماعتوں کی احتجاجی سرگرمیاں ایک ہی عرصے میں اسلام آباد پر دباؤ بڑھاتی ہیں تو انتظامیہ شہری زندگی کو معمول پر رکھنے کے لیے کیا حکمت عملی اختیار کرتی ہے۔ سکیورٹی حکام کا موجودہ مؤقف واضح ہے کہ احتجاج کے آئینی حق کی مخالفت نہیں، لیکن قانون کی خلاف ورزی، شہریوں کی نقل و حرکت میں رکاوٹ اور معمول کی زندگی کو مفلوج کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
یوں 27 ستمبر کا پی ٹی آئی مارچ اب صرف ایک سیاسی سرگرمی نہیں بلکہ حکومت، اپوزیشن، سکیورٹی اداروں اور خود احتجاج کرنے والی جماعت کے لیے ایک اہم امتحان بن چکا ہے۔ پی ٹی آئی کے لیے چیلنج یہ ہوگا کہ وہ اپنے اعلان کے مطابق احتجاج کو پرامن اور آئینی حدود میں رکھے، جبکہ حکومت کے لیے امتحان یہ ہے کہ امن و امان برقرار رکھتے ہوئے شہریوں کے آئینی حقوق اور پرامن سیاسی احتجاج کے حق میں توازن کیسے قائم کیا جاتا ہے۔ آنے والے دنوں میں یہی طے کرے گا کہ اسلام آباد میں سیاسی اختلاف صرف احتجاج تک محدود رہتا ہے یا شہری زندگی ایک بار پھر سیاسی کشمکش کی لپیٹ میں آتی ہے۔
