پاکستان میں اچانک آن لائن عسکریت پسندی کیوں بڑھنے لگی؟

پاکستان میں عسکریت پسندی کا منظرنامہ تیزی سے تبدیل ہو رہا ہے اور دہشت گرد تنظیموں نے روایتی جنگی میدان کے ساتھ ساتھ ایک ایسا محاذ بھی کھول دیا ہے جو سرحدوں، شہروں اور جغرافیائی حدود کا پابند نہیں۔ یہ محاذ انٹرنیٹ، سوشل میڈیا اور ڈیجیٹل پلیٹ فارمز پر قائم ہوچکا ہے، جہاں شدت پسند گروہ نوجوانوں کی ذہن سازی، بھرتی، پروپیگنڈا، رابطہ کاری اور مالی معاونت کے لیے جدید ٹیکنالوجی استعمال کر رہے ہیں۔ اقوام متحدہ کے انسداد دہشت گردی کے ادارے کے مطابق دہشت گرد گروہ اب آن لائن پلیٹ فارمز، خفیہ پیغام رسانی اور دیگر ڈیجیٹل ذرائع کو پروپیگنڈا پھیلانے، حامی بنانے، فنڈز جمع کرنے اور اپنی سرگرمیوں کو مربوط کرنے کے لیے استعمال کرتے ہیں۔
پاکستان میں کالعدم دہشت گرد تنظیموں نے اپنے میڈیا اور پروپیگنڈا نیٹ ورکس کو بھی ڈیجیٹل دنیا کے مطابق ڈھال لیا ہے۔ سوشل میڈیا ان کے لیے محض پیغام پہنچانے کا ذریعہ نہیں بلکہ ایسے افراد تک رسائی کا راستہ بن گیا ہے جو ذہنی دباؤ، محرومی، شناخت کے بحران یا کسی حقیقی یا مصنوعی شکایت کے باعث شدت پسند بیانیے سے متاثر ہوسکتے ہیں۔ بند گروپس، خفیہ چینلز اور محدود رسائی والے آن لائن حلقے ایک ایسا فکری ماحول تشکیل دے سکتے ہیں جہاں ایک ہی قسم کے خیالات بار بار سامنے آتے ہیں، مخالف آوازیں غائب ہوجاتی ہیں اور تشدد کو مسائل کے حل کے طور پر پیش کیا جانے لگتا ہے۔
شدت پسند پروپیگنڈا عموماً کسی فرد یا گروہ کی حقیقی یا فرضی محرومی کو ایک بڑے مظلومیت کے بیانیے سے جوڑتا ہے۔ ویڈیوز، تصاویر، ترانے، تحریری مواد اور جذباتی پیغامات کے ذریعے یہ تاثر پیدا کیا جاتا ہے کہ ایک مخصوص گروہ مسلسل ظلم کا شکار ہے اور اس کے پاس پرامن راستوں کے بجائے طاقت کا استعمال ہی واحد حل رہ گیا ہے۔ اس طرح ’’ہم‘‘ اور ’’وہ‘‘ کی تقسیم پیدا کرکے نوجوانوں کو مرکزی معاشرے سے دور اور ایک مخصوص نظریاتی دائرے کے اندر دھکیلنے کی کوشش کی جاتی ہے۔
اس پورے عمل میں مصنوعی ذہانت نے شدت پسند تنظیموں کے لیے ایک نیا دروازہ کھول دیا ہے۔ اقوام متحدہ کی حالیہ تحقیق کے مطابق دہشت گرد اور پرتشدد انتہا پسند عناصر مصنوعی ذہانت اور الگورتھم پر مبنی نظاموں سے فائدہ اٹھا کر اپنے پیغامات کو زیادہ تیزی سے تیار، مختلف سامعین کے مطابق ڈھال اور متعدد زبانوں میں پھیلا سکتے ہیں۔ اے آئی سے تیار کردہ مواد، جعلی یا گمراہ کن معلومات اور مصنوعی طور پر بڑھائی گئی آن لائن رسائی نے شدت پسند پروپیگنڈا روکنے کے عمل کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔
پاکستان کے تناظر میں یہ خطرہ اس لیے بھی اہم ہے کہ مختلف لسانی اور علاقائی گروہوں تک ایک ہی پیغام کو الگ الگ انداز میں پہنچانا اب پہلے کے مقابلے میں کہیں آسان ہوگیا ہے۔ ایک شدت پسند بیانیہ اردو، پشتو، پنجابی، سندھی یا دیگر علاقائی زبانوں میں تیزی سے منتقل کیا جاسکتا ہے۔ اس طرح وہ لسانی رکاوٹیں کم ہوسکتی ہیں جو ماضی میں کسی تنظیم کے پروپیگنڈا کو مخصوص علاقوں یا کمیونٹیز تک محدود رکھتی تھیں۔ پاکستان میں ٹی ٹی پی کے آن لائن پروپیگنڈا کے حوالے سے پہلے بھی مختلف زبانوں میں مواد کی تیاری اور ٹیلی گرام جیسے پلیٹ فارمز کے استعمال کی نشاندہی کی جا چکی ہے۔
ڈیجیٹل محاذ کا ایک اور اہم پہلو دہشت گردی کی مالی معاونت ہے۔ روایتی طور پر دہشت گرد تنظیمیں اغوا برائے تاوان، بھتہ خوری، اسمگلنگ، ڈکیتی اور دیگر غیر قانونی سرگرمیوں سے مالی وسائل حاصل کرتی رہی ہیں، لیکن ڈیجیٹل معیشت نے مالی معاونت کے مزید راستے پیدا کیے ہیں۔ اقوام متحدہ کے مطابق ڈیجیٹل اثاثے اور خفیہ آن لائن ذرائع دہشت گرد نیٹ ورکس کے لیے مالی معاونت کے نئے امکانات پیدا کر رہے ہیں۔
داعش خراسان کے حوالے سے مختلف تحقیقی رپورٹس میں کرپٹو کرنسی کے ذریعے عطیات حاصل کرنے کی کوششوں کا ذکر بھی سامنے آچکا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ اب صرف بینک اکاؤنٹس، سرحدی نقل و حرکت یا روایتی مالیاتی نظام کی نگرانی تک محدود نہیں رہ سکتی۔ ڈیجیٹل اثاثوں، آن لائن عطیات اور مختلف ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کے ذریعے ہونے والی مالی سرگرمیوں کی نگرانی بھی اس حکمت عملی کا حصہ بن رہی ہے۔
اصل مسئلہ یہ ہے کہ دہشت گرد گروہوں کے لیے پروپیگنڈا اب محض اپنے حملوں کی ذمہ داری قبول کرنے یا اپنی موجودگی ظاہر کرنے کا ذریعہ نہیں رہا۔ اقوام متحدہ کی انسداد دہشت گردی کمیٹی کی ستمبر 2026 کی رپورٹ کے مطابق دہشت گرد پروپیگنڈا اب بھرتی، شدت پسندی کی طرف مائل کرنے، مالی معاونت اور بعض صورتوں میں آپریشنل سرگرمیوں کے لیے بنیادی ڈھانچے کی حیثیت اختیار کرتا جا رہا ہے۔ دہشت گرد تنظیمیں اپنے مواد کو زیادہ تقسیم شدہ، تیز رفتار اور ٹیکنالوجی سے ہم آہنگ بناتی جا رہی ہیں۔
اسی لیے پاکستان کے لیے دہشت گردی کے خلاف حکمت عملی میں صرف جسمانی کارروائیاں کافی نہیں ہوں گی۔ ڈیجیٹل محاذ پر بھی ایک جامع حکمت عملی درکار ہے جس میں شدت پسند مواد کی بروقت نشاندہی، دہشت گردوں کی آن لائن بھرتی کی روک تھام، مالیاتی نیٹ ورکس کی نگرانی، پلیٹ فارم کمپنیوں کے ساتھ تعاون، ڈیجیٹل فرانزک صلاحیتوں میں اضافہ اور عوام میں میڈیا و ڈیجیٹل خواندگی کو فروغ دینا شامل ہو۔
خاص طور پر نوجوان نسل کو یہ سمجھانا ضروری ہے کہ سوشل میڈیا پر بار بار دکھائی دینے والا کوئی جذباتی یا اشتعال انگیز مواد لازماً حقیقت کی مکمل تصویر نہیں ہوتا۔ تنقیدی سوچ، معلومات کے ذرائع کی جانچ اور جذباتی ردعمل سے پہلے حقائق کی تصدیق شدت پسند پروپیگنڈا کے خلاف ایک اہم حفاظتی دیوار بن سکتی ہے۔ اقوام متحدہ بھی آن لائن شدت پسندی کے تدارک کے لیے ڈیجیٹل خواندگی، انسانی حقوق کے تحفظ اور شفاف و ذمہ دار ٹیکنالوجی گورننس کو اہم قرار دیتا ہے۔
چیلنج یہ بھی ہے کہ شدت پسندی کے خلاف کارروائی کرتے ہوئے آزادی اظہار، رازداری اور دیگر بنیادی حقوق کے تحفظ کو نظرانداز نہ کیا جائے۔ اقوام متحدہ کے مطابق ٹیکنالوجی خود مسئلہ نہیں؛ اصل خطرہ اس کے غلط استعمال کا ہے، اور مؤثر انسدادِ شدت پسندی کی پالیسی ایسی ہونی چاہیے جو دہشت گردی کے خطرے سے نمٹنے کے ساتھ بنیادی انسانی حقوق اور شفاف نگرانی کے اصولوں کو بھی برقرار رکھے۔
یوں پاکستان میں دہشت گردی کے خلاف اگلا بڑا معرکہ صرف پہاڑوں، سرحدی علاقوں یا شہری سڑکوں پر نہیں بلکہ موبائل فون کی اسکرین، سوشل میڈیا کے الگورتھم، خفیہ آن لائن گروپس اور ڈیجیٹل مالیاتی نظام میں بھی لڑا جا رہا ہے۔ اگر شدت پسند تنظیمیں ٹیکنالوجی کے ذریعے اپنی رسائی، رفتار اور اثر بڑھا رہی ہیں تو ریاست، تعلیمی اداروں، میڈیا، ٹیکنالوجی کمپنیوں اور سول سوسائٹی کو بھی اسی رفتار سے اپنی دفاعی اور انسدادی صلاحیت بڑھانا ہوگی۔ کیونکہ آج کے ڈیجیٹل دور میں کسی دہشت گرد تنظیم کی سب سے بڑی کامیابی صرف حملہ کرنا نہیں بلکہ کسی نوجوان کے ذہن میں تشدد کو قابل قبول بنا دینا بھی ہوسکتی ہے۔
