پاکستانی شہریت بارے مقدمات کا فیصلہ کون کرے گا؟ بڑا عدالتی حکم آ گیا

لاہور ہائیکورٹ نے مشکوک شہریت اور قومی شناختی کارڈ سے متعلق مقدمات پر اہم فیصلہ سناتے ہوئے قرار دیا ہے کہ ایسے معاملات میں براہِ راست سول عدالتوں سے رجوع نہیں کیا جا سکتا۔ عدالت نے نادرا ویری فکیشن بورڈ اور پاکستان شہریت ایکٹ 1951 کے تحت موجود قانونی فورمز سے پہلے رجوع کرنا لازمی قرار دیتے ہوئے اس فیصلے کو آئندہ کے لیے اہم عدالتی نظیر بھی قرار دیا۔
لاہور ہائیکورٹ نے قومی شناختی کارڈ اور مشکوک شہریت سے متعلق مقدمات پر ایک اہم اور نظیر بننے والا فیصلہ جاری کرتے ہوئے واضح کر دیا ہے کہ ایسے معاملات میں شہری براہِ راست سول عدالتوں یا آئینی درخواستوں کے ذریعے رجوع نہیں کر سکیں گے۔ عدالت نے قرار دیا کہ شہریت سے متعلق تنازعات کے حل کے لیے پہلے قانون میں موجود متعلقہ فورمز سے رجوع کرنا لازمی ہوگا۔

لاہور ہائیکورٹ نے یہ فیصلہ جسٹس محسن اختر کیانی نے نادرا کی جانب سے دائر سول نظرثانی درخواست پر جاری کیا، جس میں سینئر سول جج سیالکوٹ اور ایڈیشنل ڈسٹرکٹ جج سیالکوٹ کے سابقہ فیصلوں کو کالعدم قرار دیتے ہوئے نادرا کی درخواست منظور کر لی گئی۔ عدالت نے اپنے 14 صفحات پر مشتمل تفصیلی فیصلے میں اس قانونی اصول کو آئندہ کے لیے عدالتی نظیر بھی قرار دیا۔

عدالت نے اپنے فیصلے میں واضح کیا کہ اگر کسی شخص کی پاکستانی شہریت مشکوک قرار دی جاتی ہے تو اسے سب سے پہلے نادرا ویری فکیشن بورڈ سے رجوع کرنا ہوگا۔ اگر وہاں بھی شہریت ثابت نہ ہو سکے تو متعلقہ فرد کو پاکستان شہریت ایکٹ 1951 کے تحت وفاقی حکومت سے شہریت کا سرٹیفکیٹ حاصل کرنے کے لیے قانونی کارروائی کرنا ہوگی۔ ان قانونی مراحل کو مکمل کیے بغیر سول عدالتیں ایسے مقدمات کی سماعت نہیں کر سکیں گی۔

فیصلے میں شہریت ثابت کرنے کے لیے درکار شواہد کی بھی وضاحت کی گئی ہے۔ عدالت کے مطابق دعویدار کو اپنے والد یا دادا کی 1979 سے قبل پاکستان میں رہائش کے مستند ثبوت پیش کرنا ہوں گے۔ ان ثبوتوں میں 1979 سے پہلے کے تعلیمی اسناد، ڈومیسائل، پاسپورٹ یا دیگر سرکاری ریکارڈ کو بنیادی شہادت تصور کیا جائے گا۔

لاہور ہائیکورٹ نے زیرِ سماعت مقدمات کے لیے بھی واضح ہدایات جاری کیں۔ عدالت نے حکم دیا کہ جن مقدمات میں قانونی تقاضے پورے نہیں کیے گئے، ان میں متعلقہ فریقین کو 30 روز کے اندر ضروری دستاویزات جمع کرانے کی مہلت دی جائے۔ اگر مقررہ مدت میں مطلوبہ دستاویزات پیش نہ کی گئیں تو ایسے دعوے خارج کیے جا سکتے ہیں۔ یہ ہدایت ملک بھر کی مختلف عدالتوں میں زیرِ التوا اسی نوعیت کے مقدمات پر بھی لاگو ہوگی۔

عدالت نے نادرا کو بھی پابند بنایا کہ ویری فکیشن بورڈ شہریوں کی درخواستوں پر 60 روز کے اندر فیصلہ کرے تاکہ شناخت اور شہریت سے متعلق معاملات غیر ضروری تاخیر کا شکار نہ ہوں۔ ساتھ ہی وفاقی حکومت کو سفارش کی گئی کہ نادرا آرڈیننس میں مناسب ترامیم کرتے ہوئے شہریت سے متعلق مقدمات کے لیے خصوصی دائرۂ اختیار کی واضح قانونی شق شامل کی جائے۔

 

امریکہ ایران جنگ بندی کی اصل وجہ کیا؟ حقائق سامنےآ گئے

قانونی ماہرین کے مطابق یہ فیصلہ مستقبل میں شہریت اور قومی شناختی کارڈ سے متعلق مقدمات کے لیے ایک اہم نظیر ثابت ہوگا۔ اس کے ذریعے نہ صرف قانونی طریقہ کار واضح ہو گیا ہے بلکہ عدالتوں پر مقدمات کا غیر ضروری بوجھ بھی کم ہونے کی توقع ہے، جبکہ شہریوں کو بھی یہ رہنمائی مل گئی ہے کہ شہریت کے تنازعات میں سب سے پہلے کس قانونی فورم سے رجوع کرنا ضروری ہے۔

Back to top button