امریکہ ایران جنگ بندی کی اصل وجہ کیا؟ حقائق سامنےآ گئے

واشنگٹن اور تہران کے درمیان کشیدگی وقتی طور پر کم ضرور ہوئی ہے، مگر خطرہ ابھی ٹلا نہیں۔ امریکی میڈیا اسلحے کی قلت کو حملے رکنے کی وجہ قرار دے رہا ہے، جبکہ صدر ٹرمپ اس دعوے کو مسترد کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ امریکا کے پاس وافر اسلحہ موجود ہے اور مذاکرات کو آخری موقع دیا جا رہا ہے۔ دوسری جانب ایران بھی سخت مؤقف پر قائم ہے، جس سے خطے کا مستقبل بدستور غیر یقینی دکھائی دیتا ہے۔
امریکا اور ایران کے درمیان کئی روز سے جاری شدید کشیدگی نے ایک ایسے مرحلے میں داخل ہو گئی ہے جہاں میدانِ جنگ اور سفارت کاری بیک وقت متحرک دکھائی دے رہے ہیں۔ امریکی فضائی حملوں میں اچانک وقفہ، ایران کی جانب سے جوابی کارروائیوں کا رک جانا، اور دونوں ممالک کے متضاد بیانات نے عالمی برادری کو یہ سوچنے پر مجبور کر دیا ہے کہ آیا جنگ واقعی ٹل رہی ہے یا صرف وقتی طور پر مؤخر ہوئی ہے۔

امریکی میڈیا کی مختلف رپورٹس میں دعویٰ کیا گیا کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے خلاف مزید بڑے فوجی حملے اس لیے روک دیے کیونکہ امریکی فوج کے بعض اہم دفاعی ہتھیار، خصوصاً پیٹریاٹ میزائلوں اور دیگر گولہ بارود کے ذخائر پر دباؤ بڑھ رہا تھا۔ اطلاعات کے مطابق امریکی فوجی قیادت نے وائٹ ہاؤس کو آگاہ کیا کہ اگر اسی رفتار سے کارروائیاں جاری رہیں تو مستقبل میں امریکا کی دفاعی صلاحیت متاثر ہو سکتی ہے۔

تاہم واشنگٹن نے ان اطلاعات کو سختی سے مسترد کر دیا۔ اقوام متحدہ میں امریکی مندوب اور بعد ازاں خود صدر ٹرمپ نے واضح کیا کہ امریکا کے پاس اسلحے اور گولہ بارود کی کوئی کمی نہیں بلکہ دنیا کی سب سے طاقتور فوج ہر ممکن کارروائی کے لیے مکمل طور پر تیار ہے۔ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ حملوں میں وقفے کا مقصد ایران کو مذاکرات کا ایک محدود موقع فراہم کرنا ہے، لیکن اگر سفارتی کوششیں ناکام ہوئیں تو فوجی آپشن پوری شدت کے ساتھ میز پر موجود رہے گا۔

دوسری جانب ایران نے بھی اپنے مؤقف میں سختی برقرار رکھی ہے۔ تہران نے واضح کیا ہے کہ اس نے امریکا سے براہِ راست مذاکرات کی کوئی درخواست نہیں کی، البتہ عمان سمیت مختلف ثالث ممالک کے ذریعے پیغامات کا تبادلہ جاری ہے۔ ایرانی حکام نے خبردار کیا ہے کہ اگر امریکا نے دوبارہ حملے شروع کیے تو جنگ صرف ایران تک محدود نہیں رہے گی بلکہ پورا خطہ اس کی لپیٹ میں آ سکتا ہے۔

خطے میں کشیدگی صرف امریکا اور ایران تک محدود نہیں رہی۔ آبنائے ہرمز اور باب المندب جیسے اہم بحری راستوں پر صورتحال انتہائی حساس ہو چکی ہے۔ بعض بحری جہازوں کا رخ تبدیل کیا گیا جبکہ حوثی باغیوں نے سعودی عرب کی تیل تنصیبات پر ڈرون حملوں کا دعویٰ کیا۔ سعودی عرب نے متعدد ڈرون مار گرانے کا اعلان کرتے ہوئے واضح کیا کہ مملکت اپنے دفاع کا مکمل حق محفوظ رکھتی ہے۔

ادھر اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو بھی امریکا پہنچ گئے ہیں جہاں ایران کا معاملہ ان کی صدر ٹرمپ سے ملاقات کا مرکزی موضوع ہوگا۔ اسرائیل پہلے ہی ایران کے بڑھتے ہوئے علاقائی اثر و رسوخ کو اپنی قومی سلامتی کے لیے بڑا خطرہ قرار دے چکا ہے، جس کے باعث آئندہ چند روز کی سفارتی ملاقاتیں غیر معمولی اہمیت اختیار کر گئی ہیں۔

اس دوران عالمی طاقتیں بھی سرگرم ہیں۔ قطر، مصر، عمان اور دیگر علاقائی ممالک کشیدگی کم کرنے کی کوششوں میں مصروف ہیں، جبکہ روس اور ایران کے درمیان بھی مسلسل رابطے جاری ہیں۔ پوپ لیو چہار دہم سمیت عالمی مذہبی اور سیاسی شخصیات نے بھی تمام فریقوں پر زور دیا ہے کہ وہ طاقت کے استعمال کے بجائے مذاکرات اور سفارت کاری کو ترجیح دیں۔

سیاسی اور عسکری ماہرین کے مطابق موجودہ صورتحال اس امر کی غمازی کرتی ہے کہ اگرچہ دونوں ممالک کھلی جنگ سے گریز کرنا چاہتے ہیں، لیکن اعتماد کا فقدان اور سخت بیانات کسی بھی وقت حالات کو دوبارہ سنگین رخ دے سکتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ دنیا بھر کی نظریں اب جاری سفارتی کوششوں پر مرکوز ہیں، کیونکہ یہی مذاکرات مشرقِ وسطیٰ میں امن یا ایک نئی بڑی جنگ کے درمیان فیصلہ کن کردار ادا کر سکتے ہیں۔

 

کیا پاکستانی اب مفت دبئی جا کر مزے کر سکتے ہیں؟

مختصراً، امریکی میڈیا کی رپورٹس، ٹرمپ کی تردید، ایران کے سخت مؤقف اور ثالثی کی جاری کوششیں یہ ظاہر کرتی ہیں کہ خطہ ایک نازک موڑ پر کھڑا ہے۔ فی الحال توپیں خاموش ضرور ہیں، لیکن اگر سفارت کاری ناکام ہوئی تو صورتحال دوبارہ کسی بھی وقت خطرناک رخ اختیار کر سکتی ہے۔

Back to top button