اتحاد المجاہدین کا قیام پاکستانی ایجنسیز کے لیے نیا چیلنج

پاکستان میں موجود تین شدت پسند گروہوں، لشکرِ اسلام، حافظ گل بہادر گروپ اور انقلابِ اسلامی پاکستان، کی جانب سے آپس میں ہاتھ ملا کر اتحاد المجاہدین پاکستان کے نام سے نئی تنظیم کے قیام نے سکیورٹی اداروں کے لیے ایک نیا اور پیچیدہ چیلنج کھڑا کر دیا ہے۔ یہ تنظیم سکیورٹی منظرنامے میں ایک فعال عسکریت پسند گروہ کے طور پر سامنے آئی ہے۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اس جہادی تنظیم کے جدید حربے، پراپیگنڈا مہم اور بین الاقوامی روابط اسے دیگر شدت پسند تنظیموں سے مختلف بناتے ہیں۔ اکتوبر 2025 میں وجود میں آنے والی اس تنظیم کار دائرہ کار ہر گزرتے دن کے ساتھ پھیلتا چلا جا رہا ہے۔ اس تنظیم کی جانب سے جاری ہونے والے پیغامات میں زیادہ تر پولیس کو دھمکیاں دینے، شدت پسندوں کی عسکری تربیت، سنائپر مشقوں اور ڈرونز کے استعمال کی ویڈیوز شامل ہیں۔ تنظیم نے اپنی تشہیر میں روایتی خودکش حملوں کے بجائے جدید عسکری مہارت اور ٹیکنالوجی کے استعمال کو زیادہ نمایاں کیا ہے، جسے ماہرین ایک نئی حکمت عملی قرار دے رہے ہیں۔

اگرچہ اتحاد المجاہدین پاکستان کی سرگرمیوں کا بنیادی مرکز پاکستان ہی رہا ہے، تاہم اس کے کئی بیانات اور ویڈیوز میں عالمی جہادی نظریات کی جھلک بھی دکھائی دیتی ہے۔ مبصرین کے مطابق اس سے یہ تاثر ملتا ہے کہ تنظیم صرف مقامی سطح تک محدود رہنے کے بجائے اپنے نظریاتی دائرہ کار کو بین الاقوامی جہادی بیانیے سے جوڑنے کی کوشش کر رہی ہے۔ اسی تناظر میں القاعدہ برصغیر کے پراپیگنڈا مواد میں بھی اتحاد المجاہدین پاکستان کو دیگر اتحادی گروہوں کے ساتھ شامل کیا گیا ہے۔

اگرچہ القاعدہ اور آئی ایم پی میں باضابطہ تعلق کی تصدیق کسی بھی جانب سے نہیں کی گئی، تاہم دونوں کے درمیان نظریاتی ہم آہنگی اور ایک دوسرے کے مواد کی تشہیر کو ماہرین اہم پیش رفت قرار دیتے ہیں۔ سال 2026 کے دوران تنظیم کی جانب سے کئی خوفناک خودکش حملوں کی ذمہ داری قبول کرنے کے دعوؤں میں نسبتاً کمی دیکھنے میں آئی ہے، تاہم اسی عرصے میں اس نے سنائپر اور ڈرون حملوں کو اپنی نئی عسکری حکمت عملی کے طور پر نمایاں انداز میں پیش کرنا شروع کیا۔ تنظیم کے پراپیگنڈا پلیٹ فارمز پر مسلسل ایسی ویڈیوز اور تصاویر جاری کی جاتی رہیں جن میں جدید ہتھیاروں اور ٹیکنالوجی کے استعمال کو اجاگر کیا گیا۔

اس جہادی تنظیم نے مارچ 2026 سے جون 2026 کے درمیان اپنے مختلف میڈیا اکاؤنٹس کے ذریعے کم از کم 18 بم دھماکوں کی ذمہ داری قبول کی یے۔

23 جون 2026 کو عید الاضحیٰ کے موقع پر اتحاد المجاہدین پاکستان اور اس کی مرکزی تنظیم انقلابِ اسلامی پاکستان نے مشترکہ طور پر ایک ویڈیو جاری کی جس میں تنظیم کے سرحدوں سے ماورا عزائم کو نمایاں کیا گیا۔ ویڈیو میں شدت پسندوں کو پشتو زبان میں ایک نظم گاتے ہوئے دکھایا گیا جس میں اندلس، یعنی موجودہ سپین، تک پہنچنے جیسے عالمی جہادی اہداف کا ذکر کیا گیا تھا۔
اسی ویڈیو میں بظاہر غیرملکی جنگجوؤں کو بھی اتحاد المجاہدین پاکستان اور انقلابِ اسلامی پاکستان میں شامل ہونے کی دعوت دی گئی، جسے سکیورٹی ماہرین تنظیم کی بین الاقوامی بھرتی مہم کی ابتدائی کوشش قرار دیتے ہیں۔

مبصرین کے مطابق اس قسم کے پیغامات مستقبل میں غیرملکی شدت پسند عناصر کو متوجہ کرنے کی کوشش بھی ہو سکتے ہیں۔ حالیہ مہینوں کے دوران القاعدہ برصغیر کے رسالوں میں شائع ہونے والے انفارمیشن گرافکس میں بھی اتحاد المجاہدین پاکستان کے حملوں کو شامل کیا گیا ہے۔ اسی طرح ’’ابتال میڈیا‘‘ نامی ٹیلیگرام چینل پر القاعدہ، القاعدہ برصغیر، اتحاد المجاہدین پاکستان اور انقلابِ اسلامی پاکستان کا مواد ایک ساتھ نشر کیا جا رہا ہے، جس سے دونوں کے درمیان نظریاتی قربت کا تاثر مزید مضبوط ہوا ہے، اگرچہ اس تعلق کی سرکاری سطح پر کوئی تصدیق موجود نہیں۔ پاکستان کے اندر اثر و رسوخ کے حوالے سے اتحاد المجاہدین پاکستان کا سب سے بڑا مقابلہ کالعدم تحریک طالبان پاکستان سے سمجھا جا رہا ہے۔ دونوں تنظیمیں خصوصاً خیبر پختونخوا کے قبائلی اضلاع میں اپنی موجودگی بڑھانے کی کوشش کر رہی ہیں۔ مئی 2026 میں بنوں میں ہونے والے ایک حملے کی ذمہ داری ٹی ٹی پی اور آئی ایم پی دونوں نے الگ الگ قبول کی، جس نے دونوں تنظیموں کے درمیان تعلقات اور ممکنہ تعاون پر نئے سوالات کھڑے کر دیے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق آئی ایم پی نے اپنی الگ شناخت بنانے کے لیے روایتی قبائلی جنگی انداز کے بجائے جدید ٹیکنالوجی پر مبنی حکمت عملی اپنائی ہے۔ تنظیم اپنی ویڈیوز میں فوجی طرز کی یونیفارم، سنائپر رائفلوں، ڈرونز اور جدید عسکری مہارت کو نمایاں کرتی ہے، جبکہ ٹی ٹی پی اب بھی نسبتاً روایتی انداز اور مقامی جنگی حکمت عملی پر انحصار کرتی دکھائی دیتی ہے۔

اگرچہ بعض حملوں میں دونوں تنظیموں کے درمیان تعاون کے شواہد بھی سامنے آئے ہیں، تاہم آئی ایم پی اپنی تشہیر میں اکثر ’’برادر‘‘ شدت پسند گروہوں کے ساتھ مشترکہ کارروائیوں کا ذکر کرتی ہے، جبکہ ٹی ٹی پی عموماً ایسے معاملات پر خاموش رہتی ہے۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ دونوں کے درمیان مقابلے کے ساتھ ساتھ محدود نوعیت کا عملی تعاون بھی موجود ہو سکتا ہے۔ شدت پسند گروہوں پر تحقیق کرنے والوں کے مطابق اتحاد المجاہدین پاکستان دراصل پاکستانی طالبان کے ایک دھڑے کی نمائندگی کرتا ہے جس کی قیادت حافظ گل بہادر کے پاس سمجھی جاتی ہے۔ ان کے مطابق اس تنظیم کی زیادہ تر کارروائیاں شمالی وزیرستان، بنوں اور خیبر کے علاقوں تک محدود ہیں، جبکہ لشکرِ اسلام بھی بنیادی طور پر خیبر ضلع کے مخصوص علاقوں میں سرگرم رہا ہے۔

اتحاد المجاہدین میں شامل انقلابِ اسلامی پاکستان نسبتاً نیا گروہ ہے جو پہلی مرتبہ مارچ 2025 میں منظرعام پر آیا، تاہم اس کی قیادت اور ڈھانچے کے بارے میں اب بھی بہت کم معلومات دستیاب ہیں۔ ان کے بقول یہ گروہ بظاہر القاعدہ برصغیر کے ایک فرنٹ گروپ کے طور پر بھی کام کرتا دکھائی دیتا ہے۔ صحافی اور سکیورٹی تجزیہ کار احسان ٹیپو محسود کے مطابق کالعدم ٹی ٹی پی سے منسلک جماعت الاحرار کے بعض عناصر بھی اتحاد المجاہدین پاکستان کے لیے نرم گوشہ رکھتے ہیں۔ ان کے مطابق یہی وجہ ہے کہ بعض علاقوں میں مختلف شدت پسند گروہوں کے درمیان عملی تعاون کے آثار بھی سامنے آتے رہے ہیں۔

اعداد و شمار کے مطابق مارچ سے جون 2026 کے درمیان آئی ایم پی نے 66 سنائپر حملوں اور 47 ڈرون حملوں کی ذمہ داری قبول کرنے کا دعویٰ کیا، جو اس کی عسکری حکمت عملی میں نمایاں تبدیلی کی عکاسی کرتا ہے۔ تنظیم کے مطابق اسی عرصے میں مئی 2026 میں بنوں میں ہونے والے ایک بڑے خودکش حملے میں 29 سکیورٹی اہلکار ہلاک ہوئے، جبکہ جولائی میں بھی بنوں اور جنوبی وزیرستان میں مزید دو خودکش حملوں کی ذمہ داری قبول کی گئی۔ تاہم مجموعی طور پر 2026 کے دوران تنظیم نے خودکش حملوں کے مقابلے میں ڈرونز، سنائپر کارروائیوں اور آئی ای ڈی حملوں پر زیادہ انحصار کیا، جسے پاکستانی سکیورٹی اداروں کے لیے ایک نئے اور بدلتے ہوئے خطرے کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

Back to top button