کراچی کےساتھ 70سال میں ناانصافی ہوئی،جوڈیشل کمیشن بنایاجائے،متحدہ

متحدہ قومی موومنٹ پاکستان کے چیئرمین خالد مقبول صدیقی نے کراچی کے ساتھ ناانصافی، جعلی ڈومیسائل اور کوٹہ سسٹم پر جوڈیشل کمیشن بنانے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ 70 سال میں سندھ جس طرح چلایا گیا، عدالتیں اس کا نوٹس لیں۔
کراچی میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے خالد مقبول صدیقی نے کہاکہ کراچی کے عوام نے ایم کیو ایم پر اعتماد کا اظہار کیا ہے، جبکہ حیدرآباد کے عوام یہ فیصلہ پہلے ہی دے چکے ہیں۔ ایم کیو ایم کی طرز سیاست پاکستان کا مقدر بنے گی۔
انہوں نے کہا کہ عوام کے اعتماد کو کسی صورت ٹھیس نہیں پہنچائیں گے اور سڑکوں کے بجائے قانون سازی کے ذریعے فیصلے کرانے کی کوشش کریں گے۔
خالد مقبول صدیقی نے کہا کہ شہری علاقوں نے 50 سال کی ناانصافیوں کے خلاف فیصلہ دیا ہے اور کراچی کے عوام نے گزشتہ روز سڑکوں پر آکر اپنا فیصلہ ریکارڈ کرا دیا ہے۔ان کے مطابق پاکستان کو اب اس حالت میں نہیں چلایا جا سکتا، جاگیردارانہ جمہوریت پاکستان کا مستقبل نہیں ہو سکتی اور خاندانی، حکومتی و موروثی سیاست کے خاتمے کا وقت آ گیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان کی آبادی تیزی سے بڑھ رہی ہے، اس لیے زیادہ سے زیادہ انتظامی یونٹس ہونے چاہییں۔ پانچ سال کے اندر دوبارہ مردم شماری کرائی جائے اور مصنوعی ذہانت (اے آئی) و جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے ایک ایک فرد کی گنتی یقینی بنائی جائے۔
خالد مقبول صدیقی کا کہنا تھا کہ پاکستان کی ضرورت ہے کہ آئین پر مکمل عمل درآمد یقینی بنایا جائے۔ ایم کیو ایم پاکستان بھر میں عوام کے درمیان جائے گی، جبکہ پیشہ ور سیاست کی اجازت نہیں ہوگی۔
ایم کیو ایم چیئرمین نے کہا کہ ایم کیو ایم کے کارکنوں نے ہر دور میں مشکلات، مخالفتوں اور رکاوٹوں کا ڈٹ کر مقابلہ کیا۔ کارکنوں کی تاریخ ہزاروں شہیدوں کی قربانیوں سے رنگین ہے، جبکہ انہوں نے طویل عرصے تک بے گناہی کی اسیریاں کاٹی ہیں۔
