کیا پاکستان اور قطر ایران اور امریکہ کو مذاکرات کی میز پر لانے میں کامیاب ہو پائیں گے؟

پاکستان اور قطر کی قیادت میں جاری سفارتی کوششوں کی وجہ سے امریکہ اور ایران دوبارہ مذاکرات کی میزپر آ گئے ہیں اگرچہ دونوں ممالک کے درمیان براہِ راست رابطوں پر اختلافات برقرار ہیں لیکن جنگ بندی کے بعد ثالثی کے ذریعے دونوں ممالک میں بات چیت کی امید مضبوط ہو رہی ہے، تاہم دونوں ممالک کے مابین آبنائے ہرمز، جوہری پروگرام اور علاقائی سلامتی جیسے بنیادی تنازعات اب بھی حل طلب ہیں۔
مبصرین کے مطابق امریکہ اور ایران کے درمیان حالیہ شدید کشیدگی کے بعد سفارتی محاذ پر اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔ علاقائی حکام کے مطابق پاکستان اور قطر کی قیادت میں جاری ثالثی کی کوششوں نے دونوں ممالک کو دوبارہ مذاکرات کی میز پر لانے میں نمایاں کامیابی حاصل کرلی ہے، جس سے خطے میں ایک مرتبہ پھر امن کی امید پیدا ہوگئی ہے۔
ذرائع کے مطابق گزشتہ چند روز سے امریکہ اور ایران کے درمیان براہِ راست فوجی حملے رکے ہوئے ہیں، جو تقریباً دو ہفتوں تک جاری رہنے والی شدید بمباری کے بعد ایک اہم پیش رفت سمجھی جا رہی ہے۔ اگرچہ خطے میں ایران سے منسلک بعض مسلح گروہوں کی محدود کارروائیاں جاری ہیں، تاہم دونوں مرکزی فریقوں کی جانب سے بڑے حملوں کا رک جانا سفارتی کوششوں کے لیے سازگار ماحول پیدا کر رہا ہے۔
علاقائی حکام نے بتایا ہے کہ پاکستان، قطر اور دیگر ثالث ممالک واشنگٹن اور تہران کے درمیان اختلافات کم کرنے کے لیے مسلسل رابطوں میں ہیں۔ ان کوششوں کا بنیادی مقصد ایک نئی عبوری جنگ بندی پر اتفاق رائے پیدا کرنا اور دونوں ممالک کو دوبارہ باضابطہ مذاکرات کی طرف لانا ہے۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران نے مذاکرات میں دلچسپی ظاہر کرتے ہوئے رابطہ کیا ہے، تاہم تہران نے اس دعوے کی تردید کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ امریکہ کے ساتھ اس وقت کوئی براہِ راست مذاکرات نہیں ہو رہے۔ ایران کا مؤقف ہے کہ اگر کوئی پیغام رسانی ہو رہی ہے تو وہ ثالث ممالک کے ذریعے ہو رہی ہے، نہ کہ براہِ راست سفارتی رابطوں کے ذریعے۔
اس دوران آبنائے ہرمز ایک مرتبہ پھر تنازع کا مرکزی نقطہ بنی ہوئی ہے۔ ایران اور عمان کے درمیان اس اہم آبی گزرگاہ میں جہاز رانی کے انتظام سے متعلق مذاکرات جاری ہیں تاکہ تجارتی بحری آمدورفت کو محفوظ بنایا جا سکے۔ ایران کا کہنا ہے کہ کسی بھی انتظامی طریقہ کار میں اس کی خودمختاری، سلامتی اور قومی مفادات کا مکمل احترام ضروری ہوگا۔
دوسری جانب امریکی فوج نے ایران کے خلاف بحری ناکہ بندی برقرار رکھنے کا اعلان کیا ہے۔ امریکی حکام کے مطابق متعدد تجارتی جہازوں کا رخ موڑا گیا جبکہ کچھ جہازوں کی تلاشی بھی لی گئی۔ ان اقدامات سے ظاہر ہوتا ہے کہ عسکری دباؤ مکمل طور پر ختم نہیں ہوا، بلکہ سفارت کاری اور فوجی حکمت عملی ایک ساتھ چل رہی ہیں۔
خطے کی دوسری اہم بحری گزرگاہ باب المندب میں بھی غیر یقینی صورتحال برقرار ہے۔ حوثی گروپ کی جانب سے جہاز رانی کو نشانہ بنانے کی دھمکیوں اور بعض حملوں کے باعث عالمی تجارتی راستے دباؤ کا شکار ہیں، جس کے اثرات عالمی توانائی کی منڈیوں پر بھی نمایاں ہونے لگے ہیں۔
اسی دوران امریکی دفاعی صلاحیت سے متعلق بھی سوالات اٹھ رہے ہیں۔ بعض امریکی حکام اور عسکری ماہرین کا کہنا ہے کہ مسلسل فوجی کارروائیوں کے باعث امریکہ کے بعض اہم ہتھیاروں، خصوصاً دفاعی میزائلوں اور انٹرسیپٹرز کے ذخائر پر دباؤ بڑھا ہے۔ اگرچہ صدر ٹرمپ نے اسلحے کی کمی کی خبروں کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکی ذخائر مضبوط ہیں، تاہم انہوں نے یہ اعتراف بھی کیا کہ مزید ذخائر ہونا بہتر ہوگا۔
امریکی فوج کے اعلیٰ حکام کا بھی کہنا ہے کہ فضائی طاقت کی اپنی حدود ہوتی ہیں اور صرف فضائی حملوں کے ذریعے تمام عسکری مقاصد حاصل نہیں کیے جا سکتے۔ یہی وجہ ہے کہ واشنگٹن بیک وقت سفارتی اور عسکری دونوں راستے کھلے رکھنا چاہتا ہے۔
سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق موجودہ صورتحال اس بات کی غماز ہے کہ امریکہ اور ایران دونوں کھلی جنگ کے ممکنہ تباہ کن نتائج سے آگاہ ہیں۔ اسی لیے اگرچہ دونوں اپنے اپنے مؤقف پر قائم ہیں، لیکن ثالث ممالک کی کوششوں کو بھی مکمل طور پر مسترد نہیں کر رہے۔ پاکستان، قطر، عمان اور دیگر علاقائی ممالک کی سفارت کاری آنے والے دنوں میں اس تنازع کے مستقبل کا تعین کرنے میں اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔
کیا پاکستانیوں کو اب اٹلی ویزا اپائنٹمنٹ مفت ملے گی؟
اگر مذاکرات دوبارہ شروع ہوتے ہیں تو جوہری پروگرام، علاقائی سلامتی، آبنائے ہرمز میں جہاز رانی اور پابندیوں جیسے اہم معاملات ایجنڈے پر سرفہرست ہوں گے۔ تاہم اگر سفارتی عمل تعطل کا شکار ہوا تو خطے میں کشیدگی دوبارہ شدت اختیار کر سکتی ہے۔
