پاکستان کا بجٹ حکومت بناتی ہے یا آئی ایم ایف؟

ہر سال وفاقی بجٹ پیش ہوتے ہی عوام کی توجہ اس بات پر مرکوز ہو جاتی ہے کہ کون سی اشیا مہنگی ہوں گی، کس شعبے پر نئے ٹیکس لگیں گے اور پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کیا تبدیلی آئے گی۔ تاہم ان تمام سوالات سے زیادہ اہم یہ جاننا ہے کہ بجٹ کی ترجیحات کس بنیاد پر طے کی جاتی ہیں اور ان فیصلوں کے پیچھے کون سے داخلی اور خارجی عوامل کارفرما ہوتے ہیں۔
پاکستان گزشتہ کئی دہائیوں سے مالی مشکلات کا سامنا کرتا آیا ہے اور انہی مسائل کے باعث اسے بارہا عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) سے رجوع کرنا پڑا۔ آئی ایم ایف کے ریکارڈ کے مطابق پاکستان 1958 سے اب تک 25 مرتبہ اس ادارے کے پروگرامز کا حصہ بن چکا ہے۔ اس وقت بھی پاکستان تقریباً سات ارب ڈالر مالیت کے آئی ایم ایف پروگرام کے تحت کام کر رہا ہے۔ ان پروگرامز کے ساتھ مخصوص معاشی شرائط منسلک ہوتی ہیں جن کا مقصد حکومتی آمدن میں اضافہ، بجٹ خسارے میں کمی اور معاشی استحکام حاصل کرنا ہوتا ہے۔
ماہرین معاشیات کے مطابق آئی ایم ایف کی شرائط اکثر براہِ راست یا بالواسطہ وفاقی بجٹ کا حصہ بن جاتی ہیں۔ مثال کے طور پر مختلف شعبوں کو حاصل ٹیکس چھوٹ ختم کرنا، توانائی کے شعبے میں اصلاحات، ٹیکس نیٹ کو وسعت دینا اور سرکاری اخراجات میں کمی جیسے اقدامات انہی شرائط کا حصہ ہوتے ہیں۔ ان پالیسیوں سے حکومتی ریونیو تو بڑھ سکتا ہے، لیکن ان کے اثرات عام صارفین، صنعتوں اور کاروباری سرگرمیوں پر بھی مرتب ہوتے ہیں۔
تجزیہ کاروں کے مطابق پاکستان کے بجٹ کا ایک بڑا مسئلہ قرضوں کی ادائیگی کا بڑھتا ہوا بوجھ ہے۔ مالی سال 2023-24 کے اعداد و شمار کے مطابق وفاقی اخراجات کا نصف سے زیادہ حصہ قرضوں اور ان پر سود کی ادائیگی میں صرف ہوا۔ اس کے برعکس تعلیم اور صحت جیسے بنیادی شعبوں پر مجموعی وفاقی اخراجات چار فیصد سے بھی کم رہے۔ اس صورتحال میں حکومت کے پاس ترقیاتی منصوبوں اور سماجی بہبود کے لیے محدود وسائل بچتے ہیں۔
معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ جب بجٹ کا بڑا حصہ پہلے سے طے شدہ مالی ذمہ داریوں پر خرچ ہو جائے تو حکومت کے لیے عوامی فلاح کے منصوبوں میں سرمایہ کاری کرنا مشکل ہو جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہر بجٹ میں نئے ٹیکسوں اور سبسڈیز میں کمی کی بحث سامنے آتی ہے، کیونکہ حکومت کو اپنے اخراجات پورے کرنے کے لیے اضافی وسائل درکار ہوتے ہیں۔زرِ مبادلہ کے ذخائر کا دباؤ بھی پاکستان کی معاشی حکمت عملی پر اثر انداز ہوتا ہے۔ ماہرین کے مطابق اگر دوست ممالک کی جانب سے دیے گئے مالی تعاون میں کمی واقع ہو جائے تو پاکستان کے پاس درآمدات کے لیے درکار زرمبادلہ بہت محدود رہ سکتا ہے۔ ایسی صورتحال میں آئی ایم ایف پروگرام نہ صرف بیرونی مالی معاونت کا ذریعہ بنتا ہے بلکہ دیگر عالمی مالیاتی اداروں اور سرمایہ کاروں کے اعتماد کی بحالی میں بھی کردار ادا کرتا ہے۔
ٹیکس نظام کے حوالے سے یہ سوال بھی اہم ہے کہ آیا موجودہ بوجھ منصفانہ طور پر تقسیم کیا جا رہا ہے یا نہیں۔ ماہرین کا مؤقف ہے کہ پاکستان میں ایک محدود طبقہ باقاعدگی سے ٹیکس ادا کرتا ہے جبکہ معیشت کا بڑا حصہ اب بھی غیر دستاویزی ہے۔ اگر کاروباری سرگرمیوں کو دستاویزی بنایا جائے، ڈیجیٹل ادائیگیوں کو فروغ دیا جائے اور ٹیکس نیٹ کو وسیع کیا جائے تو ٹیکس کا بوجھ زیادہ منصفانہ انداز میں تقسیم کیا جا سکتا ہے۔تعلیم اور صحت جیسے شعبوں میں کم سرمایہ کاری کو مکمل طور پر آئی ایم ایف کی شرائط سے جوڑنا بھی درست نہیں سمجھا جاتا۔ ماہرین کے مطابق وفاقی اور صوبائی سطح پر وسائل کی بہتر تقسیم، مقامی حکومتوں کا مؤثر نظام اور مالیاتی نظم و ضبط ایسے عوامل ہیں جو سماجی شعبوں کی کارکردگی کو بہتر بنا سکتے ہیں۔
ناقدین کے مطابق حقیقت یہ ہے کہ بجٹ محض آمدن اور اخراجات کی ایک دستاویز نہیں بلکہ ریاستی ترجیحات کا آئینہ دار ہوتا ہے۔ اس میں کیے گئے فیصلے یہ طے کرتے ہیں کہ معاشی بوجھ کس طبقے پر پڑے گا، کن شعبوں کو ترقی کے مواقع ملیں گے اور عوام کو کس حد تک ریلیف فراہم کیا جا سکے گا۔ یہی وجہ ہے کہ بجٹ کو صرف مہنگائی اور ٹیکسوں کے تناظر میں نہیں بلکہ ایک وسیع معاشی اور سماجی تناظر میں سمجھنے کی ضرورت ہے۔
