انڈیا کی جوہری صلاحیتوں میں اضافے پر پاکستان کو تشویش کیوں؟

سویڈن کے معروف تحقیقی ادارے سٹاک ہوم انٹرنیشنل پیس ریسرچ انسٹی ٹیوٹ (سپری) کی تازہ رپورٹ نے جنوبی ایشیا میں تزویراتی توازن کے حوالے سے نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ رپورٹ کے مطابق انڈیا نے 2026 میں مزید 12 جوہری وارہیڈز تعینات کیے ہیں، جس کے بعد اس کے مجموعی جوہری ہتھیاروں کی تعداد 190 تک پہنچ گئی ہے، جبکہ پاکستان کے جوہری وارہیڈز کی تعداد 170 پر برقرار ہے۔ اگرچہ انڈین حکومت نے اس حوالے سے باضابطہ ردعمل نہیں دیا، تاہم پاکستان نے اس پیش رفت پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔

سپری کی رپورٹ کے مطابق انڈیا صرف اپنے جوہری ذخیرے میں اضافہ نہیں کر رہا بلکہ وہ ایسے جدید ڈیلیوری سسٹمز بھی تیار کر رہا ہے جو طویل فاصلے تک اہداف کو نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ رپورٹ میں اشارہ دیا گیا ہے کہ انڈیا کی یہ حکمت عملی نہ صرف پاکستان بلکہ چین کے تناظر میں بھی دیکھی جا رہی ہے۔ خصوصاً ایسے میزائل نظام اور جوہری صلاحیت کی حامل آبدوزوں کی تیاری، جو سمندر کے ذریعے جوہری ردعمل کی صلاحیت فراہم کرتی ہیں، خطے میں طاقت کے توازن کو متاثر کر سکتی ہیں۔

پاکستانی وزارتِ خارجہ کے مطابق سپری کے مشاہدات اسلام آباد کے لیے غیر متوقع نہیں۔ ترجمان طاہر اندرابی کا کہنا ہے کہ پاکستان طویل عرصے سے انڈیا کی بڑھتی ہوئی جوہری صلاحیتوں، میزائل نظام کی جدید کاری، آبدوزوں کی توسیع اور بین البراعظمی بیلسٹک میزائلوں کی ترقی کے حوالے سے خدشات ظاہر کرتا آیا ہے۔ ان کے مطابق یہ پیش رفت انڈیا کی جائز دفاعی ضروریات سے کہیں زیادہ ہے اور اس کے اثرات جنوبی ایشیا سے باہر عالمی امن و سلامتی تک پھیل سکتے ہیں۔

پاکستان کی تشویش کی ایک بڑی وجہ انڈیا کی ممکنہ جوہری تعیناتی کی حکمت عملی میں تبدیلی بھی ہے۔ ماضی میں انڈیا کا مؤقف یہ رہا ہے کہ وہ "پہلے حملہ نہ کرنے” (No First Use) کی پالیسی پر عمل کرتا ہے اور وارہیڈز کو میزائلوں سے الگ رکھتا ہے۔ تاہم دفاعی تجزیہ کاروں کے مطابق اگر سپری کی رپورٹ درست ہے تو انڈیا نے پہلی مرتبہ اپنے کچھ جوہری وارہیڈز آبدوزوں پر تعینات کر دیے ہیں۔ اس سے انڈیا کی "سیکنڈ اسٹرائیک کیپیسٹی” مضبوط ہوتی ہے، یعنی اگر اس پر حملہ ہو بھی جائے تو وہ سمندر سے جوابی کارروائی کرنے کی صلاحیت برقرار رکھ سکتا ہے۔

دوسری جانب پاکستانی ماہرین کا کہنا ہے کہ پاکستان کا جوہری پروگرام بنیادی طور پر روک تھام (Deterrence) کی حکمت عملی پر مبنی ہے۔ عسکری امور کے ماہر سید محمد علی کے مطابق پاکستان اپنے جوہری ذخیرے کو انڈیا کے برابر لانے کی دوڑ میں شامل نہیں بلکہ اس کا مقصد صرف کسی بھی ممکنہ جارحیت کو روکنا ہے۔ ان کے مطابق پاکستان کی سلامتی کی ضروریات اور انڈیا کے تزویراتی عزائم میں واضح فرق موجود ہے۔

خیال رہے کہ سپری کی رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ پاکستان نے 2025 کے دوران اپنے جوہری ہتھیاروں کی تعداد میں اضافہ نہیں کیا، اگرچہ اس نے نئے میزائل اور ڈیلیوری سسٹمز پر کام جاری رکھا۔ رپورٹ کے مطابق پاکستان تابکار مواد (فِسل میٹیریل) جمع کر رہا ہے، جس کی بنیاد پر مستقبل میں اس کے جوہری ذخیرے میں اضافہ ممکن ہے۔

واضح رہے کہ علاقائی سطح پر یہ پیش رفت ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب دنیا میں ایک نئی جوہری مسابقت کے آثار نمایاں ہو رہے ہیں۔ امریکہ، روس، چین، انڈیا اور پاکستان اپنے جوہری نظام کو جدید خطوط پر استوار کرنے میں مصروف ہیں۔ ایسے ماحول میں جنوبی ایشیا میں اعتماد سازی کے اقدامات، اسلحہ کنٹرول کے مکالمے اور بحرانوں کے مؤثر انتظام کی ضرورت پہلے سے کہیں زیادہ محسوس کی جا رہی ہے۔پاکستان کا مؤقف ہے کہ وہ ہتھیاروں کی دوڑ کا حصہ نہیں بننا چاہتا، لیکن بدلتے ہوئے سکیورٹی ماحول میں اپنی دفاعی صلاحیت برقرار رکھنا اس کی مجبوری ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اسلام آباد نے عالمی برادری پر زور دیا ہے کہ وہ انڈیا کی جوہری پیش رفت کا باریک بینی سے جائزہ لے، کیونکہ خطے میں تزویراتی توازن میں کسی بھی بڑی تبدیلی کے اثرات صرف جنوبی ایشیا تک محدود نہیں رہیں گے۔

سپری کی رپورٹ کے بعد ایک مرتبہ پھر یہ سوال سامنے آیا ہے کہ کیا جنوبی ایشیا میں جوہری استحکام برقرار ہے یا خطہ ایک نئی اسلحہ دوڑ کی جانب بڑھ رہا ہے؟ اس سوال کا جواب آنے والے برسوں میں ان دونوں جوہری طاقتوں کی پالیسیوں اور عالمی برادری کے ردعمل سے واضح ہو سکے گا۔

Back to top button