PPPاور PMLNمیں سیاسی کشیدگی، کیا شہباز کی اتحادی حکومت کو لے ڈوبے گی؟

پاکستان کی دو بڑی سیاسی اتحادی جماعتیں مسلم لیگ (ن) اور پاکستان پیپلز پارٹی ایک بار پھر سیاسی محاذ آرائی میں آمنے سامنے ہیں۔ آزاد کشمیر انتخابات کی مہم کے دوران دونوں جماعتوں کی قیادت کی جانب سے ایک دوسرے پر سخت تنقید، الزامات اور جوابی حملوں نے سیاسی درجہ حرارت بڑھا دیا ہے۔ تاہم سوال یہ ہے کہ کیا یہ اختلافات واقعی وفاقی حکومت کے اتحاد کو متاثر کر سکتے ہیں یا یہ صرف انتخابی سیاست کا ایک روایتی انداز ہے جس کے بعد دونوں جماعتیں دوبارہ مفاہمت کی سیاست پر واپس آ جائیں گی؟
آزاد کشمیر انتخابات کی انتخابی مہم کے دوران مسلم لیگ (ن) کے قائد نواز شریف، وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز اور دیگر رہنماؤں نے پیپلز پارٹی کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا، جبکہ پیپلز پارٹی کی قیادت نے بھی مسلم لیگ (ن) کے خلاف سخت بیانات دیے اور حکومتی پالیسیوں پر سوالات اٹھائے۔
تاہم سیاسی مبصرین کی اکثریت کے مطابق دونوں جماعتوں کے درمیان جاری لفظی جنگ کا تعلق زیادہ تر انتخابی سیاست سے ہے اور اس وقت وفاقی حکومت یا اتحادی نظام کو فوری خطرہ نظر نہیں آتا۔
سینئر تجزیہ کار حامد میر کے مطابق مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی کے درمیان جاری سیاسی تنقید کو انتخابی ماحول کے تناظر میں دیکھنا چاہیے۔ ان کا کہنا ہے کہ عملی سیاست میں دونوں جماعتیں اب بھی ایک دوسرے کی اتحادی ہیں اور اہم حکومتی معاملات میں تعاون جاری رکھے ہوئے ہیں۔وفاق میں وزیراعظم کا منصب مسلم لیگ (ن) کے پاس ہے جبکہ صدر مملکت کا عہدہ پیپلز پارٹی کے پاس ہے، جو دونوں جماعتوں کے درمیان سیاسی شراکت داری کی واضح مثال ہے۔ اسی طرح بلوچستان سمیت دیگر سیاسی معاملات میں بھی دونوں جماعتیں ایک دوسرے کے ساتھ تعاون کر رہی ہیں۔حامد میر کے مطابق قومی اسمبلی اور سینیٹ میں اہم قانون سازی، خاص طور پر آئینی معاملات، دونوں جماعتوں کے اتفاق رائے کے بغیر آسان نہیں۔ انتخابی جلسوں میں دونوں جماعتیں ایک دوسرے کو مسائل کا ذمہ دار قرار دیتی ہیں، لیکن اقتدار کے معاملات میں تعاون کا سلسلہ برقرار رہتا ہے۔
سینئر تجزیہ کار ماریہ میمن کے مطابق مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی کے درمیان سخت سیاسی بیانات نئی روایت نہیں۔ ماضی میں بھی انتخابات سے قبل دونوں جماعتوں کے درمیان شدید تنقید دیکھی گئی، لیکن انتخابات کے بعد سیاسی ضرورتوں کے تحت دونوں جماعتیں ایک دوسرے کے قریب آتی رہی ہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ 2024 کے عام انتخابات سے پہلے بھی دونوں جماعتوں کے درمیان سخت اختلافات موجود تھے، لیکن بعد میں حکومت سازی کے لیے سیاسی مفاہمت کر لی گئی۔ اسی طرح آزاد کشمیر انتخابات کے دوران ہونے والی بیان بازی کو بھی اسی سیاسی حکمت عملی کا حصہ سمجھنا چاہیے۔
سیاسی تجزیہ کار عامر الیاس رانا کے مطابق بڑی سیاسی جماعتیں بیک وقت دو مختلف راستوں پر چلتی ہیں۔ ایک طرف وہ عوامی سطح پر ایک دوسرے کے خلاف سخت بیانیہ اپناتی ہیں تاکہ ووٹ بینک مضبوط کیا جا سکے، جبکہ دوسری جانب اقتدار کے معاملات میں تعاون بھی جاری رکھتی ہیں۔ان کے مطابق مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی پنجاب سمیت مختلف سیاسی میدانوں میں ایک دوسرے کا مقابلہ کر رہی ہیں، جبکہ بلاول بھٹو زرداری اور مسلم لیگ (ن) کی قیادت کے درمیان جاری سیاسی کشیدگی بھی آئندہ انتخابات کی تیاریوں کا حصہ ہے۔انہوں نے کہا کہ سیاسی حالات کے ساتھ بیانیے بھی تبدیل ہوتے رہتے ہیں۔ ماضی میں پیپلز پارٹی کے رہنما مسلم لیگ (ن) کی قیادت کے ساتھ تعاون کی بات کرتے رہے، لیکن انتخابی سیاست میں ایک دوسرے کے خلاف موقف اختیار کرنا معمول کا حصہ ہے۔
سینئر تجزیہ کار منیب فاروق کے مطابق موجودہ وفاقی حکومت مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی کے درمیان سیاسی مفاہمت کے نتیجے میں قائم ہوئی ہے۔ اگرچہ دونوں جماعتوں کے رہنما ایک دوسرے پر سخت الزامات عائد کرتے ہیں، لیکن عملی طور پر دونوں سیاسی حقیقتوں سے واقف ہیں۔ان کا کہنا ہے کہ پیپلز پارٹی کی جانب سے مسلم لیگ (ن) کی حکومت پر تنقید کے باوجود صدر آصف علی زرداری اسی سیاسی نظام کا اہم حصہ ہیں۔ اسی طرح اگرچہ بعض رہنما حکومت پر سخت الفاظ استعمال کرتے ہیں، لیکن پیپلز پارٹی حکومتی بندوبست کی ایک اہم شراکت دار ہے۔منیب فاروق کے مطابق دونوں جماعتیں ایک دوسرے پر کرپشن، انتخابی معاملات اور سیاسی کمزوریوں کے الزامات لگاتی رہیں گی، لیکن موجودہ حالات میں دونوں کے لیے باہمی تعاون برقرار رکھنا سیاسی ضرورت ہے۔
پاکستانی شدت پسند گروہ نے افغان طالبان کے چھکے کیسے چھڑائے؟
تجزیہ کاروں کے مطابق مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی کے درمیان موجودہ کشیدگی بنیادی طور پر انتخابی مقابلے کا حصہ ہے۔ دونوں جماعتیں اپنے اپنے ووٹرز کو متحرک کرنے کے لیے سخت زبان استعمال کر رہی ہیں، لیکن وفاقی حکومت کے مستقبل پر اس کے فوری اثرات کے امکانات کم ہیں۔سیاسی تاریخ بتاتی ہے کہ پاکستان میں اتحادی جماعتیں اکثر انتخابی میدان میں ایک دوسرے کے خلاف کھڑی ہوتی ہیں، مگر اقتدار کے معاملات میں دوبارہ مفاہمت کا راستہ اختیار کر لیتی ہیں۔موجودہ صورتحال میں بھی امکان یہی ہے کہ آزاد کشمیر انتخابات کے بعد سیاسی درجہ حرارت کم ہو گا اور دونوں جماعتیں دوبارہ حکومتی معاملات میں تعاون جاری رکھیں گی، کیونکہ موجودہ سیاسی نظام میں دونوں ایک دوسرے کی ضرورت ہیں۔
