حوثیوں سے براہ راست مذاکرات نہیں ہو رہے: یمنی وزیر خارجہ

یمن کی وزیر خارجہ افراح الزوبہ نے کہا ہے کہ حوثیوں سے براہ راست مذاکرات نہیں ہو رہے۔ البتہ سلطنت عمان دونوں فریقوں کے درمیان ثالثی کا کردار ادا کر رہی ہے۔

یمن کی وزیر خارجہ افراح الزوبہ نے کہا ہے کہ حکومت حوثی گروہ کے ساتھ تنازع کا پرامن حل چاہتی ہے، تاہم اگر حوثیوں کی جانب سے اشتعال انگیزی جاری رہی تو حکومت ہر ممکن صورتحال سے نمٹنے کے لیے تیار ہے۔

انہوں نے کہا کہ حوثی گروہ باب المندب میں وہی حکمت عملی اختیار کرنا چاہتا ہے جو ان کے بقول ایران آبنائے ہرمز میں اپنائے ہوئے ہے، یعنی اہم عالمی بحری گزرگاہ پر اثر و رسوخ قائم کرنا اور جہاز رانی پر کنٹرول حاصل کرنا۔

یمنی وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ گزشتہ برسوں کے دوران بحری جہازوں پر ہونے والے حملوں پر عالمی برادری کے غیر مؤثر ردعمل نے حوثیوں کے حوصلے مزید بلند کیے ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ حوثی جنگجوؤں اور سرکاری فورسز کے درمیان مختلف محاذوں پر وقفے وقفے سے فائرنگ کا تبادلہ جاری ہے، تاہم ابھی تک کسی بڑے حملے یا باقاعدہ فوجی کارروائی کا آغاز نہیں ہوا۔

 

ایران جنگ اور ٹرمپ کی پالیسیوں سے امریکی معیشت شدید دباؤ کا شکار

افراح الزوبہ نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ حوثی ایران سے براہِ راست پروازوں کی بحالی کے خواہاں ہیں تاکہ انہیں فوجی معاونت، افرادی قوت، مالی وسائل اور اسلحے کی فراہمی میں درپیش مشکلات پر قابو پانے میں مدد مل سکے۔

Back to top button