مونس کو وزیر بنانے پر چوہدری خاندان میں اختلاف


وزیراعظم عمران خان کی جانب سے چوہدری پرویز الٰہی کے بیٹے مونس الٰہی کو وفاقی وزیر بنائے جانے کے بعد نہ صرف ایم کیو ایم نے ایک اور وزارت مانگ لی ہے بلکہ چوہدری خاندان میں بھی اندرونی اختلافات پیدا ہوگئے ہیں کیونکہ خاندان کے بڑے مونس الہیٰ کی بجائے چوہدری شجاعت کے صاحبزادے سالک حسین کو وفاقی وزیر بنانے کے خواہاں تھے۔

خیال رہے کہ عام انتخابات 2018 میں حکمران جماعت تحریک انصاف کی مسلم لیگ ق کے ساتھ سیٹ ایڈجسٹمنٹ ہوئی تھی جس کے نتیجے میں ق لیگ نے قومی اسمبلی کی پانچ اور پنجاب میں 10 نشستوں پر کامیابی حاصل کی تھی۔ حکومت کے ساتھ اتحاد کی صورت میں دو وفاقی وزارتیں اور پنجاب اسمبلی کی سپیکر شپ کا غیر اعلانیہ معاہدہ ہواتھا جس کے تمام نکات چوہدری پرویز الٰہی کے بیٹے مونس الٰہی کو وفاقی وزیر بنانے کے سوا پورے ہونے تھے۔ حکمران جماعت نے پنجاب اسمبلی کا سپیکر چوہدری پرویز الٰہی کو بنایا، رکن قومی اسمبلی طارق بشیر چیمہ کو وفاقی وزیر جبکہ دوصوبائی وزارتیں پنجاب میں دیں۔ تاہم عمران خان کا موقف تھا کہ وہ مونس الہی کو اس لیے وزیر نہیں بنائیں گے کہ ان پر کرپشن کے سنگین الزامات ہیں۔ اس دوران ق لیگ کی جانب سے کئی بار ناراضی کا اظہار بھی کیا جاتا رہا اور حکومتی اتحاد سے علیحدہ ہونے کی دھمکی بھی دی جاتی رہی۔ اس دوران نہ صرف پرویز الہی بلکہ ان کے بیٹے ایم این اے چوہدری مونس الٰہی نے بھی حکومتی پالیسیوں پر تنقید کی جس سے یہ تاثر ابھرا کہ ق لیگ وزارتوں کا معاہدہ مکمل نہ ہونے پر نالاں ہے۔

تاہم وزیراعظم عمران خان نے بالآخر 19 جولائی کو چوہدری مونس الٰہی کو بھی وفاقی کابینہ میں شامل کر لیا جس کے بعد حکومت کا ق لیگ کے ساتھ معاہدہ مکمل ہو گیا ہے۔ چوہدری مونس الٰہی کو وزارت برائے آبی وسائل کا قلم دان سونپا گیا ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق موجودہ حکومت میں سب سے زیادہ فائدہ ق لیگ کو حاصل ہوا ہے کیونکہ انہیں نشستوں کے لحاظ سے سب سے زیادہ وزارتیں ملی ہیں۔ باخبر ذرائع کا کہنا ہے کہ چوہدری برادران کی مسلسل بلیک میلنگ سے تنگ آکر عمران خان نے بالآخر تین سال بعد مونس الٰہی کو وفاقی کابینہ میں شامل تو کر لیا ہے لیکن اس فیصلے کے بعد کپتان کے لیے اتحادی جماعت ایم کیو ایم پاکستان نے ایک نئی مشکل کھڑی کر دی ہے۔ ایم کیو ایم والوں نے مطالبہ کیا ہے کہ اگر قومی اسمبلی میں پانچ نشستیں رکھنے والی مسلم لیگ ق کے دو وفاقی وزراء ہو سکتے ہیں تو سات اراکین قومی اسمبلی کے ساتھ ایم کیو ایم بھی کم از کم دو وزارتوں کی حقدار ہے۔ ایم کیو ایم کی جانب سے دوسری وزارت کے مطالبے پر کپتان کی جانب سے ہمیشہ یہی جواب دیا گیا ہے کہ ایم کیو ایم کے امین الحق کے علاوہ بیرسٹر فروغ نسیم بھی وفاقی کابینہ کا حصہ ہیں لہذا ایم کیو ایم کو اس کا حق دے دیا گیا ہے، تاہم متحدہ والوں کا اصرار ہے کہ فروغ نسیم ایم کیو ایم چھوڑ کر عملی طور پر تحریک انصاف کا حصہ بن چکے ہیں لہذا فروغ کو ایم کیو ایم کے کھاتے میں نہ ڈالا جائے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ ایم کیوایم حال ہی میں منتخب ہونے والے سینیٹر فیصل سبزواری کو وفاقی کابینہ کا حصہ بنانا چاہتی ہے اور مونس الٰہی وزیر بنائے جانے کے بعد ایم کیو ایم نے کپتان پر دباؤ مزید بڑھا دیا ہے۔ خدشہ ہے کہ آنے والے دنوں میں ایم کیو ایم روایتی انداز میں حکومت سے الگ ہونے کی دھمکی دے کر سیاسی درجہ حرارت بڑھانے کی کوشش کرے گی جس سے کپتان کے لیے ایک نیا محاذ کھل جائے گا۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ مونس الٰہی کو وفاقی وزیر بنانے پر صرف ایم کیو ایم نے ہی کپتان کو تنگ کرنا شروع نہیں کیا بلکہ اندر کی خبر رکھنے والوں کا کہنا ہے کہ گجرات کے چوہدریوں کے گھر میں بھی اس حوالے سے لڑائی پڑ گئی ہے۔ واضح رہے کہ چوہدری خاندان کے تین سپوت اس وقت قومی اسمبلی کا حصہ ہیں۔ چوہدری پرویز الٰہی کے صاحبزادے مونس الہیٰ اور چوہدری وجاہت حسین کے صاحبزادے حسین الٰہی گجرات کے حلقوں سے منتخب ہوئے ہیں۔ چوہدری شجاعت کے صاحبزادے چوہدری سالک حسین چکوال کی نشست جیت کر رکن قومی اسمبلی منتخب ہوئے تھے۔ اندر کی خبر رکھنے والوں کا کہنا ہے کہ چوہدری خاندان میں یہ سوچ پائی جاتی ہے کہ چونکہ پرویز الہی سپیکر پنجاب اسمبلی کے اہم عہدے پر فائز ہیں لہذا ان کے صاحبزادے مونس الہی کی بجائے جائے چوہدری شجاعت کے صاحبزادے سالک حسین کو وفاقی وزیر بنوانا چاہیے تھا۔ بعض حلقوں کا یہ بھی کہنا ہے کہ عمران خان پچھلے سال ہی کا ق لیگ کو ایک اور وزارت دینے پر آمادہ ہوگئے تھے تاہم ان کا بھی یہی موقف تھا کہ چوہدری مونس الٰہی پر کرپشن الزامات ہیں لہذا چوہدری برادران حسین الٰہی یا سالک حسین میں سے کسی ایک کو وفاقی کابینہ میں شامل کروا لیں۔ تاہم پرویز الہی کی ضد تھی کہ اگر چوہدری خاندان کا کوئی سپوت وفاقی وزیر بنے گا تو وہ ان کا بیٹا مونس الہی ہوگا۔ یہی وجہ ہے کہ مونس الٰہی کے 19 جولائی کو حلف اٹھانے کے بعد چوہدری خاندان میں بھی اختلافات شدید ہو گئے ہیں جنہیں روایتی انداز میں دبانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

واضح رہے کہ مونس الہٰی 12 اپریل 1976 کو لاہور میں چوہدری پرویز الٰہی کے گھر پیدا ہوئے۔ انھوں نے یونیورسٹی آف پنسلوانیا سے بی بی اے کی ڈگری حاصل کر رکھی ہے۔ مونس الٰہی 2018 میں پہلی مرتبہ قومی اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے جبکہ وہ اس سے پہلے 2008 سے 2018 تک مسلسل دو مرتبہ پنجاب اسمبلی کے رکن منتخب ہو چکے ہیں۔ وہ 2013 سے 2018 تک پنجاب اسمبلی میں ق لیگ کے پارلیمانی لیڈر تھے۔ مسلم لیگ (ق) کا حکومت سے مطالبہ تھا کہ مونس الہٰی کو بھی وفاقی کابینہ کا حصہ بنایا جائے لیکن حکومتی حلقوں کے مطابق عمران خان انھیں کابینہ میں شامل کرنے کے لیے تیار نہیں تھے۔ اس کی وجہ مونس الہٰی کے خلاف مختلف مقدمات بتائے جاتے ہیں۔ اسی بنیاد پر مسلم لیگ (ق) اہم حکومتی اجلاسوں سے غیر حاضر رہتی تھی۔ بجٹ کے موقع پر بھی جب وزیراعظم نے اتحادیوں کے اعزاز میں عشائیے کا اہتمام کیا تو (ق) لیگ کے ارکان شریک نہیں ہوئے۔ موس الہٰی کو ماضی میں کئی مقدمات کا سامنا رہا ہے۔ وہ پیپلز پارٹی کے دور میں جیل میں بھی رہے۔ سپریم کورٹ نے این آئی سی ایل کیس میں مونس الہٰی کے برکلے بینک میں موجود 34 کروڑ روپے ریکور کرنے کا حکم دیا تھا۔

Back to top button