میں نے خود پر ISI کے دباؤ بارے سچ بولا تھا

سپریم کورٹ میں اسلام آباد ہائی کورٹ کے معزول جسٹس شوکت عزیز صدیقی کے بحالی کیس کی سماعت کے دوران عدالت عظمیٰ نے ریمارکس دیے کہ آپ کو غصہ آئی ایس آئی پر تھا اور آپ نے تضحیک عدلیہ کی کردی۔ تاہم جسٹس شوکت صدیقی نے اپنی سیٹ پر کھڑے ہو کر وضاحت کی کہ ان کے آئی ایس آئی میں نہ تو کسی سے کوئی ذاتی تعلقات ہیں اور نہ ہی کسی سے کوئی ذاتی لڑائی ہے اور انہوں نے راولپنڈی بار ایسوسی ایشن سے خطاب میں جو بھی بات کی وہ اصولی تھی اور سچ پر مبنی تھی۔ انہوں نے بتایا کہ اپنی تقریر میں انہوں نے جو کچھ بتایا اس کا مقصد خود پر خفیہ والوں کے بڑھتے ہوئے دباؤ کو کم کرنا تھا۔
8 جون کو سپریم کورٹ میں سابق جج اسلام آباد ہائیکورٹ شوکت عزیز صدیقی کی برطرفی کے خلاف درخواست پر جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں پانچ رکنی لارجر بینچ نے سماعت کی۔ شوکت عزیز صدیقی کے وکیل حامد خان نے عدالت میں دلائل دیتے ہوئے کہا کہ میرے مؤکل کو چند طاقتور قوتوں نے جان بوجھ کر ٹارگٹ کیا۔ وکیل نے کہا کہ آئین کے مطابق سپریم جوڈیشل کونسل خود انکوائری کرتی ہے، جس پر جسٹس مظہر عالم نے کہا کہ انکوائری کا کیا مطلب ہے کہ سپریم جوڈیشل کونسل خود بیان ریکارڈ کرتی ہے۔ وکیل حامد خان نے کہا کہ سپریم جوڈیشل کونسل نے تمام ریکارڈ اور شہادتوں کا جائزہ لینا ہوتا ہے، میرے مؤکل کو شوکاز نوٹس جاری کر کے جج کے عہدے سے ہٹا دیا گیا، میرے خیال میں شوکت عزیز صدیقی کو بطور جج ہٹانا بدنیتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ادارے کی پالیسی کے مطابق دیکھیں سپریم جوڈیشل کونسل جج کے خلاف انکوائری کرنے کا اختیار رکھتی ہے، وہ جج کو فارغ نہیں کر سکتی۔ وکیل حامد خان نے کہا کہ جسٹس شوکت عزیز صدیقی نے شوکاز نوٹس کا جواب دیا تھا، انہوں نے شوکاز کے جواب میں بتایا تھا کہ ڈائریکٹر جنرل انٹر سروسز انٹیلیجنس فیض حمید ان کے گھر آئے تھے اور ان سے کچھ مطالبات کیے تھے۔ حامد خان کا مزید کہنا تھا کہ جنرل فیض حمید نے آئی ایس آئی ہیڈکوارٹرز سمیت گرین بیلٹس سے تجاوزات ہٹانے کا حکم واپس لینے کا کہا اور پاناما کیس پر بھی اثر انداز ہونے کی کوشش کی۔
یہ سن کر جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ تعجب ہے کہ آپ سے ڈی جی آئی ایس آئی نے ایسی بات کی، آپ کو غصہ آئی ایس آئی پر تھا اور آپ نے تضحیک عدلیہ کی کر دی۔ جسٹس عمر عطا بندیال نے مزید کہا کہ آپ کو اپنے ادارے کے تحفظ کے لیے کام کرنا چاہیے تھا، ان اداروں کا سوچیں جو عدلیہ کے تحفظ کے لیے کام کرتے ہیں۔ وکیل حامد خان نے کہا کہ بار بھی عدلیہ کے حفاظت کے لیے کام کرتی ہے، جس پر جسٹس عمر عطا بندیال بولے کہ معذرت کے ساتھ، بار کی اپنی ایک پالیسی ہے جس کے تحت وہ کام کرتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم مانتے ہیں کہ بار ججز کی معاونت کے لیے ہمیشہ موجود ہے اور بار کی تنقید کی وجہ سے جسٹس اقبال حمید الرحمٰن نے استعفی دیا، لیکن بار کئی مرتبہ جذباتی بھی ہو جاتی ہے۔
جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ آپ کسی اور بات سے ناخوش اور پریشان تھے اور آپ نے اپنے ادارے اور چیف جسٹس کی تضحیک کر دی، آپ خود تسلیم کر رہے ہیں کہ آپ کی ڈی جی آئی ایس آئی سے ملاقاتیں ہوئیں، آپ دو بار ان سے ملے آپ کے ان سے تعلقات تھے۔ اس پر کمرہ عدالت میں موجود معزول جج شوکت عزیز صدیقی نشست پر کھڑے ہو گئے اور کہا کہ میرے فوج میں کسی سے کوئی تعلقات نہیں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہر طرح کے خطرات کے باوجود میں اپنے خاندان کے ساتھ اسلام آباد میں مقیم ہوں۔ جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ ہم سب جانتے ہیں کہ آپ ایک دیانتدار شخص ہیں۔ اس موقع پر سابق جسٹس شوکت عزیز صدیقی عدالت میں جذباتی ہو گئے اور مزید کہا کہ میں نے تقریر دباؤ کو کم کرنے کے لیے کی، بدقسمتی سے میں دسمبر 2015 سے دباؤ میں ہوں۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ سابق چیف جسٹس ثاقب نثار اور جسٹس آصف سعید کھوسہ تو چاہتے ہی مجھے نکالنا تھے۔ جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ ہم آپ کی تقریر نہیں سننا چاہتے، آپ نے تو نام گنوانے شروع کر دیے۔ اسخے فوری بعد عمر عطا بندیال کھڑے ہو گے اور بولے کہ کیس کی سماعت غیر معینہ مدت تک کے لیے ملتوی کردی گئی ہے۔ یاد رہے کہ جسٹس شوکت صدیقی 30 جون 2010 کو ریٹائر ہو جائیں گے لیکن بحالی کیس میں سپریم کورٹ کے ججوں کے رویے سے نہیں لگتا کہ ان کو بحال کیا جائے گا۔
خیال رہے کہ شوکت عزیز صدیقی کو 21 جولائی 2018 کو ڈسٹرکٹ بار ایسوسی ایشن راولپنڈی میں ایک تقریر کے لیے بطور جج نامناسب رویہ اختیار کرنے پر آئین کے آرٹیکل 209 کے تحت سپریم جوڈیشل کونسل کی سفارشات پر جوڈیشل آفس سے ہٹا دیا گیا تھا۔ بعد ازاں شوکت عزیز صدیقی نے معاملے کو سپریم کورٹ میں چیلنج کردیا تھا اور ایک درخواست دائر کی تھی، جس پر ابتدا میں رجسٹرار آفس کی جانب سے اعتراضات لگائے گئے تھے تاہم فروری 2019 میں سپریم کورٹ نے رجسٹرار کے اعتراضات ختم کرتے ہوئے درخواست سماعت کے لیے منظور کرلی تھی۔ جس کے بعد ان کی اپیل پر سماعت تاخیر کا شکار ہوئی تھی جس پر انہوں نے نومبر 2020 کے اختتام پر چیف جسٹس پاکستان کو ایک خط بھی لکھا تھا، جس میں کیس کی سماعت جلد مقرر کرنے کی استدعا کی گئی تھی۔ بظاہر یہ ان کا تیسرا ایسا خط تھا جو درخواست گزار کی جانب سے کیس کی جلد سماعت کے لیے چیف جسٹس پاکستان کو لکھا گیا تھا۔ اس سے قبل 24 ستمبر کو سپریم کورٹ کے 5 رکنی بینچ کے سربراہ جسٹس عمر عطا بندیال نے شوکت عزیز صدیقی کی بطور جج برطرفی کے 11 اکتوبر 2018 کے نوٹیفکیشن کے خلاف درخواست کی سماعت کے دوران سابق جج کی نمائندگی کرنے والے سینئر وکیل حامد خان سے کہا تھا کہ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کیس کے حتمی فیصلہ کا انتظار کریں جو جلد ہی آنے والا ہوگا۔
بعد ازاں 23 اکتوبر کو جسٹس عیسیٰ کیس میں اکثریتی فیصلہ اور جسٹس یحییٰ آفریدی کا اختلافی نوٹ جاری کیا گیا جبکہ 4 نومبر کو جسٹس مقبول باقر اور جسٹس سید منصور علی شاہ کے اختلافی نوٹس جاری ہوئے تھے۔ خط میں اس بات پر بھی روشنی ڈالی گئی تھی کہ شوکت عزیز صدیقی 11 اکتوبر 2018 سے دفتر سے نکالے گئے اور انہیں دوبارہ ملازمت بھی نہیں دی گئی۔ ساتھ ہی انہوں نے لکھا تھا کہ یہ عالمی سطح پر قانون کا تسلیم شدہ اصول ہے کہ ’انصاف میں تاخیر انصاف سے انکار ہوتی ہے‘۔ یاد رہے کہ اگر جسٹس شوکت عزیز صدیقی کو برطرف نہ کیا جاتا تو وہ آج جسٹس اطہر من اللہ کی جگہ اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس ہوتے۔
