نائلہ کیانی بچے کی پیدائش کے چند ماہ بعد آٹھ ہزار میٹر کی چوٹی سر کرنے والی پہلی پاکستانی خاتون

نائیلہ کیانی،تصویر کا ذریعہ
آٹھ ہزار میٹر کی بلندی، منفی 15 ڈگری کی ٹھنڈ اور ہوا کا دباؤ اتنا تیز کے ساتھ اُڑا کر لے جائے۔

مگر ان مشکلات کے باوجود گاشر برم ٹو کی چوٹی پر پہلی بار ایک پاکستانی خاتون پہنچی۔ 8035 میٹر کی بلندی پر جانے سے چند ماہ قبل ہی انھوں نے اپنے دوسرے بچے کو جنم بھی دیا تھا۔

’میں باکسر اور فائٹر ہوں۔‘ یہ الفاظ نائلہ کیانی کے ہیں۔ ’مجھے پتا تھا میرے اندر اتنا حوصلہ موجود ہے کہ اپنی پہلی ہی مہم جوئی میں آٹھ ہزار میٹر کی چوٹی سر کرسکتی ہوں۔‘

نائلہ سے قبل اب تک کسی پاکستانی خاتون نے ملک میں موجود آٹھ ہزار میٹر کی پانچ چوٹیوں میں سے کوئی سر نہیں کی ہے۔

الپائن کلب آف پاکستان کے سیکریٹری کرار حیدری کے مطابق نائلہ اور ان کی ٹیم نے کوہ پیمائی کی دنیا میں تاریخ رقم کردی ہے۔

’وہ نہ صرف گاشر برم ٹو کو فتح کرنے والی پہلی پاکستانی خاتون کوہ پیما ہیں بلکہ وہ ایسی کوہ پیما بھی ہیں جنھوں نے اپنی پہلی مہم میں ہی آٹھ ہزار میٹر کی چوٹی فتح کی ہے۔‘

Back to top button