نواز شریف اورچودھری نثار کی ملاقات کی کوئی کوشش نہیں کی گئی

پاکستان مسلم لیگ (ن) پنجاب کے صدر رانا ثناء اللہ نے کہا ہے کہ نواز شریف اورچودھری نثار کی ملاقات کی کوئی کوشش نہیں کی گئی. نواز شریف کے آپریشن کے بعد مارچ میں شہباز شریف کی وطن واپسی کا پروگرام ہے جس کے بعد جمعیت علمائے اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کے گلے شکوے دور کریں گے۔ 24 فروری کو نوازشریف کا آپریشن ہے اور اُس وقت تک مریم نواز کا لندن جانا ممکن نظر نہیں آتا.
سابق وزیرِقانون پنجاب رانا ثناء اللہ آمدن سے زائد اثاثہ جات کیس میں نیب لاہور میں پیش ہوئے اور 2 گھنٹے تک وہاں رہے۔
پیشی کے بعد میں میڈیا سے گفتگو میں رانا ثناء اللہ کا کہنا تھا کہ منشیات اسمگلنگ کیس سراسرجھوٹ ہے، کوئی ویڈیو موجود نہیں، میرے تمام اثاثے اینٹی نارکوٹکس فورس نے منجمد کررکھے ہیں، نیب کو بتا دیا کہ جو جو چیزیں ملیں گی، پیش کردیں گے۔ سابق وزیراعظم نواز شریف کی صحت سے متعلق انہوں نے بتایا کہ 24 فروری کو نوازشریف کا آپریشن ہے اور اُس وقت تک مریم نواز کا لندن جانا ممکن نظر نہیں آتا، اگر یہ سیاسی انتقام جاری رہا تو ملک کو نقصان ہوگا۔ان کا کہنا تھا کہ والد کی تیمار داری مریم نوازکابنیادی حق ہے۔امید ہے عدالت انصاف کرے گی.
سابق وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار کی ملاقات کے حوالے سے رانا ثناءاللہ کا کہنا تھا کہ نواز شریف اور چوہدری نثار کی ملاقات کی کوئی کوشش نہیں ہوئی، اگر ہوئی ہے تو اس کا علم نہیں، سیاستدانوں کے رابطوں کو سازش کہنا غلط ہے۔ان کا مزید کہنا تھا کہ ان کے نہ صرف حکومتی جماعت کے رہنماوں سے رابطے ہیں بلکہ اتحادی جماعتیں بھی ان سے رابطے میں ہیں. شہباز شریف کی وطن واپسی سے متعلق ان کا کہنا ہے کہ پارٹی صدر شہباز شریف کی مارچ میں وطن واپسی کا پروگرام ہے جس کے بعد جمعیت علمائے اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کے گلے شکوے دور کریں گے۔کوشش ہے ن لیگ،پیپلزپارٹی اورجےیوآئی ف ایک جگہ پربیٹھیں.انہوں نے مزید کہا کہ میڈیا کو کنٹرول کرنے کی مذمت کرتے ہیں، اسمبلی فلور پر کوئی بل پاس نہیں ہونے دیں گے، موجودہ حکومت سےعوام تنگ ہیں۔ انہوں نے کہا کہ تبدیلی عوام نے دیکھ لی، موجودہ حکومت نے ملکی معیشیت کا بیڑہ غرق کر دیا گیا۔
واضح رہے کہ رانا ثنا انسداد منشیات کیس میں ضمانت پر ان دنوں جیل سے باہر ہیں، ان کے خلاف منشیات کنٹرول ایکٹ 1997 کے سیکشن 9 سی کے تحت ایف آئی آر درج کی گئی تھی۔
