نواز شریف اور چودھری شجاعت کے درمیان کیا کچھ طے پایا؟

نواز شریف کی چودھری شجاعت حسین کے ساتھ 15 سال بعد ہونے والی ملاقات نے ملکی سیاست میں ہلچل مچا دی ہے۔ لیگی حلقے دونوں بڑے سیاسی رہنماؤں کی ملاقات کو خاندانی ملاقات قرار دے رہے ہیں جبکہ مبصرین کا ماننا ہے کہ انتخابات کے قریب طویل عرصے بعد ہونے والی اس ملاقات میں انتخابی اتحاد، سیٹوں کی ایڈجسٹمنٹ سمیت متعدد امور پر تبادلہ خیال کیا گیا ہے۔مسلم لیگ ن کے قائد نواز شریف لاہور میں واقع چوہدری شجاعت کی رہائش گاہ پر 15 سال بعد پہنچے تو چوہدری خاندان میں بہت کچھ تبدیل ہو چکا تھا۔ چوہدری شجاعت کے دونوں صاحب زادوں چوہدری سالک اور چوہدری شافع نے ان کا استقبال کیا۔نواز شریف اس سے پہلے چودھری برادران کے گھر آخری بار سال 2009 کے فروری کے مہینے میں اس وقت تعزیت کرنے آئے تھے جب چوہدری شجاعت حسین کی والدہ کا انتقال ہوا تھا۔ اس وقت چوہدری شجاعت حسین اور چوہدری پرویز الٰہی نے ان کا دروازے پر استقبال کیا تھا۔

اس مرتبہ بڑھاپے اور بیماری کے باعث چوہدری شجاعت اپنے ڈرائنگ روم میں ہی رہے اور ان کے دونوں صاحب زادوں نے دروازے پر میاں نواز شریف کا استقبال کیا۔ساتھ ہی واقع چوہدری پرویز الٰہی کے گھر میں مکمل خاموشی تھی البتہ ان کے ملازمین نے بیرونی گیٹ کھولنے اور گاڑیوں کو پارک کروانے میں مدد کی۔ نواز شریف، مریم نواز اور شہباز شریف ایک قافلے کی صورت میں الگ الگ گاڑیوں میں چوہدری شجاعت حسین کے گھر پہنچے۔پاکستان کے مقامی میڈیا نے اس خبر کو بریکنگ نیوز کے طور پر نشر کیا اور اس کو سیاسی رنگ دینے کی کوشش کی کہ شاید یہ ن لیگ اور ق لیگ کے درمیان سیٹ ایڈجسٹمنٹ کے حوالے سے ایک سیاسی ملاقات ہے۔تاہم اس ملاقات میں شریک سینیٹر اعظم نذیر تارڑ کے مطابق یہ ملاقات خالصتا دو خاندانوں کے درمیان ایک ذاتی نوعیت کی ملاقات تھی۔ اور نواز شریف خود چل کر چوہدری شجاعت کی طبیعت دریافت کرنا چاہتے تھے کیونکہ وہ ایک عرصہ علیل رہے ہیں۔چالیس منٹ تک جاری رہنے والی ملاقات میںچوہدری شجاعت نے اس بات کا اعادہ کیا کہ ’ہم پہلے بھی میاں صاحب کے ساتھ تھے اب بھی ہیں اور آئندہ بھی رہیں گے۔

سیٹ ایڈجسٹمنٹ کے حوالے سے چلنے والی خبروں سے متعلق اعظم نزیر تارڑ کا کہنا تھا کہ یہ باتیں تو تب کی طے ہو چکی ہیں جب ق لیگ نے پی ڈی ایم کے ساتھ اتحادی حکومت میں شمولیت کی تھی۔ اور جو طے ہوا تھا ویسے ہی ہو گا۔‘خیال رہے کہ شریف خاندان اور چوہدری خاندان کے درمیان سیاسی دوریاں بھی البتہ تاریخ کا حصہ ہیں۔ سابق صدر مشرف کے مارشل لا کے بعد جب ق لیگ اسٹیبلشمنٹ کی کنگز پارٹی بن کر سامنے آئی تو چوہدری برادران نے ن لیگ کو خیرباد کہا اور پانچ سال تک حکومت کی جب شریف برادران پہلے جیل گئے اور پھر ملک بدر کیے گئے۔

دونوں خاندانوں کے درمیان برف پگھلنے اور تعلقات کے دوبارہ استوار ہونے میں دو دہائیوں کا وقت لگا۔ لیکن اس تعلق کی استواری میں بھی چوہدری خاندان خود بکھر گیا۔ چوہدری پرویز الٰہی اور ان کے صاحبزادے مونس تحریک انصاف کو پیارے ہو گئے تو چوہدری شجاعت نے شریف خاندان کے تعلق کو وہیں سے شروع کیا جہاں سے منقطع ہوا تھا۔سیاسی مبصرین کے مطابق آئندہ انتخابات میں ق لیگ کے ن لیگ کے ساتھ حصہ بقدرے جثہ کے اصول کے تحت معاملات پہلے ہی طے ہیں۔سیاسی تجزیہ کار سلمان غنی کے مطابق ’ابھی تک کی اطلاعات کے مطابق تو ق لیگ اور ن لیگ کے درمیان دو قومی اور تین صوبائی اسمبلیوں کی نشستوں پر معاملات طے ہیں، بہاولپور اور خانیوال کی نشست ق لیگ کو مل چکی ہے لیکن ق لیگ گجرات سے چوہدری راسخ الہی کے لیے ایک اور نشست مانگ رہی ہے۔ اس پر ابھی ن لیگ نے کوئی فیصلہ نہیں کیا کیونکہ کوٹلہ کی سیٹ پر ن لیگ کے پاس اپنے بہترین امیدوار ہیں۔‘ان کا مزید کہنا تھا کہ انتخابی معاملات تو چلتے رہیں گے لیکن نواز شریف کی چوہدری شجاعت کے گھر آمد سے چوہدری پرویز الٰہی کی پوزیشن مزید کمزور ہوئی ہے۔

دوسری جانب ذرائع کا دعویٰ ہے کہ  مسلم لیگ ق نے مسلم لیگ ن سے پنجاب میں بھرپور حصہ مانگ لیا۔ مسلم لیگ ق نے پنجاب بھر سے قومی اسمبلی کی 10 سے زیادہ اور صوبائی اسمبلی کی 22 نشستیں مانگ لی ہیں جبکہ مسلم لیگ ق نے گجرات، سیالکوٹ، منڈی بہاؤالدین اور حافظ آباد میں سیٹ ایڈجسٹمنٹ کا بھی مطالبہ کر دیا ہے۔ذرائع کے مطابق چوہدری شجاعت نے نوازشریف سے کہا کہ 2018 میں جہاں جہاں سے مسلم لیگ ق کے امیدوار کامیاب ہوئے تھے وہ نشستیں دوبارہ ہمیں دی جائیں۔انہوں نے کہاکہ مسلم لیگ ن کو ہمیں زیادہ سے زیادہ جگہ دینی چاہیے۔ ہم مل جل کر پنجاب میں پی ٹی آئی، پیپلزپارٹی اور آئی پی پی کا مقابلہ کر سکتے ہیں۔چوہدری شجاعت نے کہا کہ مسلم لیگ کا ووٹ ن یا ق کے چکر میں ضائع نہیں ہونا چاہیے، مل کر چلنے میں برکت ہو گی۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ نواز شریف نے چوہدری شجاعت حسین کی تجاویز و مطالبات پر فوری ردعمل دینے سے گریز کیا اور سارے معاملات پر دونوں پارٹیوں کی مشرکہ کمیٹی بنانے کی تجویز دی۔ذرائع کے مطابق دونوں جماعتوں کی مشترکہ کمیٹی آئندہ چند روز میں تشکیل دے دی جائے گی جو سیٹ ایڈجسٹمنٹ کے تمام تر معاملات پر دونوں جماعتوں کی اعلیٰ قیادت کو تجاویز دے گی۔

Back to top button