نور جہاں کے گھر کو میوزیم میں تبدیل کیا جانا چاہیے

پاکستان کے معروف اداکار شان شاہد نے کہا ہے کہ حکومت کو ملکہ ترنم نور جہاں کے گھر کو میوزیم میں تبدیل کرنا چاہیے۔
خیال رہے کہ گزشتہ دنوں حکومت نے خیبرپختونخوا میں تاریخی مقامات کی بحالی کے لیے 5 کروڑ روپے مختص کرنے کا اعلان کیا تھا۔
جن تاریخی مقامات کی بحالی کے لیے رقم مختص کی گئی تھی ان میں بالی ووڈ کے لیجنڈری اداکاروں راج کپور اور دلیپ کمار کے آبائی گھر بھی شامل تھے۔راج کپور اور دلیپ کمار کے علاوہ پشاور میں شاہ رخ اور ونود کھنہ سمیت دیگر بالی ووڈ اداکاروں کے بھی آبائی گھر موجود ہیں۔اس خبر پر اداکار شان شاہد نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر کیے گئے ٹوئٹ میں کہا کہ افسوس میڈم نور جہاں کا گھر پلازہ بن گیا ہے، ہمارے لیجنڈز بھی اس کے حقدار ہیں۔ شان شاہد کی ٹوئٹ پر ادکار واسع چوہدری نے اپنے ٹوئٹ میں نشاندہی کی کہ نور جہاں نے وہ گھر اپنی مرضی سے فروخت کیا تھا جب کہ ان کا دوسرا گھر مکمل طور پر ایک الگ کہانی ہے۔جس کے جواب میں شان شاہد نے کہا کہ حکومت کو اس گھر کی ادائی کرنی چاہیے تھی اور اسے میوزیم میں تبدیل کرنا چاہیے تھا۔ تاہم واسع چوہدری ان کی اس بات سے متفق نہیں ہوئے اور لکھا کہ میں آپ سے اختلاف کرتا ہوں، حکومت نے میڈم نور جہاں کو سول ایوارڈز اور دیگر اعزازات سے ان کی زندگی میں ہی نواز دیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ یہ گھر ان کی نجی ملکیت تھا اور ان کا گھر خریدنے کا (خاص طور پر اس وقت جب انہیں رقم کی ضرورت بھی نہیں تھی) کوئی جواز نہیں بنتا اور ہمارے ملک کی معاشی صورت حال بھی ایسی نہیں تھی۔
خیال رہے کہ ملکہ ترنم نور جہاں 23 دسمبر 2000 کو 74 برس کی عمر میں انتقال کر گئی تھیں۔
انہیں 1957 میں انہیں شاندار پرفارمنس کے باعث حکومت کی جانب سے صدارتی ایوارڈ تمغۂ امتیاز اور بعد میں پرائیڈ آف پرفارمنس سے بھی نوازا گیا تھا۔ نور جہاں نے مجموعی طور پر 10 ہزار سے زائد غزلیں و گیت گائے تھے جن میں ان کا سب سے پہلا گانا مجھ سے پہلی سی محبت میرے محبوب نہ مانگ بے پنا ہ ہٹ ہوا جس نے ملکۂ ترنم کو کامیابیوں کے نئے سفر پر گامزن کر دیا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button