نیا پاکستان ہاؤسنگ سکیم ناکام، منصوبہ ہی شروع نہ ہو سکا

وزیراعظم عمران خان کے ایک برس پہلے نیا پاکستان ہاؤسنگ منصوبے کا سنگ بنیاد رکھنے کے باوجود ابھی تک اس پراجیکٹ پر تعمیراتی کام کا بھی آغاز نہیں ہوسکا لہذا پنجاب میں 25 لاکھ گھر بنانے کا منصوبہ ناکام ہوتا نظر آتا ہے۔
حکومتی ذرائع نے انکشاف کیا ہے کہ ابھی تک نیا پاکستان ہاؤسنگ منصوبے کے پی سی ون کی بھی منظوری نہیں دی گئی جس کے باعث رواں مالی سال کے دوران پنجاب میں نیا پاکستان ہاؤسنگ منصوبے کی تعمیر شروع ہونے کے امکانات ختم ہوگئے ہیں۔ ذرائع کے مطابق پنجاب میں وزیراعظم ہاؤسنگ منصوبے میں بار بار تبدیلیاں کی گئیں جس سے نیا ہاوسنگ منصوبے میں تاخیر ہوئی ہے ۔ لے آوٹ پلان اور شرائط بھی متعدد بار تبدیل ہوتی رہیں جس سے خریدار اور درخواست گزار بھی کنفیوژڈ ہوگئے اور پنجاب میں اس منصوبے کا کوئی مناسب رسپانس نہیں آسکا۔ اس منصوبے کا نئی شرائط کے ساتھ تین بار اشتہار دیا گیا۔پہلے 20 فیصد ڈاون پیمنٹ اور دو سال میں قسطوں کی ادائیگی کی شرط رکھی گئی تھی۔ اس پر رسپانس نہ آیا اور نہایت کم درخواستیں موصول ہوئیں ۔قرعہ اندازی کے بعد ڈاؤن پیمنٹ کا مرحلہ آیا تو رسپانس مزید کم ہوگیا۔ اس پر حکومت کی جانب سے 20 فیصد ڈاون پیمنٹ کی شرط کم کر کے 10 فیصد کر دی گئی اور قسطوں کی ادائیگی کی مدت دو سال کی بجائے چھ سال کر دی گئی ۔تین اور چار بیڈ روم والے گھر بھی ختم کر دئیے گئے اب صرف ایک بیڈ اور دو بیڈ رومز والے سنگل سٹوری گھر تعمیر ہوں گے۔ تاہم ذرائع کے مطابق شرائط میں نرمی اور مراعات کے باوجود بھی اس منصوبے میں عوامی رسپانس نہیں بڑھ سکا اور یہ منصوبہ مکمل ناکامی سے دوچار ہوتا نظر آرہا ہے۔
وزیراعظم عمران خاں نے اوکاڑہ رینالہ خورد میں 800 گھروں کی تعمیر کیلئے جس منصوبے کا سنگ بنیاد رکھا وہاں صرف 385 درخواست گزاروں نے ڈاؤن پیمنٹ جمع کروائی پچاس فیصد سے زائد درخواست گزار نیا پاکستان منصوبے کے گھروں کی خریداری سے دستبردار ہوگئے ۔ جس پر فاٹا ڈیپارٹمنٹ نے آٹھ سو کی بجائے چار سو گھروں کی تعمیر کا پی سی ون بنایا ہے ۔ اسی طرح لودھراں میں 870 گھر بنائے جانے تھے جن کیلئے صرف 623 درخواستیں موصول ہوئیں اور صرف 80 درخواست گزاروں نے ڈاون پیمنٹ جمع کروائی ہے جس پر اس سکیم میں صرف 200 گھروں کی تعمیر کا پی سی ون بنایا گیا ہے ۔ چشتیاں میں 1300 گھر بنانے کا منصوبہ دیا گیا تھا لیکن ان کیلئے صرف 94 درخواستیں آئیں ۔ اب چشتیاں کے منصوبے پر کام روک دیا گیا ہے اور نئے سرے سے درخواستیں حاصل کی جائیں گی ۔
اس طرح قائد آباد خوشاب میں 790 افراد کو گھر آلاٹ کئے گئے جن میں سے صرف 210 افراد نے ڈاون پیمنٹ جمع کروائی ہے ۔بھکر میں 153 گھر بنائے جائیں گے جن میں سے صرف 27 افراد نے ڈاون پیمنٹ جمع کروائی ہے ۔پی ٹی آئی کی حکومت صوبائی دارلحکومت لاہور میں بھی دو سال میں نیا پاکستان ہاوسنگ کا منصوبہ دینے میں ناکام رہی ہے ۔کالا شاہ کاکو میں سستے گھروں کیلئے پانچ سو اور ڈیڈھ سو ایکٹر پر مشتمل دو منصوبوں کا اعلان کیا گیا لیکن ان دونوں منصوبوں کیلئے ابھی تک زمین کے حصول کیلئے سیکشن 4 کا نوٹیفیکشن بھی جاری نہیں ہوسکا ۔اسی طرح گوجرانوالہ ایمن آباد روڈ پر 300 ایکٹر اراضی کی ایکوزیشن کا نوٹیفیکشن بھی جاری نہیں ہوسکا ۔ سیالکوٹ میں 208 ایکٹر پر مشتمل ایریا ڈویلپمنٹ سکیم 2017 میں بنائی گئی لیکن پی ٹی آئی کی حکومت اب تک چار بار اس منصوبے کا لے آوٹ پلان تبدیل کر چکی ہے اور اس کا پی سی ون بھی منظور نہیں ہوسکا ۔
جہلم میں آشیانہ کیلئے مختص سکیم کو اب نیا پاکستان ہاؤسنگ منصوبے میں ٹرانسفر کر دی گئی ہے ۔ واضح رہے کہ رینالہ ، لودھراں ، چیشتیاں ،بھکر ، خوشاب ، لیہ ، جہلم اور دیگر مقامات پر سابق شہباز شریف دور میں ایریا ڈویلپمنٹ سکیم کے طور پر 5 مرلہ ، 7 مرلہ ، 10 مرلہ اور ایک کنال پلاٹوں کی تقسیم کیلئے بنایا گیا تھا۔ان سکیموں میں سیوریج ،سڑکوں ، سٹریٹ لائیٹس اور چار دیواری سمیت دیگر ترقیاتی کام مکمل تھے لیکن پی ٹی آئی کی حکومت نے ان سکیموں کو نیا پاکستان ہاؤسنگ کے تحت گھر 3 مرلہ اور 5 مرلہ گھر بنانے کیلئے مختص کر دیا ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button