نیب ترامیم: حکومت اور اپوزیشن کے درمیان مُذاکرات ناکام

وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے قومی اسمبلی کے اجلاس میں کہا ہے کہ اپوزیشن کی طرف سے پیش کی گئیں نیب ترامیم قابل قبول نہیں ہیں، جبکہ اپوزیشن کا کہنا ہے کہ اس نے اس حوالے سے بنائی گئی پارلیمانی کمیٹی سے واک آؤٹ کیا ہے۔
منگل کو ہونے والے اجلاس میں وزیر خارجہ نے کہا کہ بین الاقوامی فورمز پر پاکستان کو ایف اے ٹی ایف کی گرے لسٹ سے نکالنے کے لیے سفارتی کوششیں کی گئیں، اور چار ایسے بل ہیں جس پر ہم نے قانون سازی کرنی ہے۔
شاہ محمود قریشی نے کہا کہ ’ہماری کوشش ہے کہ ہم پاکستان کے مفاد کے لیے اپوزیشن کے ساتھ مل کر قانون سازی کریں، اور اس حوالے سے 25 رکنی پارلیمانی کمیٹی برائے قانون سازی تشکیل پائی ہے جس میں حکومتی اور اپوزیشن کے ممبران شامل ہیں۔ تاہم ان کا کہنا تھا کہ اپوزیشن نے ایف اے ٹی ایف کے ساتھ نیب کے حوالے سے قانون سازی کو مشروط کیا جو ان کے لیے حیران کن بات تھی، اپوزیشن بطور پیکج ڈیل کرنا چاہتی ہے۔
شاہ محمود قریشی کے مطابق ’ان نشستوں میں اپوزیشن نے کہا کہ حکومت واضح کرے کہ وہ کیا چاہتی ہے۔ ہم نے اپنا موقف پیش کیا، لیکن اپوزیشن نے کہا کہ اس پر پیش رفت ممکن نہیں۔ اگر آپ کو ہمارا مسودہ موزوں دکھائی نہیں دیتا تو وہ اس کا حل بتا دیں۔‘’اپوزیشن نے ایک مسودہ ہمارے سامنے رکھا اور اس میں 35 تجاویز میں ترامیم کا کہا۔ ہماری قانونی ٹیم نے اسے شق وار سمجھا اور وزیر اعظم کو پیش کیا۔‘
وزیرخارجہ نے کہا کہ ’میں واضح کرنا چاہتا ہوں کہ اپوزیشن کی طرف سے نیب قانون میں مجوزہ 35 ترامیم کرنا ممکن نہیں کیونکہ اس طرح احتساب کا یہ قانون بے معنی ہو جائے گا۔‘ان کے بقول ایف اے ٹی ایف کے حوالے سے منی لانڈرنگ اور ٹیرر فنانسنگ دو اہم موضوعات ہیں۔ اپوزیشن کے مطالبے کو تسلیم کرنا ملکی مفاد کے لیے نقصان کا باعث بن سکتا ہے۔ اپوزیشن کو اس پر نظرثانی کرنی چاہیے۔ ’میں بطور وزیر خارجہ ایک دفعہ پھر اپوزیشن سے گزارش کروں گا کہ ایف اے ٹی ایف اور نیب قانون کو الگ الگ کر کے دیکھیں۔‘
دوسری طرف متحدہ اپوزیشن نے منگل کو اسلام آباد میں ایک مشترکہ نیوز کانفرنس کرتے ہوئے کہا اس نے نیب ترامیم منظور نہ ہونے پر پارلیمانی کمیٹی سے واک آؤٹ کیا ہے۔ سابق وزیراعظم شاہد خاقان نے کہا کہ ’کل ہم نے نیب کے لیے جو ترامیم رکھیں، آج جب میٹنگ ہوئی تو حکومت نے بتایا کہ ہم اپوزیشن کی ترامیم سے اتفاق نہیں کرتے۔ ہم نے اب کمیٹی سے معذرت کر لی ہے۔ حکومت نیک نیتی سے نہیں کر رہی ہے، لہٰذا ہم اب کمیٹی سے واک آؤٹ کر چکے ہیں۔‘انہوں نے کہا کہ ’ہم نے سپریم کورٹ کی ہدایات کے مطابق حکومت سے کہا کہ یہ ترامیم نیب بل میں ہونی چاہییں، اب ہمیں بتایا گیا ہے کہ حکومت ان ترامیم سے راضی نہیں ہے۔ اب ہماری مشاورت اے پی سی میں ہوگی۔‘
نیب آرڈیننس میں ترمیم پر اپوزیشن نے حکومت سے مزید مذاکرات کرنے سے انکار کرتے ہوئے پارلیمانی کمیٹی برائے قانون سازی کا بائیکاٹ کردیا۔ اسلام آباد میں اپوزیشن رہنماوں کی مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے رہنما مسلم لیگ شاہد خاقان عباسی کا کہنا تھا کہ حکومت اور اپوزیشن میں اتفاق رائے ہوا تھا کہ پارلیمان کے اسی سیشن میں نیب ترامیم پر بل پاس کرایا جائے گا لیکن حکومت نے نیب قانون میں ہماری ترامیم مسترد کر دیں. شاہد خاقان عباسی کا کہنا ہے کہ حکومت کو نیب قانون میں اپنی ترامیم پیش کیں حکومت نے مسترد کر دیں۔ حکومت انتقامی کارروائیاں کررہی ہے اب مذاکرات نہیں کریں گے۔ پارلیمانی کمیٹی کا بائیکاٹ اس لئے کیا کہ حکومت نیب ترامیم پر سنجیدگی اور نیک نیتی سے بات نہیں کر رہی ہے۔ شاہد خاقان عباسی کا مزید کہنا تھا کہ حکومت نیب قانون میں ہماری ترامیم مسترد تو کر رہی ہے لیکن یہ نہیں بتا رہی کہ اسے کون سی ترامیم پسند نہیں ہیں. حکومت نے ہماری تجاویز ماننے سے انکار کردیا اور اب متفقہ فیصلہ عید کے بعد اے پی سی میں ہوگا۔انہوں نے کہا کہ پچھلے ہفتے حکومت نے کہا ہم 4 بلوں کوقومی اسمبلی اور سینیٹ دونوں سے متفقہ منظور کرواناچاہتے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ ان میں دوبل انسداد دہشت گردی ایکٹ میں ترمیم، ایک بل اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے ایکٹ اور ایک قومی احتساب بیورو (نیب) کے قانون میں ترامیم سے متعلق تھا۔ سابق وزیراعظم نے کہا کہ ہم نے حکومت سے کہا تھا کہ اگر یہ بل قومی مفاد میں ہے تو ہم حاضر ہیں اور ان بلوں پر پارلیمنٹ کی کمیٹی بنی جو منفرد بات تھی کیونکہ اس سے قبل اٹھارویں ترمیم کے لیے کمیٹی بنی تھی اورمیرے خیال میں اس کے علاوہ پارلیمانی کمیٹی کی مثال نہیں ملتی۔ان کاکہنا تھا کہ بلوں پر ایک چھوٹی کمیٹی میں بات شروع ہوئی اور حکومت نے انسداد دہشت گردی میں ترمیم کا ایک بل پیش کیا جو خوفناک بل تھا، جس پر ہم نے حکومت سے کہا کہ اگر یہ بل منظور کریں گے تو پھر پاکستان ایک جمہوریت نہیں رہے گا بلکہ بدترین آمریت بن جائے گا۔انہوں نے کہا کہ اس بل پر کافی بحث ہوئی لیکن ہم نے واضح کیا کہ اس کی حمایت کسی صورت نہیں کرسکتے، جس پر بل کو واپس لیا گیا۔
شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل سے متعلق جو بل تھا اس پر ہم نے ایک ترمیم تجویز کی جس کو قبول کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ انسداد دہشت گردی سے متعلق دوسرے بل کا مسودہ زیربحث ہے جس کے لیے ہم نے تجاویز دی ہیں۔ مسلم لیگ (ن) کے رہنما نے کہا کہ حکومت نیب کا جو بل لے کر آئی تھی وہ اس سے پہلے بھی دو مرتبہ پیش کیا گیا تھا اور اس میں چیئرمین نیب، ڈائریکٹر اور دیگر کی توسیع کا بل بھی تھا جو واپس لیا گیا دوسرے میں قانون شہادت سے متعلق شقیں تھیں جس کو ہم نے منظور نہیں کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ پھر فیصلہ ہوا کہ نیب کے آرڈیننس پر سیکشن وار بحث ہوگی اور نیب کا ایک نیا بل تجویز ہوگا اور اس سے متعلق کل بحث ہوئی اور جائزہ لیا گیا کہ یہ تجاویز سپریم کورٹ،اسلامی نظریاتی کونسل کی ہدایات کے مطابق ہیں یا نہیں۔ اپوزیشن رہنما نے کہا کہ ہم نے مناسب تجاویز حکومت کو دیں اور آج ہمیں بتایا گیا کہ حکومت ان ترامیم سے اتفاق نہیں کرتی پھر ہم نےواضح کیا کہ یہ بل حکومت لائی تھی اور اس کو یہ تجاویز منظور نہیں تو ہم آگے نہیں چل سکتے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت خیرسگالی کے طور پر بات نہیں کررہی اور مزید بات نہیں ہوسکتی اس لیے ہم نے اس کمیٹی کے اجلاس سے واک آؤٹ کیا اور اب فیصلہ کیا کہ جو کچھ کرنا ہے وہ عید کے بعد اے پی سی کے فورم سے بات ہوگی.
پاکستان پیپلزپارٹی (پی پی پی) کی سینیٹر شیری رحمٰن نے شاہد خاقان عباسی کی تائید کرتے ہوئے کہا کہ پیپلزپارٹی بھی یہی مؤقف رکھتی ہے اور وسیع ترمفاد کی خاطر شروع دن سے بڑی کوشش کی۔حکومت کو مخاطب کرکے انہوں نے کہا کہ پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ (ن) نے ان سے یہی کہا کہ پارلیمنٹ کو فعال بنائیں لوگوں کو حوصلہ دیں اور عوام کو اتحاد کا پیغام دیں۔ان کا کہنا تھا کہ کورونا ہو یا کشمیر یا کوئی اور مسئلہ درپیش ہوتو ہم پاکستان کے لیے ایک ساتھ کھڑے ہوتے ہیں، اس وقت ہم سے 4 بلوں پر بات کی گئی اور اس کو اے پی سی میں زیربحث لائیں گے۔
خیال رہے کہ نیب قوانین میں ترمیم کے لیے اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر نے گزشتہ ہفتے پارلیمانی کمیٹی کی منظوری دی تھی۔قومی اسمبلی سیکریٹریٹ کی جانب سے پارلیمانی کمیٹی برائے قانون سازی کا نوٹی فکیشن جاری کردیا گیا تھا، جس میں مجموعی طور پر 24 اراکین پارلیمنٹ شامل ہوں گے۔نوٹی فکیشن میں کہا گیا تھا کہ وزیر خارجہ امور مخدوم شاہ محمود قریشی کمیٹی کے چیئرمین ہوں گے۔پارلیمانی کمیٹی برائے قانون سازی کا قیام قومی اسمبلی اور سینیٹ سے منظور کردہ تحاریک کے تحت عمل میں لایا گیا ہے اور یہ کمیٹی متعلقہ قائمہ کمیٹیوں کی طرف سے پاس کردہ انسداد دہشت گردی ترمیمی بل 2020 اور اقوام متحدہ (سلامتی کونسل) ترمیمی بل 2020 پر غور کرے گی۔
ادھر منگل ہی کو لاہور میں مسلم لیگ ن کے صدر اور اپوزیشن لیڈر شہباز شریف اور پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کے درمیان ملاقات ہوئی جس کے نیوز کانفرنس کرتے ہوئے مسلم لیگ (ن) کے صدر نے کہا کہ حکومت نے معیشت کو بے پناہ نقصان پہنچایا ہے اور جی ڈی پی کی صورت حال ابتر ہو چکی ہے۔ان کا کہنا تھا کہ ’کورونا کی وبا سے لاکھوں لوگ جان سے چلے گئے، دنیا میں چیزوں کی قیمتیں گریں لیکن پاکستان میں آسمان سے باتیں کر رہی ہیں۔ اس حکومت کے یُو ٹرن نے سرمایہ کاروں کو تباہ کردیا ہے۔‘شہباز شریف نے کہا کہ عید کے بعد رہبر کمیٹی کی میٹنگ ہوگی اور اے پی سی میں ایجنڈے کا اعلان ہوگا۔
بلاول بھٹو کا کہنا تھا کہ ’عمران خان کی سلیکٹڈ حکومت اس وقت خطرہ ہے اور اپوزیشن جماعتیں آج ایک پیج پر ہیں۔ ہم ن لیگ کے ساتھ مل کر پاکستان کے عوام کے لیے کھڑے ہوں گے، اور اے پی سی میں بیٹھ کر لائحہ عمل بنائیں گے۔‘شہباز شریف نے کہا کہ ’حکومت کے نمائندوں کے ساتھ جو بات چیت ہو رہی تھی، ہم بھیک یا کسی طرح کا ریلیف نہیں مانگ رہے تھے۔ نیب نیازی گٹھ جوڑ کو پوری دنیا نے دیکھا۔‘ بلاول بھٹو کا کہنا تھا کہ ’میں حیران ہوں کہ شاہ محمود قریشی نیب پر بات کر رہے ہیں، کلبوشن جادو پر بات کیوں نہیں کرتے۔ حکومت کا نیب آرڈیننس ناکام ہوچکا ہے۔‘انہوں نے کہا کہ ’اب دھرنے کی ضرورت نہیں پڑے گی، ہم آدھے راستے میں پہنچیں گے اور حکومت گھر چلی جائے گی۔‘شہباز شریف نے کہا کہ ’بلاول کے جوان کندھوں پر ذمہ داری ڈالی ہے یہ ہمیں لیڈ کریں گے۔‘