نیب قانون میں ترمیم کے بعد سینکڑوں ملزمان نے ریلیف مانگ لیا

کپتان حکومت کی جانب سے اپنے حکومتی ساتھیوں کو ریلیف دلوانے کی غرض سے متعارف کروائے گئے قومی احتساب بیورو ترمیمی آرڈیننس 2019 کے تحت ریلیف مانگنے والوں کی قطار شیطان کی آنت کی طرح لمبی ہوتی جا رہی ہے اور دو ماہ سے بھی قلیل عرصے میں 100 سے زائد افراد نے نئی ترمیم کے تحت ریلیف کے لیے اپلائی کر دیا ہے۔
نیب کے زیر عتاب بیوروکریٹس اور سیاستدانوں کی ایک بڑی تعداد نے اس آرڈیننس کے تحت اپنے کیسز ختم کرنے کی کوششیں شروع کر دی ہیں لیکن اب تک صرف 3 افراد عدالتوں سے ریلیف حاصل کرنے میں کامیاب ہوئے ہیں جن کی درخواستیں نمٹاتے ہوئے انہیں بری کردیا گیا ہے۔ جو لوگ بدعنوانی کے الزامات سے بری ہوئے ان میں سابق وزیراعظم راجہ پرویز اشرف، سمٹ بینک کے سابق صدر بلال شیخ اور پاکستان الیکٹرک پاور کمپنی پیپکو کے سابق منیجنگ ڈائریکٹر رسول خان محسود شامل ہیں۔
خیال رہے کہ نیب ترمیمی آرڈیننس 2019 صدر عارف علوی کے دستخط کے بعد 27 دسمبر 2019 سے نافذ کیا گیا تھا تاکہ بیوروکریسی اور تاجر برادری کو تحفظ فراہم کیا جاسکے۔ ریلیف کی درخواست دینے والے نمایاں اشخاص میں سابق وفاقی وزیر شوکت ترین، سابق صوبائی وزیر شرجیل انعام میمن، سابق وفاقی وزیر اکرم خان درانی، نیب راولپنڈی کے سابق ڈائریکٹر جنرل کرنل (ر) صبح صادق، سکندر حیات میکن، اعجاز ہارون، لیاقت علی جتوئی، خورشید انور بھنڈر، فخر زمان اور طاہر بشارت چیمہ شامل ہیں۔ دستاویز میں منی لانڈرنگ اور جعلی اکاؤنٹس کیس کے مرکزی ملزم عبدالغنی مجید اور ان کی اہلیہ مناہل مجید کا نام بھی اس کیس سے بریت کی درخواست کرنے والوں میں درج ہے۔
یہ گمان کیا جا رہا ہے کہ اگر عبدالغنی مجید اور ان کی اہلیہ مناہل مجید عدالت سے ریلیف حاصل کرنے میں کامیاب ہوگئے تو کیس میں نامزد چیئرمین پیپلزپارٹی بلاول بھٹو زرداری، سابق صدر آصف علی زرداری، ان کی ہمشیرہ فریال تالپور، وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ، سابق وزیراعلیٰ قائم علی شاہ، موجودہ صوبائی وزیر انور سیال اور بحریہ ٹاؤن کے مالک ملک ریاض سمیت 170 افراد بھی عدالتوں سے ریلیف حاصل کرنے میں کامیاب ہوجائیں گے۔
نیب کی فہرست کے مطابق جن افراد نے نئے آرڈیننس کے تحت اپنے کیسز چیلنج کیے ہیں ان میں ایم حسین، ایم عمار ادریس، غلام مرتضیٰ ملک، وزیر علی بایو، ایم رضی عباس، ایم سلیم عارف، اقبال علی شاہ، ایم رفیق بٹ، جاوید نذیر، نعیم خان، شفیق زمان، اسد محمود، این اے زبیری، چوہدری رشید احمد، ایم حسین سید، متانت علی، آفتاب احمد، انور عباسی، ایم اسلم، راحیل بشیر، عثمان بشیر، طارق حسن گیلانی، عبدالمجید علوی، کامران سعید، راجہ ایم اسحٰق، ایم سہیل اسحٰق، ایم سلیمان، مظہر حسین، ہمایوں فیض رسول شامل ہیں۔
فہرست کے مطابق ریلیف مانگنے والوں میں کرنل (ر) وکیل خان آفریدی، عبدالشفیق جاوید فیروز، شاہد فیروز، خالد فیروز، رضوان فیروز، سلطان آفرین، شمس العارفین، قدیر باٹلے، ایم علی جاوید، ایم مسعود رضا، عبدالسلام شیخ، عاصم رضا، امان اللہ، شبنم افتخار، محمد سلیم، شمائلہ محمود، مسعود چشتی، حسن علی میمن، رسول بخش پھلپوٹو، ریاض احمد، عابد سعید اور غلام شبیر شامل ہیں۔ اس ضمن میں اسپیشل انیشی ایٹو ڈپارٹمنٹ سندھ کے سابق ڈائریکٹر حسن علی میمن نے 8 جنوری کو بریت کی درخواست دائر کی تھی۔ دوسری جانب نندی پور پاور پلاٹ ریفرنس میں نامزد ملزمان شمائلہ محمود اور مسعود چشتی نے 8 جنوری کو بریت کی درخواست دائر کی تھی جبکہ تحریک انصاف کے قانونی مشیر ڈاکٹر بابر اعوان بری ہوچکے ہیں۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق سابق وزیراعظم راجہ پرویز اشرف بھی پاور پلانٹ کے قیام میں تاخیر سے متعلق اس ریفرنس میں ملزم ہیں ۔

تاہم دوسری طرف نیب کے ذرائع کا کہنا ہے کہ ریلیف کے لیے بڑھتی ہوئی درخواستوں کی تعداد نے انسداد بدعنوانی کے ادارے میں بے چینی پیدا کردی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ بدعنوان افراد کو آرڈیننس کے تحت اس طرح ریلیف دلوانے سے بہتر تھا کہ نیب کے ادارے کو ہی ختم کر دیا جاتا.

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button