وزارت پیٹرولیم زیادہ نرخ پر تیل کی خریداری کی خواہش مند

وزارت پیٹرولیم نے ایک خطرناک اقدام کے تحت تیل کی مجموعی درآمدات کے 20 فیصد استحکام کے لیے اور اس زیادہ شرح کی قیمت صارفین تک منتقل کرنے کےلیے تیل کی خریداری موجودہ کم قمیت کے مقابلے میں 8 سے 15 ڈالر فی بیرل زیادہ نرخ پر خریدنے کی خواہش کا اظہار کیا ہے۔
کابینہ کی اقتصادی رابطہ کمیٹی(ای سی سی) کو ارسال کی گئی سمری میں وزارت پیٹرولیم نے کہا ہے کہ یہ تجویز خام تیل کی قیمتوں سے براہ راست یا بالواسطہ منسلک پاکستان کی پیٹرولیم مصنوعات کی درآمدت کے کچھ حصے کو مستحکم کرے گی۔
اس میں خام تیل، موٹر گیسولین، ہائی اسپیڈ ڈیزل اور اس کے ساتھ ساتھ لیکویفائیڈ نیچرل گیس (ایل این جی) بھی شامل ہے۔ مذکورہ تجویز کو اسٹینڈرڈ چارٹرڈ بینک، سٹی بینک، حبیب بینک اور جے پی مورگن سے مشاورت کے بعد حتمی شکل دی گئی۔ پاکستان اسٹیٹ آئل(پی ایس او) کے سابق منیجنگ ڈائریکٹر نے کہا کہ تجویز کے تحت پاکستان اور اس کے صارفین پیٹرولیم مصنوعات اور ایل این جی کے معاملے میں موجودہ مارکیٹ کریش کا مکمل فائدہ نہیں اٹھائیں گے۔
انہوں نے کہا کہ بہتر خیال یہ ہوگا کہ تمام آئل کمپنیز خاص طور پر پی ایس او کو ان کی خریداریوں سے ہٹ کر متوازن طریقے سے کم قیمتوں کا مکمل فائدہ اٹھانے کی اجازت دی جائے، تجویز کردہ نرخ بہت زیادہ ہیں۔ دوسری جانب وزارت پیٹرولیم نے کہا کہ مذکورہ تمام بینکوں نے پاکستان کو 15 سے 20 فیصد ایکسپوژر سے شروع کرنے اور اس میں اضافے پر غور کرنے کی تجویز دی تھی۔ بینکرز نے قیمتوں کا عندیہ بھی دیا تھا لیکن قیمتیں گھنٹوں کے حساب سے تبدیل ہوتی ہیں تو ہیجنگ پروگرام کی قیمت بڑھ گئی، وزارت کے مطابق بینکس نے تجویز دی کہ قیمتوں کے استحکام کی کچھ سطح کا انتظار کیا جائے۔
ای سی سی کو پی ایس او کو بطور کاؤنٹر پارٹی منظوری دینے اور وزارت خزانہ کو پاکستان اسٹیٹ آئل کی جانب سے کارکردگی کی ضمانت دینے کی درخواست کی گئی ہے۔ اس کے ساتھ ہی سیکریٹری خزانہ کی قیادت میں وزارت پیٹرولیم، قانون اور منصوبہ کے سیکریٹریز، پی ایس او کے منیجنگ ڈائریکٹر پر مشتمل کمیٹی تشکیل دینے کی تجویز دی گئی ہے تاکہ مخصوص بینکس کے ساتھ آپشنز کو حتمی شکل دی جائے اور حتمی منظوری کےلیے شارٹ نوٹس پر ای سی سی کی منظوری کی ضرورت ہوگی ای سی سی کو آئل اینڈ ریگولیٹری اتھارٹی (اوگرا) کو ایل این جی یا دیگر کسی مصنوعات کی ماہانہ قیمتوں میں منتخب ہونے کی صورت میں پالیسی ہدایات دینے کا بھی کہا گیا ہے۔
خیال رہے کہ 30 اپریل کو حکومت نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں 30 روپے تک کمی کا اعلان کردیا۔
واضح رہے کہ کورونا وائرس کے باعث عالمی مارکیٹ میں خام تیل کی قیمتوں میں ریکارڈ کمی کے باعث آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی (اوگرا) نے یکم مئی سے پیٹرولیم مصنوعات کی قیموں میں 44 روپے تک کمی کی سمری پیٹرولیم ڈویژن کو ارسال کی تھی۔ اوگرا نے یکم مئی سے پیٹرول 20 روپے 68 پیسے فی لیٹر سستا کرنے کی تجویز دی تھی۔ اتھارٹی کی جانب سے ہائی اسپیڈ ڈیزل اور لائٹ ڈیزل آئل کی قیمتوں میں بالترتیب 33 روپے 94 پیسے اور 24 روپے 57 پیسے کمی کی تجویز دی گئی تھی۔
تاہم حکومت نے ایک بار پھر عالمی مارکیٹ میں قیمتوں میں کمی کا پورا ریلیف عوام کو منتقل نہیں کیا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button