وزیراعظم کرونا وائرس کے مسئلہ پر خاموش کیوں ہیں؟

دنیا کے کسی بھی ملک میں جب کوئی ناگہانی آفت نازل ہوتی ہے یا کوئی بڑا حادثہ رونما ہوتا ہے تو اس کا سربراہ حکومت آگے بڑھ کر اپنے عوام کو حوصلہ دیتا ہے اور ان سے بات کرتا ہے۔ تاہم پاکستان میں ایسا نہیں ہے۔ بڑی سے بڑی آفت آجائے یا بڑے سے بڑا واقعہ رونما ہو جائے وزیراعظم عمران خان نہ تو اس پر بولتے ہیں اور نہ ہی سامنے آتے ہیں۔ اور کچھ ایسا ہی رویہ انہوں نے کرونا وائرس کے معاملے پر اپنا رکھا ہے جسے پاکستان میں انتظامی مسئلے کے طور پر نمٹا جا رہا ہے حالانکہ کرونا وائرس دنیا کے دیگر ممالک میں ایک سیاسی مسئلہ بن چکا ہے۔
مہلک کرونا وائرس شہریوں کے لیے بتدریج ایک سنگین مسئلہ بنتا جا رہا ہے، لہٰذا کپتان حکومت کو بھی ہر نکتہ نگاہ سے اس مسئلے کو اپنی اوّلین ترجیحات میں شامل کرنا چاہیے اور سامنے آنا چاہیے کیونکہ عوام یہ تسلی چاہتے ہیں کہ حکومت اس مسئلے کو اتنی ترجیح دے رہی ہے جتنی دینی چاہیے۔
لوگ بجا سوال کر رہے ہیں کہ وزیراعظم کہاں ہیں؟ انہوں نے ایک بار بھی کیمرے کے سامنے کرونا وائرس پر لب کشائی نہیں کی۔ انہیں بات کرنی چاہیے۔ انہوں نے کرونا وائرس پر ایک ٹوئیٹ تک نہیں کی۔ انہیں ٹوئیٹ کرنا چاہیے۔ انہوں نے تیاریوں کا جائزہ لینے کے لیے کسی ایک ہسپتال کا بھی دورہ نہیں کیا۔ انہیں دورہ کرنا چاہیے۔ جب وزیرِاعظم اس مسئلے کو سنجیدگی سے لیں گے اور خصوصی دلچسپی دکھائیں گے تب ہی یہ مسئلہ ملک کی اوّلین ترجیحات میں شامل ہوگا۔ اس کے بعد ہی ریاستی مشینری ممکنہ بحران سے نمٹنے کے لیے مطلوبہ تیاریاں شروع کرے گی۔ اس کے بعد ہی وبا میں ممکنہ شدت کا مقابلہ کرنے کے لیے مطلوبہ بجٹ کو مختص کیا جائے گا۔ اس کے بعد ہی ہم یہ جان پائیں گے کہ کورونا وائرس کی جتنی فکرعوام کو ہے اتنی ہی حکومت کو بھی ہے۔ شاید اتنی ہی اہمیت قیادت کی علامت کی بھی ہے۔ جی ہاں، وفاقی اور صوبائی وزرائے صحت کی جانب عوام سے رابطہ کرنا بہت اہم ثابت ہوسکتا ہے۔
سچ تو یہ ہے کہ وزرائے اعلیٰ اور چیف سیکرٹریوں کی عوام میں موجودگی سے فرق پڑتا ہے اور اتنا ہی فرق مسلح افواج کی موجودگی سے بھی پڑتا ہے، اس بات سے واقعی فرق پڑتا ہے کہ انتظامی سطح پر نہ صرف فیصلے لیے جا رہے ہیں بلکہ ان پر عمل درآمد بھی ہو رہا ہے لیکن کسی بھی عمل سے اس وقت تک کچھ بھی فرق نہیں پڑسکتا جب تک وزیرِاعظم خود آگے نہیں آتے اور قوم سے مخاطب ہو کر یہ نہیں کہہ دیتے کہ ’فکر نہ کریں، میں تمام معاملات کی نگرانی کررہا ہوں‘۔ شہریوں کو سب سے زیادہ اس اعتماد کی ضرورت ہے کہ ان کا رہنما خود میدان میں اتر چکا ہے اور سب پر نظر رکھے ہوئے ہے اور کرونا وائرس کے بحران سے نمٹنے کے لیے بیوروکریسی کی رکاوٹوں کو ہٹانے، مختلف انتظامی سطحوں پر اختلافات ختم کروانے اور غیر ضروری اعتراضات کو دُور کرنے جیسے کسی بھی عمل سے دریغ نہیں کریں گے۔
اس اعتماد کو پیدا کرنے کے لیے وزیرِاعظم کو چاہیئے تھا کہ وہ اجلاسوں کی صدارت کرتے، مختلف جگہوں کا دورہ کرتے، عوام سے رابطہ کرتے، سوالوں کے جوابات اور ہر ایک کو یہ تسلی دیتے ہوئے نظر آتے تاکہ انہیں یقین آئے کہ ان کے کپتان اس سنگین آفت سے نمٹنے کے لیے ہر حد تک جائیں گے۔ وقت کی ضرورت کو دیکھتے ہوئے انہیں اپنا قائدانہ کردار ادا کرنا چاہیے۔ آج وقت ان سے قائدانہ کردار کا تقاضا کرتا ہے۔
دراصل کرونا وائرس کے بحران جیسے حالات رہنماؤں سے امتحان لیتے ہیں۔ جاپانی وزیرِاعظم اس امتحان میں پورا اترتے دکھائی نہیں دیتے۔ اسی طرح دنیا کے دیگر رہنماؤں پر بھی یا تو صورتحال سے مطمئن ہونے یا بحران سے آگاہی کی کمی یا پھر اس مسئلے کو جان بوجھ کر کم اہمیت دینے کا الزام لگایا جاتا ہے۔ اس موقع پر کیوں نہ ہمارے وزیرِاعظم نمایاں ہوں اور آگے برھ کر مثالی قائدانہ کردار ادا کریں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button