وزیراعظم کی زیر صدارت قومی سلامتی کمیٹی کا اجلاس

اجلاس میں افغانستان کی صورت حال اور اس کے تناظر میں پاکستان پر پڑنے والے اثرات کا جائزہ اور آئندہ کی حکمت عملی پر غور کیا گیا۔اس سے قبل یکساں نظام تعلیم کے حوالے سے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ افغانستان میں غلامی کی زنجیریں ٹوٹ گئیں لیکن ذہنی غلامی کی نہیں ٹوٹیں۔
وزیر اعظم نے کہا کہ ہم کسی کی ثقافت کو اپنا کر پیغام دیتے ہیں وہ ہم سے بہتر ہیں، کبھی بھی ایک ذہین غلام بڑا کام نہیں کرسکتا، کسی کی نقل کرکے ہم اچھے غلام بن سکتے ہیں لیکن آگے نہیں جاسکتے کیونکہ دنیا میں اختراعی ذہن والے اوپر جاتے ہیں، ابھی افغانستان میں غلامی کی زنجیریں تو توڑ دی گئیں ہیں لیکن ذہنی غلامی کی زنجیریں نہیں ٹوٹیں۔اس سے قبل وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ افغانستان میں امن کا جلد قیام اور افراتفری کا خاتمہ چاہتے ہیں، افغان قیادت موقع کا فائدہ اٹھا کرسیاسی حل کی راہ ہموارکرے۔
اسلام آباد میں وزیرخارجہ شاہ محمودقریشی سے افغان وفد نے ملاقات کی جس کے دوران افغانستان کی موجودہ صورت حال پربات چیت ہوئی۔شاہ محمود قریشی کا اس موقع پر کہنا تھا کہ افغانستان کی بہتری کیلئےلائحہ عمل طے کرنا ضروری ہے، ہمارا حتمی مقصد پرامن، متحد، جمہوری اور مستحکم افغانستان ہے، مل جل کر امن اور مفاہمت کو آگے بڑھا سکتے ہیں، عالمی برادری افغانستان میں امن اور مفاہمتی عمل کی حامی ہے۔
انہوں نے کہا تھا کہ افغان قیادت موقع کافائدہ اٹھا کر سیاسی حل کی راہ ہموارکرے، جامع مذاکرات افغان مسئلے کے پرامن سیاسی حل کا واحد راستہ ہیں، نہیں چاہتے افغانستان میں بد امنی ہو اور ہمسایہ ممالک متاثر ہوں، امن مخالف عناصر پر بھی کڑی نظر رکھنا ہو گی۔