وزیرستان :ویڈیو لیک ہونے پر 2 لڑکیاں’غیرت’ کے نام پر قتل

خیبرپختونخوا کے اضلاع جنوبی و شمالی وزیرستان کے سرحدی گاؤں میں نوجوان شخص کے ساتھ موبائل ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہونے کے بعد 2 لڑکیوں کو مبینہ طور پر گھر کے فرد کی جانب سے غیرت کے نام پر قتل کردیا گیا۔
شمالی وزیرستان میں رزمک پولیس اسٹیشن، جس کی حدود میں یہ واقعہ پیش آیا وہاں جمعہ 15 مئی کو ریاست کی مدعیت میں فرسٹ انفارمیشن رپورٹ(ایف آئی آر) درج کرکے تحقیقات شروع کردی گئیں۔ دستیاب ایف آئی آر کے مطابق واقعہ 14 مئی کو خیرپختونخوا میں شمالی اور جنوبی وزیرستان کے سرحدی گاؤں شام پلین گڑیوم میں دوپہر 2 بجے کے قریب پیش آیا۔اسٹیشن ہاؤس افسر (ایس ایچ او) کی جانب سے درج کی گئی ایف آئی آر کے مطابق شام پلین گڑیوم میں چچا زاد بھائی کی جانب سے 16 اور 18 برس کی 2 لڑکیوں کے غیرت کے نام پر قتل کی مصدقہ اطلاع موصول ہوئی تھی جس کا نام اور پتہ معلوم نہیں۔اس میں کہا گیا کہ غیرت کے نام پر قتل کی وجہ ایک ویڈیو کو مانا جارہا ہے، جس میں ایک نوجوان کو باہر ویران علاقے میں 3 لڑکیوں کے ساتھ اپنی ویڈیو بناتے ہوئے دیکھا گیا۔
وزیرستان کے سینئر پولیس افسر نے واقعے کی تصدیق کی اور بتایا کہ 52 سیکنڈ پر مشتمل موبائل ویڈیو کلپ میں نظر آنے والی 3 میں سے 2 لڑکیوں کو قتل کردیا گیا ہے۔انہوں نے کہا کہ پولیس ویڈیو میں نظر آنے والے شخص اور تیسری لڑکی کی معلومات جمع کررہی ہے۔
پولیس عہدیدار کے مطابق یہ ویڈیو تقریباً ایک برس قبل بنائی گئی تھی اور ممکنہ طور پر چند ہفتے قبل سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی۔انہوں نے تحصیلدار کی رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اب تک موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق تیسری لڑکی اور لڑکا زندہ ہیں۔پولیس عہدیدار نے انکشاف کیا کہ واقعے کے بعد لاشوں کی تدفین کے لیے دونوں خاندانوں کے جنوبی وزیرستان میں آبائی گاؤں شکوتئی منتقل ہونے کی اطلاعات ہیں۔
انہوں نے کہا کہ واقعہ دور دراز علاقے میں پیش آیا جو سیکیورٹی کے حوالے سے خطرناک سمجھا جاتا ہے، مزید یہ کہ کیس کی مزید تحقیقات کے لیے پولیس ٹیم بھی روانہ کردی گئی۔مذکورہ عہدیدار کے مطابق لڑکیوں کے خاندانوں کی جانب سے لاشوں کو جنوبی وزیرستان منتقل کرنے کے باعث دونوں لڑکیوں کے نام تاحال معلوم نہیں۔ان کا کہنا تھا کہ تحصیلدار کے ہمراہ پولیس ٹیم کو علاقے کا دورہ کرنے اور حتمی رپورٹ جمع کروانے کی ہدایت کردی ہے۔پولیس عہدیدار نے مزید کہا کہ کوئی کارروائی کرنے سے قبل اس وقت ہماری اولین ترجیح تیسری لڑکی اور اس شخص کی زندگی بچانا ہے۔
ادھر تحقیقات کی نگرانی کرنے والے پولیس اہلکار نے کہا کہ جنوبی اور شمالی وزیرستان کے علاقوں شکوتئی اور بارگرام دونوں میں موبائل کوریج نہیں۔انہوں نے کہا کہ قبائلی روایت میں معاشرے میں قبیلے کو بدنام کرنے والے مردوں اور عورتوں کے لیے کوئی جگہ نہیں، ؛لہٰذا پولیس کے لیے کیس کی تحقیقات بڑا چیلنج ہوگا کیونکہ ویڈیو میں موجود مواد مکمل طور قبائلی معاشرے کی اقدار کے خلاف ہے۔
خیال رہے کہ مذکورہ واقعہ 2012 میں کوہستان ویڈیو اسکینڈل کے 8 سال بعد پیش آٰیا ہے، جس میں 2 لڑکوں کے رقص کے دوران 3 خواتین کی تالیاں بجانے کی ویڈیو وائرل ہونے پر انہیں غیرت کے نام پر قتل کیا گیا تھا۔
‘غیرت کے نام پر’ دو لڑکیوں کو فائرنگ سے قتل کرنے کے معاملے میں پاکستان میں شدید ردعمل دیکھنے میں آ رہا ہے۔مقامی پولیس کے مطابق دونوں لڑکیوں کو ایک لڑکے کے ساتھ بوس و کنار کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہونے کے بعد قتل کیا گیا۔ تقریباً 52 سیکنڈز پر مشتمل ویڈیو میں ایک نوجوان لڑکے کے دائیں بائیں تین سیاہ برقعوں میں لڑکیاں کھڑی نظر آ رہی ہیں۔ لڑکا باتوں باتوں میں دو لڑکیوں سے بوس وکنار شروع کر دیتا ہے جبکہ تیسری لڑکی بھاگ جاتی ہے۔
ویمن ڈیموکریٹک فرنٹ (ڈبلیو ڈی ایف) نامی تنظیم نے اتوار کو ایک پریس ریلیز میں اس واقعے پر شدید ردعمل ظاہر کرتے ہوئے قتل ہونے والی لڑکیوں کے لیے انصاف کا مطالبہ کیا ہے۔ڈبلیو ڈی ایف کی عہدے داروں عالیہ بخشال، عصمت شاہ جہاں، ممتاز تاجک اور نرگس خٹک نے اپنے بیان میں مزید کہا کہ حکمران طبقہ کتنی آسانی سے خواتین کے خلاف ہونے والےایسے پر تشدد واقعات کی بڑی تعداد کو نظر انداز کر دیتا ہے۔انہوں نے کہا کہ لڑکیوں کو قتل کرنے پر اکسانے والے علاقے کے طاقت ور لوگوں کو حکومتی پشت پناہی حاصل ہے۔ ڈبلیو ڈی ایف نے قاتلوں، قتل پر اکسانے والوں اور ویڈیو لیک کرنے والے شخص کو گرفتار کر کے سزا دینے کا مطالبہ کیا۔
پولیس کے ایک سینیئر افسر نےبتایا کہ ان لڑکیوں کا تعلق جنوبی وزیرستان سے تھا اور وہ کچھ عرصہ قبل وزیرستان کے مختلف علاقوں میں سکیورٹی فورسز کی کارروائیوں کی وجہ سے شمالی وزیرستان کے علاقے شام پلین گڑیوم منتقل ہوگئی تھیں۔ افسر کے مطابق شام پلین گڑیوم کے ‘ع’ نامی لڑکے کے ساتھ ان لڑکیوں کی جان پہچان بنی تھی۔ ویڈیو میں یہ نوجوان ان لڑکیوں سے پشتو میں پوچھتا ہے کہ وہ کس مقصد کے لیے آئی ہیں، جس پر ایک لڑکی نے جواب دیا کہ وہ ایسے ہی آئی ہیں۔ویڈیو میں لڑکا کہہ رہا ہے کہ کیا شام کے وقت وہ دوبارہ آئیں گی، تو ایک لڑکی کہتی ہے کہ یہ جگہ مناسب نہیں اور دور سے دوسرے لوگ بھی دیکھ رہے ہیں۔ ویڈیو سے واضح نہیں کہ لڑکے اور لڑکیوں کا آپس میں کیا تعلق تھا۔
واقعے کے خلاف رزمک تھانے میں ایس ایچ او لوئی دارز خان نے ایف آر درج کروائی ہے۔ ایف آئی آر میں بتایا گیا کہ شام پلین کے علاقے میں 18 اور 16 سالہ لڑکیوں کو ان کے چچا زاد بھائی نے فائرنگ کر کے مبینہ طور پر ’غیرت کے نام‘پر قتل کر دیا۔ قتل ہونے والی دونوں لڑکیاں آپس میں چچا زاد بہنیں بتائی جاتی ہیں۔ایف آئی آر میں مزید بتایا گیا کہ واقعے کے بعد دونوں لڑکیوں کا خاندان ان کی لاشیں لے کر واپس جنوبی وزیرستان چلے گئے۔ایف آئی ار کے مطابق ویڈیو میں نظر آنے والے نوجوان کی تلاش جاری ہے مگر خیال ہے کہ وہ علاقہ چھوڑ کر کہیں چھپ گیا ہے یا دوسرے شہر چلا گیا ہے۔دوسری جانب جنوبی وزیرستان کی پولیس نے بتایا کہ دونوں لڑکیوں کی لاشوں کو رات کے وقت ان کے خاندان والوں نے ایک نامعلوم مقام پر دفنا دیا، البتہ پولیس نے قبروں اور ملزم کی تلاش شروع کر دی ہے مگر ابھی تک قبروں کا سراغ نہیں ملا اور نہ کوئی گرفتاری عمل میں آئی ہے۔
سابق قبائلی علاقوں میں ،جو اب خیبر پختونخوا کا حصہ ہیں، اس سے پہلے بھی ’غیرت کے نام‘ پر اس قسم کے واقعات ہوتے تھے، مگر اس وقت کے ایف سی آر قانون کے تحت قتل ہونے والوں کی رپورٹ سامنے نہیں آتی تھی۔ماضی میں ایسے واقعات بھی ہوئے ہیں کہ پولیٹکل ایجنٹ کے دفتر کے اندر ’غیرت کے نام‘ پر قتل میں ملوث ملزم کو گرفتار نہیں کیاگیا۔خیبر پختونخوا میں انضمام کے بعد پہلی بار ’غیرت کے نام‘ پر قتل کے واقعات کے ایف آئی آر درج ہونا شروع ہوئی ہے۔ مگر آج بھی ایک خوف موجود ہے اور اس طرح کے واقعات کوکوئی رپورٹ نہیں کرتا۔
سوشل میڈیا پر بھی اس واقعے پر غم و غصہ پایا جاتا ہے۔عوامی نیشنل پارٹی پختونخوا کے صدر ایمل ولی خان نے اپنی ٹویٹ میں کہا کہ شمالی وزیرستان میں نوجوان لڑکیوں کے قتل سے ظاہر ہوتا ہے کہ علاقے میں کتنی شدت پسندی ہے اور یہاں قانون کا کتنا راج ہے۔ انہوں نے واقعے کے مذمت کرتے ہوئے کہا کہ ہر شہری کو تحفظ دینا ریاست کی ذمہ داری ہے۔’ غیرت کے نام پر’ قتل ختم ہونا چاہیے اور واقعے میں ملوث لوگوں کو جلد از جلد انصاف کے کٹہرے میں کھڑا کرنا چاہیے۔حرمت علی شاہ نامی ٹوئٹر صارف نے لکھا ‘ وزیرستان کی لڑکیوں کو انصاف ملنا چاہیے۔’
ملالہ یوسف زئی کے والد ضیا الدین یوسف زئی نے واقعے پر شدید دکھ کا اظہار کرتے ہوئے مذمت کی اور کہا کہ قاتلوں کو قانون کے تحت سزا ضرور ملنی چاہیے۔’ شرم آنی چاہیے ان مردوں پر جو اس غیر انسانی روایت پر خاموشی اختیار کر کے یا پھر اس کا دفاع کرتے ہیں۔’
لکھاری اور اداکارہ میرا سیٹھی نے کہا کہ ‘وقت آ گیا ہے کہ ہم ‘غیرت کے نام پر’ قتل کے جملے پر دوبارہ غور کریں۔ اس کا صاف مطلب قتل ہے۔ ہم اسے ‘غیرت کے نام پر’ قتل کہہ کر بار بار ثابت کرتے ہیں کہ یہ جرم مجرم کی نظر سے دیکھا جا رہا ہے ناکہ مظلوم کی نظر سے۔’
