وزیراعظم کیخلاف توہین عدالت کی درخواست کے قابل سماعت ہونے پردلائل طلب

لاہورہائیکورٹ میں وزیراعظم شہباز شریف کی جانب سے ججز کے بارے میں نامناسب الفاظ کہنے پر توہین عدالت کی درخواست پر سماعت ہوئی ۔عدالت نے وزیراعظم شہباز شریف کے خلاف توہین عدالت کی درخواست قابل سماعت ہونے دلائل طلب کرلیے۔
لاہورہائیکورٹ کے جسٹس وحید خان نے ایڈیشنل اٹارنی جنرل سے استفسار کیا کہ آپ بتائیں کہ یہ درخواست قابل سماعت ہے یا نہیں؟
ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے دلائل دیئے کہ گزشتہ روز سپریم کورٹ نے بھی یہی سوال اٹھایا تھا۔سپریم کورٹ کو اٹارنی جنرل نے واضح کیا تھا کہ وزیراعظم نے یہ بات موجودہ ججز کے بارے میں نہیں کی۔
فاضل جج نےاڈیشنل اٹارنی جنرل کو کہا کہ آپ کے پاس تحریری آرڈر موجود ہے؟
وفاقی حکومت کے وکیل نے کہا کہ ابھی تحریری آرڈر سپریم کورٹ سے موصول نہیں ہوئے۔
جسٹس محمد وحید خان نے اشبا کامران کی درخواست پر سماعت کی۔ درخواست میں وزیراعظم پاکستان میاں محمد شہباز شریف کو فریق بنایا گیا ہے ۔
درخواست گزارکا موقف تھا کہ شہباز شریف نے 28 مئی کو اپنی ایک تقریر میں عدلیہ میں کالی بھیڑوں کی موجودگی کا بیان دیا تھا ۔یہ بیان عدلیہ کی ایمانداری اور آزادی کو کمزور کرنے کے مترادف ہے
