ویٹ لفٹرز رابعہ شہزاد نے پاکستان کا نام روشن کر دیا

پاکستانی خاتون ویٹ لفٹر رابعہ شہزاد نے گلاسگو میں ملک کا نام روشن کردیا، رابعہ نے گلاسگو اوپن کلاسک ویٹ لفٹنگ چیمپئن شپ 2020 میں سونے کا تمغہ حاصل کیا۔
ویٹ لفٹر رابعہ شہزاد نے سوشل میڈیا پر اپنی پوسٹ کے ذریعے خوشی کا اظہار کرتے ہوئے بتایا کہ انہوں نے گلاسگو اوپن کلاسک ویٹ لفٹنگ چیمپئن شپ 2020 میں سونے کا تمغہ جیتا ہے۔ انہوں نے اپنی پوسٹ میں اس سفر میں آنے والی مشکلات کا تذکرہ کرتے ہوئے لکھا کہ ایک لڑکی ہوتے ہوئے انہوں نے اکیلے کراچی سے مانچسٹر اور مانچسٹر سے گلاسگو سفر کیا جہاں گولڈ شیلڈ لینے میں کامیاب رہیں۔ ساتھ ہی انہوں نے اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرتے ہوئے ہر لمحہ ساتھ دینے پر اپنے والد کا بھی شکریہ ادا کیا۔
https://www.facebook.com/352741095417215/photos/a.353201008704557/491931654831491/?type=3&theater
21 سالہ رابعہ شہزاد کراچی کے انسٹی ٹیوٹ فار بزنس ایڈمنسٹریشن (آئی بی اے) میں زیر تعلیم ہیں اور یہ پاکستان ویٹ لفٹنگ فیڈریشن کی جانب سے کسی بھی قسم کے تعاون کے بغیر ہی آزادانہ طور پر ٹریننگ کرتی ہیں، رابعہ پاکستانی بیڈ منٹن اسٹار ماحور شہزاد کی بہن ہیں۔
یاد رہے کہ رابعہ شہزاد اس سے قبل آسٹریلیا میں ہونے والی رالف کیش مین اوپن ویٹ لفٹنگ چیمپیئن شپ کی 55 کلوگرام کیٹیگری میں گولڈ میڈل جیت کر پاکستان کا نام روشن کر چکی ہیں۔اس کے علاوہ وہ دبئی میں ہونے والی ایشین بینچ پریس چیمپئن شپ میں بھی چاندی کا تمغہ اپنے نام کرچکی ہیں۔رابعہ شہزاد کی بڑی بہنیں ماحور اور فریال قومی ویمن بیڈمنٹن چیمپئن رہ چکی ہیں جب کہ ان کے والد شہزاد احمد روئنگ کے قومی چیمپئن رہ چکے ہیں۔
