عراق کا سیاسی مشاورت کی دو خوراکوں کے درمیان دورانیہ کم کرکے 28 دن کردیا گیا

نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر (این سی او سی) نے کورونا وائرس کی ویکسین کی دوسری خوراک کی زیادہ سے زیادہ مدت کو 42 سے 28 دن تک کم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
این سی او سی نے یہ بھی فیصلہ کیا کہ یکم ستمبر سے صرف مکمل طور پر ویکسین لگوانے والے افراد کو فضائی سفر کرنے کی اجازت دی جائے گی اور ویکسینیشن سینٹرز یوم آزادی پر کھلے رہیں گے اور 9 اور 10 محرم کو بند رہیں گے۔
دریں اثنا، وزیر اعظم کے معاون خصوصی برائے صحت ڈاکٹر فیصل سلطان نے برطانیہ کو ایک خط لکھا ہے جس میں پاکستان کو ‘ریڈ لسٹ’ میں برقرار رکھنے اور چند دیگر ممالک کو ‘امبر’ یا ‘گرین’ فہرستوں میں منتقل کرنے پر تشویش کا اظہار کیا گیا ہے۔
ایک اور پیش رفت میں وزارت نیشنل ہیلتھ سروسز (این ایچ ایس) نے قومی اسمبلی میں کووڈ 19 کی صورتحال پر ڈیٹا شیئر کیا۔
ایک بیان کے مطابق این سی او سی نے ویکسینیشن کے عمل کو تیز کرنے کا فیصلہ کیا ہے ، اور اس وجہ سے دو خوراکوں کے درمیان زیادہ سے زیادہ دورانیہ 42 سے 28 دن تک کردیا گیا ہے۔
یہ فیصلہ گاوی سے یقین دہانی کے بعد کیا گیا کہ ایک ہفتے کے اندر تقریباً 60 لاکھ خوراکیں ملک میں آجائیں گی۔
ادارے نے تمام وفاقی اور انتظامی یونٹس کو یہ بھی بتایا کہ یکم ستمبر سے صرف ویکسینیشن سرٹیفکیٹ قابل قبول ہوں گے۔
برطانیہ کے محکمہ صحت کے حکام کو لکھے گئے اپنے خط میں ڈاکٹر فیصل سلطان نے پاکستان کو ریڈ لسٹ میں برقرار رکھنے کے فیصلے پر مایوسی کا اظہار کیا۔
ان کا کہنا تھا کہ ‘اس فیصلے کو علاقائی اعداد و شمار کے تناظر میں دیکھا جائے تو پاکستان اور برطانیہ میں مایوسی پائی گئی ہے، مجھے امید ہے کہ میں کچھ ڈیٹا شیئر کر کے اس معاملے پر پاکستان کے نقطہ نظر کو واضح کر سکوں گا، اول تو میں آپ کو یقین دلاتا ہوں کہ پاکستان کو دیگر معاشروں کے لیے صحت کا خطرہ بننے والے اپنے شہریوں کو بیرون ملک سفر کرنے کی اجازت دینے میں کوئی دلچسپی نہیں ہے’۔
وزیر اعظم کے معاون نے بھارت، ایران اور عراق کا ڈیٹا بھی شیئر کیا جو کہ ’امبر لسٹ‘ میں شامل تھے تاہم کہا کہ پاکستان خطے کے تینوں ممالک سے بہتر ہونے کے باوجود ’ریڈ لسٹ‘ میں شامل رہا۔
ان کا کہنا تھا کہ ‘اگرچہ دنیا کے تمام ممالک نے اپنے صحت عامہ کے نظام کو بنانے اور بڑھانے کے لیے سخت محنت کی ہے، ہمارا مشترکہ مقصد بین الاقوامی سفر کے ذریعے آنے والے خطرے کو کم کرنا ہے’۔
انہوں نے کہا کہ ‘پاکستان کے نقطہ نظر سے یہ پابندیوں کے بجائے براہ راست مسافر پر توجہ مرکوز کرنے سے حاصل کیا جاسکتا ہے جس میں عالمی ادارہ صحت کے منظور کردہ ویکسین کا ثبوٹ، پی سی آر ٹیسٹ اور ایئر پورٹ پر تیز ترین اینٹی جین ٹیسٹ شامل ہے’۔
اپنے خط میں انہوں نے کہا کہ ‘ان سب پر عمل کیا جائے تو یہ اقدامات تحفظ فراہم کرنے کے لیے کافی ہیں جس کی ہم سب اجتماعی کوشش کر رہے ہیں، مجھے اس بات کو آگے بڑھاتے ہوئے برطانیہ کے ماہرین سے مل کر یا بات چیت کر کے خوشی محسوس ہوگی’۔
دریں اثنا عالمی ویکسین اتحاد گاوی کے سینئر پروگرام منیجر الیکسا رینالڈز اور پروگرام منیجر ماریو جیمنیز پر مشتمل ایک وفد نے معاون خصوصی ڈاکٹر فیصل سلطان سے ملاقات کی۔
وفد کا مقصد حفاظتی ٹیکوں کے حوالے سے ملک کی ضروریات کی نشاندہی کرنا اور مستقبل میں کویکس کے ذریعے ویکسین کی فراہمی اور کولڈ چین کی صلاحیت کو بڑھانا ہے۔
وفد نے مستقبل کے پورٹ فولیو کی منصوبہ بندی پر بھی تبادلہ خیال کیا جس میں خاص طور پر حفاظتی ٹیکوں کی سروسز، عالمی صحت کی کوریج اور پاکستان میں صحت کے نظام کو مضبوط بنانے پر توجہ دی جائے گی۔
دوسری جانب این سی او سی نے انکشاف کیا کہ گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران 81 مریض فوت ہوئے اور 4 ہزار 856 مزید متاثر ہوئے۔
11 اگست کو فعال کیسز کی تعداد 85 ہزار 77 رہی۔
اس دوران این ایچ ایس کی وزارت نے کورونا وائرس سے متعلقہ معلومات قومی اسمبلی کے ساتھ شیئر کیں۔
اعداد و شمار سے پتہ چلتا ہے کہ 25 جون تک کراچی میں 3 ہزار 927، لاہور میں 3 ہزار 617، راولپنڈی میں ایک ہزار 233، فیصل آباد میں 1 ہزار 78، پشاور میں 938 اور اسلام آباد میں 520 افراد ہلاک ہوئے۔
قومی کو مزید بتایا گیا کہ مارچ 2020 سے 25 جون 2021 تک کورونا وائرس سے متاثرہ بچوں کی تعداد 36 ہزار 477 ہے جبکہ کسی لیبارٹری کو ویکسین درآمد کرنے کی اجازت نہیں دی گئی ہے۔
بشکریہ: ڈان نیوز
