پاکستان نے TTP کو رعائت دینے کی افغان سفارش مسترد کیوں کی؟

سینئر صحافی اور کالم نگار مزمل سہروری نے کہا ھے کہ اطلاعات کے افغان طالبان نے یہ پیشکش کی ہے کہ ٹی ٹی پی کے لوگوں کو پاکستان کے بارڈر سے دور آباد کر دیا جائے گا اور ان سے اسلحہ لے لیا جائے گا۔ لیکن شاید پاکستان کے لیے یہ بہت کم ہے۔ اس کے عوض جو رعایتیں مانگی جا رہی ہیں وہ زیادہ ہیں۔ پاکستان کو ٹی ٹی پی کے دھشتگردوں کی حوالگی سے کم پر نہیں ماننا چاہیے۔ ہم تحریک طالبان پاکستان نامی ہتھیار مستقل افغان طالبان کو نہیں دے سکتے کہ وہ جب ہم سے ناراض ہوں ٹی ٹی پی کو متحرک کر دیں۔

افغان باشندے پاکستان کی مارکیٹ سے ڈالر خریدنا اور بلا روک ٹوک افغانستان لے جانا اپنا حق سمجھتے ہیں۔ ٹرانزٹ ٹریڈ کا مال بغیر کوئی ٹیکس دیے پاکستان واپس لا کر یہاں بیچنا اور اسمگلنگ اپنا حق سمجھتے ہیں۔ پاکستان میں مقیم غیر قانونی افغانوں کی واپسی کے ساتھ یہ سب اقدامات افغانستان کی حکومت اور افغان تاجروں کو پسند نہیں ہے، وہ ان کو اپنے خلاف اقدمات سمجھ رہے ہیں۔ اپنے ایک کالم میں مزمل سہروری کہتے ہیں کہ جمیعت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمن کے مخالفین کا مؤقف ہے کہ انکا دورہ افغانستان مکمل طور پر ناکام رہا اور انھیں ہائی پروٹوکول بھی نہیں ملا جب کہ دوسرا مؤقف یہ ہے کہ اس دورے سے کافی برف پگھلی ہے، جس کے نتائج آئندہ دنوں میں سامنے آئیں گے۔ مخالفین کہہ رہے ہیں کہ مولانا صرف اپنے لیے امن مانگنے گئے تھے، انھوں نے افغان حکام سے یہ درخواست کی ہے کہ کم از کم ٹی ٹی پی کو یہ کہہ دیا جائے کہ وہ جے یو آئی (ف) کو انتخابات کے دوران نشانہ نہ بنائے لیکن افغان طالبان نے جواباً کہا ہے کہ ہم انھیں کچھ نہیں کہہ سکتے، آپ خود بات کر لیں۔بہر حال یہاں دیکھنے کی بات یہ ہے کہ کیا پاکستان اور افغانستان کے درمیان فوراً تعلقات بہتر ہو سکتے ہیں؟ فی الحال ایسا ھونا ممکن نظرنہیں آرھا کیونکہ پاکستان میں کوئی بھی حکومت آجائے پاکستان سے غیر قانونی افغانوں کی واپسی کا عمل نہیں رک سکتا۔
مزمل سہروری کا کہنا ھے کہ یہ بات درست ہے کہ مولانا فضل الرحمن نے افغانستان میں یہ پوزیشن لی ہے کہ وہ اور ان کی جماعت افغانوں کو واپس بھیجنے کے حق میں نہیں ہیں۔ لیکن یہ بھی کھلی حقیقت ہے کہ مولانا کے پاس ایسا کوئی مینڈیٹ نہیں تھا کہ وہ کابل میں یہ اعلان کر دیتے کہ اب پاکستان غیر قانونی طورپر مقیم افغانیوں کو واپس نہیں بھیجے گا۔ ویسے بھی اگر پاکستان نے اس قسم کا کوئی اعلان کرنا ہوتا تو پاکستان سرکاری طور پر کسی باضابطہ معاہدے کے ساتھ ایسا اعلان خود کرتا۔ ایک اور اہم نکتہ یہ ہے کہ کیا موجودہ حالات میں پاکستان۔۔ افغانستان کو ٹرانزٹ ٹریڈ میں ختم کی گئیں سہولیات واپس دینے کی پوزیشن میں ہے؟ پاکستان نے افغان ٹرانزٹ ٹریڈ کے تحت کچھ پابندیاں لگائی ہیں، یہ پابندیاں افغانستان کو پسند نہیں، افغانستان کے تاجروں کو افغان ٹرانزٹ ٹریڈ میں بے جا رعایتوں اور مراعات کی عادت پڑچکی ہے، اب وہ ان رعایتوں اور مراعات کو پاکستان کی جانب سے خصوصی سہولت، رعایت اور نرمی نہیں سمجھتے بلکہ اپنا حق سمجھتے ہیں افغان باشندے پاکستان کی مارکیٹ سے ڈالر خریدنا اور بلا روک ٹوک افغانستان لے جانا اپنا حق سمجھتے ہیں۔ ٹرانزٹ ٹریڈ کا مال بغیر کوئی ٹیکس دیے پاکستان واپس لا کر یہاں بیچنا اور اسمگلنگ اپنا حق سمجھتے ہیں۔ یہ سب اقدامات افغانستان کی حکومت اور افغان تاجروں کو پسند نہیں ہے، وہ ان کو اپنے خلاف اقدمات سمجھ رہے ہیں۔پاکستان نے کرنسی ٹریڈ پر کنٹرول شروع کیا ہے۔ پشاور کی کرنسی مارکیٹ بند ہی کر دی گئی ہے کیونکہ یہ ڈالر کی غیر قانونی خریداری اور افغاستان اسمگلنگ کا بڑا مرکز بن چکا تھا، اب ڈالر کی خریدو فروخت اتنی آسان نہیں رہی۔اسٹیٹ بینک نے افغان ٹرانزٹ ٹریڈ کی ایل سی کھولنے کے لیے نئی اور قدرے سخت شرائط رکھی ہیں۔ پاکستان کو ان اقدامات کا قانونی حق حاصل ہے، پہلے پاکستان افغان باشندوں کو ان معاملات میں غیرمعمولی سہولتیں اور رعایتیں دے رہا تھا جو اب ممکن نہیں ہے کیونکہ پاکستان کی معیشت ایسی پوزیشن میں آچکی ہے جہاں اب یہ رعایتیں دینا ممکن ہی نہیں رہا لیکن مولانا اپنے دورے کے دوران ایسی کوئی رعایتیں دینے کی پوزیشن میں بھی نہیں تھے۔
مزمل سہروری کہتے ہیں کہ افغانوں کے پاکستان کا بارڈر کراس کرنے پر بھی سختی شروع کی گئی ہے۔ وہ بغیر دستاویزات کے پاکستان آنا جانا اور پاکستان میں جرائم کرکے افغانستان واپس چلے جانے کو بھی اپنا حق سمجھتے ہیں، اگر وہ پاکستان میں کسی جرم میں پکڑے جائیں تو اسے بھی اپنے ساتھ زیادتی سمجھتے ہیں۔
اب جب انھیں کہا جا رہا ہے کہ وہ ویزہ لے کر آئیں تویہ بھی زیادتی سمجھی جا رہی ہے، اسی لیے ہم نے پاک افغان بارڈر پر جھڑپیں بھی دیکھی ہیں۔ لیکن اب آنے جانے کو آسان نہیں بنایا جا سکتا۔بلکہ مزید سختی کے راستے ڈھونڈے جا رہے ہیں۔ مولانا اس معاملے پر بھی افغان حکومت کی کوئی مدد نہیں کر سکتے تھے۔ جہاں تک ٹی ٹی پی کی بات ہے تو شاید افغان حکام اس معاملے پر ابھی پاکستان کی مدد کرنے کے لیے تیار نہیں ہیں۔ وہ سمجھتے ہیں کہ ٹی ٹی پی کے ذریعے وہ پاکستان کی حکومت کو اپنی شرائط منوانے میں کامیاب ہو جائیں گے۔ اس لیے ایک عمومی رائے یہی ہے کہ افغان طالبان ٹی ٹی پی کو اپنے لیے ایک ترپ کا پتہ سمجھتے ہیں جس کے ذریعے وہ پاکستان کی فوج سے براہ راست کچھ رعایتیں لینے کی پوزیشن میں ہر وقت رہ سکتے ہیں۔ آجکل جیسے جیسے پاکستان نے افغانستان پر سختیاں شروع کی ہوئی ہیں تو پاکستان میں ٹی ٹی پی کی سرگرمیاں بھی تیز ہیں۔ شاید یہ پاکستان پر دبائو بڑھانے کی شعوری کوشش ہے۔ پاکستان نے ٹی ٹی پی کی تیز سرگرمیوں سے پریشان ہوکر مولانا کو کابل نہیں بھیجا ہے ۔ زیادہ سے زیادہ یہ ہوسکتا ہے کہ افغان طالبان کو یہ پیغام پہنچایا گیا ہو کہ ٹی ٹی پی کو کنٹرول کریں لیکن فی الحال جواب میں پاکستان کچھ دینے کے لیے تیار نہیں ۔
مزمل سہروری کے مطابق بات بھی سامنے آئی ہے کہ افغان طالبان نے یہ پیشکش کی ہے کہ ٹی ٹی پی کے لوگوں کو پاکستان کے بارڈر سے دور آباد کر دیا جائے گا اور ان سے اسلحہ لے لیا جائے گا۔ لیکن شاید پاکستان کے لیے یہ بہت کم ہے۔ اس کے عوض جو رعایتیں مانگی جا رہی ہیں وہ زیادہ ہیں۔ پاکستان کو ان کی حوالگی سے کم نہیں ماننا چاہیے۔ ہم یہ ہتھیار مستقل افغان طالبان کو نہیں دے سکتے پکہ وہ جب ہم سے ناراض ہوں ٹی ٹی پی کو متحرک کر دیں۔ بات چیت ضرور جاری رہنی پچاہیے۔ لیکن پاکستان کو اس بار افغان طالبان کو کوئی نرمی نہیں دینی چاہیے، مزید بلیک میل نہیں ہونا چاہیے، زبانی باتوں ، وعدوں اور معاہدوں پر یقین نہیں کرنا چاہیے، صرف ایک ہی شرط رکھی جائے کہ یہ نتائج دواور ہم نتائج لو ۔ ورنہ ایک دفعہ ٹی ٹی پی سے لڑنا ہے تو لڑنا ہے، افغان طالبان کا سیز فائر قبول نہیں۔

Back to top button