پاک فوج میں بڑے عہدے حاصل کرنیوالی خواتین کون؟

جناح کے پاکستان میں آج تعلیم یافتہ خواتین ہر شعبہ زندگی میں نمایاں کردار ادا کر تے ہوئے مردوں کے شانہ بشانہ کام کر رہی ہیں ۔ آج ہم آپ کو ایسی ہی باہمت پاکستانی خواتین کے بارے میں بتاتے ہیں جنہوں نے افواج پاکستان کیلئے خدمات دیں اور اعلیٰ عہدوں پر فائز ہوئیں۔
اس فہرست میں سب سے پہلے لیڈی جنرل شاہدہ ملک کا نام آتا ہے جوکہ ٹو سٹار جنرل بنیں، شاہدہ کا تعلق کراچی سے تھا لیکن انھوں نے ایم بی بی ایس کی ڈگری لاہور کے فاطمہ جناح میڈیکل کالج سے حاصل کی ، انھوں نے 70 کے عشرے میں پاکستان آرمی کی میڈیکل کور میں شمولیت اختیار کی ، وہ ترقی کی منازل طے کرتے ہوئے نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف ہیلتھ سائنس کی سربراہ بھی بنیں۔ 2002 میں آرمی چیف جنرل کرامت نے شاہدہ ملک کے کندھوں پر میجر جنرل کے ستارے لگائے تھے۔
دوسری خوش قسمت پاکستانی خاتون ہیں جوکہ پاک فوج میں میجر جنرل کے عہدے پر پہنچیں انکا نام بھی شاہدہ ہے۔ شاہدہ بادشاہ کا تعلق پشاور سے ہے اور انھوں نے خیبر میڈیکل کالج سے 1977 میں ایم بی بی ایس کا امتحان پاس کر کے فوج میں شمولیت اختیار کی ، ان کے والد بھی پاک فوج میں میجر جنرل تھے ، ایک گھر میں باپ اور بیٹی کا میجر جنرل ہونا خاندان سمیت پورے علاقے اور ملک کیلئے اعزاز کی بات ہے۔انہیں آرمی میڈیکل کالج کی پہلی کمانڈنٹ ہونے کا بھی اعزاز حاصل ہے ، بہترین خدمات پر ان کو ہلال امتیاز بھی عطا کیا گیا۔
یہ ایک حسن اتفاق ہے کہ پاک فوج میں میں اعلی عہدے پر پہنچنے والی تیسری خاتون فوجی کا نام بھی شاہدہ ہے۔
شاہدہ اکرم بھرگڑی بھی کسی سے کم نہیں ہیں ، جنھوں نے پاک فوج میں شمولیت حاصل کی اور آج وہ لیفٹننٹ کرنل کے عہدے پر کام کر رہی ہیں ، ان کا تعلق بھی میڈیکل کور سے ہے ، کرنل شاہدہ اکرم بھرگڑی کو یہ منفرد اعزاز بھی حاصل ہے کہ وہ صوبہ سندھ کی پہلی خاتون ہیں جو پاک فوج میں افسر بنی ہیں۔
نگار جوہر وہ چوتھی خوش قسمت خاتون تھیں جو میجر جنرل بنی ، وہ پاک فوج کے ان 25 خوش قسمت بریگیڈئیروں میں سے ایک تھیں جن کو آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کے حکم پر ترقی دے کر میجر جنرل کے رینک دیئے گئے۔میجر جنرل نگار کا تعلق خٰبرپختونخوا کے علاقے صوابی سے ہے ، ان کے والد صاحب کرنل قدیر بھی آئی ایس آئی کے لیے خدمات انجام دے چکے ہیں ، نگار کے والدین تیس سال قبل ایک کار حادثے میں جان کی بازی ہار گئے تھے۔
آخر میں آپ کو یہ بھی بتاتے چلیں کہ ان باہمت خواتین نے تو اپنے مثبت اور تعمیری کردار سے ملک کا نام روشن کیا لیکن خواتین کیلئے افواج پاکستان کے دروازے کھولنے کا کریڈٹ محترمہ رعنا لیاقت علی خان کو جاتا ہے جو پاکستان کی پہلی خاتون اول تھیں اور وزیر اعظم لیاقت علی خان کی اہلیہ تھیں۔ انھوں نے 1949 میں ویمن نیشنل گارڈ کی بنیاد رکھی جسے فوجی تربیت بھی دی گئی ، پاکستانی خواتین پر افواج پاکستان کے دروازے محترمہ رعنا لیاقت کے طفیل کھلے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button