پلازما تھراپی سے تمام کرونا مریضوں کا علاج ممکن نہیں

https://youtu.be/O3gf64XeDsQ
دنیا کے دیگر ممالک کی طرح پاکستان میں بھی کرونا وائرس سے متاثرہ مریضوں کا علاج پلازمہ تھراپی سے آزمائشی بنیادوں پر کیا جارہا ہے۔تاہم ماہرین صحت کا کہنا ہے کہ پلازمہ تھراپی کرونا وائرس سے متاثرہ ہر مریض کے لیے موثر نہیں ہے۔ اس طریقے سے کرونا وائرس سے متاثرہ صرف ان مریضوں کا علاج ممکن ہے جو ‘سیویئر اسٹیج’ پر ہوں لیکن جو مریض اس وبا سے ‘کریٹیکل اسٹیج’ پر پہنچ چکے ہوں پلازمہ تھراپی کے ذریعے ان کا علاج ممکن نہیں ہے۔ تاہم طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ پاکستان میں پلازمہ تھراپی کے ذریعے کرونا وائرس سے متاثرہ مریضوں کے آزمائشی بنیادوں پر علاج کے حوصلہ افزا نتائج سامنے آ رہے ہیں۔
پلازمہ تھراپی کے لیے درکار پلازمہ اور اس میں موجود ‘اینٹی باڈیز’ سے متعلق ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ لازمی نہیں کہ کرونا وائرس سے صحت یاب ہونے والے ہر فرد سے حاصل کردہ پلازمہ میں اینٹی باڈیز موجود ہوں۔ تاہم پلازمہ عطیہ کرنے والے شخص کو کسی قسم کے خطرات لاحق نہیں ہوتے اور یہ عمل 30 سے 45 منٹ میں مکمل ہو جاتا ہے۔ پاکستان میں پلازمہ تھراپی سے متعلق پائی جانے والی غلط فہمیاں اور ابہام بارے یونیورسٹی آف ہیلتھ سائنسز کے شعبۂ فزیالوجی اور پلازمہ تھراپی ٹرائل کے سربراہ ڈاکٹر فریدون جواد کا کہنا ہے کہ پلازمہ تھراپی دراصل ‘پیسیو امیونائزیشن’ کا طریقۂ علاج ہے جو 18ویں صدی کے آخر میں ایجاد ہوا تھا۔ اس میں اینٹی باڈیز کے ذریعے علاج کیا جاتا ہے۔ ڈاکٹر فریدون کے مطابق انسانی جسم کے اندر جب باہر سے جراثیم داخل ہوتے ہیں تو سب سے پہلے انسان کی قوتِ مدافعت اس کی تشخیص کرتی ہے۔ پھر قوتِ مدافعت ان جراثیم کے خلاف مالیکیولز بناتی ہے جو ان جراثیم سے لڑتے ہیں۔ ان مالیکیولز کو ‘اینٹی باڈیز’ کہا جاتا ہے۔ ڈاکٹر فریدون کا کہنا تھا کہ انسانی جسم میں بننے والی اینٹی باڈیز اسی جرثومے کے خلاف استعمال کی جاتی ہیں جن جراثیم کے خلاف وہ اینٹی باڈیز بنی ہوتی ہیں۔ کرونا وائرس کے مریضوں کی مثال دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ جب کوئی مریض کرونا سے صحت یاب ہو جاتا ہے تو اس کے خون میں ‘اینٹی باڈیز’ موجود ہوتی ہیں۔
ڈاکٹر فریدون جواد نے اس حوالے سے کہا کہ پلازمہ تھراپی کے ذریعے کرونا سے متاثرہ صرف ان مریضوں کا علاج کیا جا رہا ہے جو ‘سیویئر اسٹیج’ پر ہوں یعنی وہ اسٹیج جس میں مریض کو آکسیجن لگائی گئی ہو۔ لیکن جن مریضوں کی حالت نازک ہو یعنی ‘کریٹیکل اسٹیج’ ہو ان کا علاج پلازمہ تھراپی سے نہیں ہو سکتا۔ جو مریض شدید بیماری کے اسٹیج پر نہ ہوں ان کا علاج بھی پلازمہ تھراپی سے نہیں کیا جاتا۔ ڈاکٹر فریدون کے مطابق مریض کی حالت کے پیشِ نظر پلازمہ تھراپی کے ذریعے علاج کا فیصلہ ڈاکٹر، مریض کی علامات کی نوعیت دیکھ کر کرتا ہے۔ پلازمہ تھراپی صرف ایک طریقہ علاج ہے۔ اس کی کوئی ضمانت نہیں ہوتی کہ اس طریقے سے کرونا سے متاثرہ مریض کی جان بچائی جا سکتی ہے یا نہیں۔
ڈاکتر کے بقول صحت یاب ہونے والے مریض کا پلازمہ جب وائرس سے متاثرہ کسی دوسرے شخص کو لگایا جاتا ہے تو اس پلازمہ میں موجود ‘اینٹی باڈیز’ مریض کے جسم میں وائرس کی تشخیص کرتی ہیں اور قوتِ مدافعت کے باقی اجزا کرونا وائرس کو تلف کر دیتے ہیں۔
ڈاکٹر فریدون کا کہنا ہے کہ اب تک تو کرونا سے صحت یاب ہونے والے کسی بھی شخص کا پلازمہ دوسرے مریض کے علاج کے لیے فائدہ مند ثابت ہو رہا ہے۔ لیکن کوشش یہ کی جاتی ہے کہ جس بلڈ گروپ کا پلازمہ ہو، وہ اسی بلڈ گروپ کے مریض کو لگایا جائے۔ ڈاکٹر فریدون کا کہنا تھا کہ پاکستان میں کرونا وائرس کے صحت یاب مریضوں کی تعداد 50 ہزار سے زائد ہو چکی ہے۔ لہٰذا وائرس سے متاثرہ مریضوں کے علاج کے لیے پاکستان کے پاس پلازمہ دینے والوں کی بڑی تعداد موجود ہے۔ اگر صحت یاب مریض پلازمہ عطیہ کریں تو کافی جانیں بچائی جا سکتی ہیں لیک افسوسناک صورتحال ہے کی کچھ نا عاقبت اندیش لوگوں نے اسے بھی کمائی کا ذریعہ بنا لیا ہے اور پلازما کے بدلے بھی لاکھوں روپے کا تقاضا کرنے کی خبریں سامنے آ رہی ہیں۔
ڈاکٹر فریدون نے خون اور پلازمہ کا فرق بتاتے ہوئے کہا کہ لیبارٹریوں میں جب خون کا نمونہ لیا جاتا ہے تو اس کا نچلا حصہ سرخی مائل ہوتا ہے جب کہ اوپر والا حصہ شفاف پانی نما ہوتا ہے۔ان کے بقول پلازمہ خون کا پانی نما حصہ ہوتا ہے جبکہ نچلے حصے میں ‘سیلز’ ہوتے ہیں۔ ڈاکٹر فریدون نے بتایا کہ جیسے خون کا نمونہ حاصل کرنے کے لیے سوئی لگائی جاتی ہے، اسی طرح سوئی کے ذریعے خون ایک مشین میں لگائی گئی تھیلی میں جاتا ہے جس کے بعد وہ مشین خون سے پلازمہ الگ کر کے دوسری تھیلی میں منتقل کر دیتی ہے اور ‘سیلز’ دوبارہ پلازمہ عطیہ کرنے والے شخص کے جسم میں چلے جاتے ہیں۔ڈاکٹر فریدون کے بقول اس عمل میں استعمال ہونے والی کِٹ ڈسپوزِبل ہوتی ہے اور پلازمہ حاصل کرنے کے عمل میں 30 سے 45 منٹ کا وقت لگتا ہے۔ان کا مزید کہنا تھا کہ پلازمہ عطیہ کرنے والا شخص ایک ہفتے بعد دوبارہ پلازمہ عطیہ کر سکتا ہے۔
دنیا کے دیگر ممالک کی طرح پاکستان میں کرونا متاثرین کے علاج کیلئے پلازمہ تھراپی کے مثبت نتائج سامنے آنے کے بعد جہاں کرونا کو شکست دینے والے مریضوں نے پلازمہ کی فروخت کو بزنس بنا لیا ہے وہیں پنجاب حکومت نے کرونا مریضوں کیلئے بلا اجازت پلازما ٹرانس فیوژن پر پابندی عائد کر دی ہے جبکہ لاہور ہائیکورٹ نے پلازمہ فروخت کرنے والوں کے خلاف سخت کارروائی کا حکم دے دیا ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button