پنجاب اسمبلی:حکومت نے گندم نہ خریدنے کا واضح اعلان کردیا

پنجاب اسمبلی میں وزیرخوراک بلال یاسین نے گندم نہ خریدنے کاواضح اعلان کردیا۔
پنجاب اسمبلی کا اجلاس دو گھنٹے تیس منٹ کی تاخیر سے شروع ہوا،اجلاس میں گندم خریداری سے متعلق حکومت نے ہاتھ کھڑے کر دئیے۔صوبائی وزیر خوراک بلال یاسین نے ایوان کو بتایا کہ حکومت کسانوں سے گندم خریدنا چاہتی تھی۔مگر کسانوں نے 90 فیصد فروخت کردی ہے۔جب کسان کے پاس گندم نہیں تو مڈل مین کو فائدہ پہنچانے کیلئے اربوں روپے حکومت خرچ نہیں کر سکتی ہے۔
پنجاب اسمبلی کااجلاس،وزیر خوراک بلال یاسین نے واضح کردیا حکومت موجودہ حالات میں گندم خریداری نہیں کر سکتی ہے۔کسانوں کوریلیف دینے کیلئے پنجاب حکومت کسان کوریلیف کارڈ دے گی۔
اپوزیشن لیڈر ملک احمد خان بولے حکومت کی ناقص پالیسی کے باعث گندم خریداری بحران پیدا ہوا،حکومت نے گندم درآمد کرکے خزانے کو اربوں کو نقصان پہنچایا۔جبکہ حکومت قومی خزانے کونقصان پہنچانے والوں کیخلاف کاروائی کرنے سے قاصر ہے۔
اپوزیشن اراکین کی گندم خریداری بحران پر حکومت پر سخت تنقید،اپوزیشن لیڈر ملک احمد خان بولے پنجاب حکومت نے گندم کی خریداری نہ کرکے کسانوں کا معاشی قتل کیا ہے۔تیراں جولائی سے ابتک گندم اسکینڈل پر تحقیقات کیوں نہ ہوسکی۔موجودہ حکومت ٹک ٹاک پر چل رہی ہے۔گندم امپورٹ کرکے خزانے کو گیارہ ارب 37 کروڑ کا ٹیکہ لگا گیا ہے۔
پنجاب اسمبلی کے اجلاس میں اپوزیشن اور حکومت اراکین نے امن و امان کی صورتحال اظہار تشویش کیا اور مطالبہ کیا کہ حکومت امن و امان کو برقرار رکھنے اقدامات کرے۔اجلاس کے ایجنڈا مکمل ہونے پر سپیکر پنجاب اسمبلی ملک محمد احمد خان نے اجلاس بدھ کی دوپہر 2 بجے تک ملتوی کردیا۔