پی آئی اے میں لازمی سروس ایکٹ نافذ، نوٹیفکیشن جاری

حکومت نے پاکستان ایسینشیئل سروسز ایکٹ یعنی لازمی خدمات کا قانون 1952 نافذ کردیا۔ اس ایکٹ کے تحت پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز کارپوریشن لمیٹڈ (پی آئی اے سی ایل) کو مختلف ممالک میں پھنسے پاکستانیوں اور غیر ملکیوں کے بچاؤ اور انخلا کی اجازت مل گئی۔ مذکورہ ایکٹ 6 ماہ کی مدت تک کےلیے فوری طور پر نافذ العمل کیا گیا۔
پی آئی ترجمان کے مطابق کووِڈ 19 کے اثرات کے باعث پاکستانیوں اور تارکین وطن کی ایک بڑی تعداد مختلف ممالک میں پھنسی ہوئی ہے جن کے ویزے کی مدت ختم ہوگئی ہے اور ان کے وسائل محدود ہے۔ ایک پریس ریلیز جاری کرتے ہوئے ترجمان کا کہنا تھا کہ بچاؤ، انخلا اور وطن واپسی کا آپریشن بغیر کسی رکاوٹ کے جاری رکھنے کو یقینی بنانے کے لیے پی آئی اے سی ایل کی سروسز فوری طور پر 6 ماہ کے لیے لازمی خدمات کے قانون کے ماتحت کردی گئی ہیں۔ اس بات کی امید ہے کہ اس قانون کے اطلاق سے کمپنی کے شعبہ جات اور ملازمین دنیا بھر میں پھنسے پاکستانیوں کی مکمل وطن واپسی کے مقصد کو حاصل کرنے کے لیے زیادہ سے زیادہ ہم آہنگی پیدا کریں گے۔ ساتھ ہی کمپنی مثبت طریقے سے قومی خدمات میں حصہ لے سکتی ہے جو بیرونِ ملک پھنسے تارکین وطن پاکستانیوں کی تعداد کو مدِ نظر رکھتے ہوئے ایک بڑا کام ہے۔
پریس ریلیز کے مطابق حکومت اب تک 160 پروازوں کے ذریعے 27 ہزار پاکستانیوں اور غیر ملکیوں کے انخلا کےلیے اپنی جان خطرے میں ڈالنے والے قومی ایئرلائن کے بہادر خواتین و مرد ملازمین کی کوششوں سے آگاہ اور انہیں سمجھتی ہے۔ترجمان پی آئی اے کا کہنا تھا کہ پی آئی اے کورونا وائرس ک خطرات کے باوجود بیرونِ ملک پھنسے پاکستانیوں کی واپسی کے لیے خصوصی پروازیں چلارہی ہے اور اب تک 27 ہزار سے زائد افراد کو واپس لایا گیا ہے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ پی آئی اے کے چیف ایگزیکٹو افسر کو مختلف ممالک میں پھنسے اور وطن واپسی کے خواہشمندوں کی ہزاروں شکایات موصول ہوئی تھیں۔پریس ریلیز میں کہا گیا کہ حکومت کی اجازت سے پی آئی اے پروازوں کا سلسلہ اس وقت تک جاری رکھے گی جب تک آخری پاکستانی بھی وطن واپس نہیں آجاتا۔
ترجمان پی آئی اے نے اعلان کیا کہ قومی ایئرلائن بیرونِ ملک وفات پا جانے والوں کی میتیں بھی وطن واپس لائے گی۔ پی آئی اے کے سی ای او مارشل ارشد ملک کا کہنا تھا کہ اس مشن میں ادارے کو تمام حکومتی حلقوں، قومی اداروں کا مکمل تعاون حاصل ہے جس کے لیے وہ شکر گزار ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button