پی ٹی آئی کی کال پر عمرانڈو سڑکوں پر نکلنے سے انکاری کیوں؟

مذہبی ٹچ اور سیاسی شعبدہ بازی کی ناکامی کے بعد پی ٹی آئی کی نام نہاد عوامی مقبولیت کا غبارہ بھی پنکچر ہو گیا، تحریک انصاف کی کال پر یوتھیے کارکنان بھی سڑکوں پر نکلنے سے انکاری ہو گئے علیمہ خان کی جذباتی اپیلوں اور عمرانڈو رہنماؤں کے بلندوبانگ دعوؤں کے باوجود پی ٹی آئی کیلئے اڈیالہ جیل کے باہر دس ہزار بندے جمع کرنا بھی مشکل ہو گیا ہے۔ اس صورتحال کے بعد تحریک انصاف کا مستقبل میں بھرپور عوامی احتجاجی تحریک چلانے کا خواب وقت سے پہلے ہی چکنا چور ہوتا دکھائی دیتا ہے۔
واضح رہے کہ میگا کرپشن کیس میں سزا یافتہ عمران خان کے لیے وکلا اور اہلِ خانہ سے ملاقاتوں پر غیر اعلانیہ پابندی عائد ہے۔ تاہم ہر منگل کو بانیٔ پی ٹی آئی کی بہنیں چند سو کارکنان کے ہمراہ اڈیالہ جیل کے قریب دھرنا دینے پہنچ جاتی ہیں، ہر بار یہ اعلان کیا جاتا ہے کہ عمران خان سے ملاقات کے بغیر دھرنا ختم نہیں کیا جائے گا، مگر پھر نصف شب یا سحر سے قبل ہی پولیس آپریشن شروع ہوتے ہی علیمہ خان بہنوں سمیت بوریا بستر چھوڑ کر بھاگ جاتی ہیں۔
مبصرین کے مطابق عمران خان کی بہنیں دھرنوں میں کارکنان کی شرمناک حد تک کم تعداد پر سخت دل برداشتہ اور مایوس نظر آتی ہیں۔ ان کا خیال ہے کہ اگر کارکنان کی تعداد کسی طرح بڑھا دی جائے تو حکومت پر دباؤ ڈالنے کا ڈراما کامیابی سے کھیلا جا سکتا ہے۔ پی ٹی آئی ذرائع کے مطابق گزشتہ منگل عمران خان کی بہنوں نے بھی بھائی کے نقشِ قدم پر چلتے ہوئے دھرنے کو مذہبی رنگ دینے کا فیصلہ کیا۔ حکمتِ عملی یہ طے پائی کہ اس بار دھرنے کے مقام پر سورۂ یٰسین کا ختم کرایا جائے گا، تاکہ ایک تیر سے دو شکار کیے جا سکیں۔ ایک طرف دھرنے کو مذہبی رنگ ملے گا اور دوسری طرف سورۂ یٰسین کی تلاوت کے دوران انتظامیہ واٹر کینن استعمال نہیں کر سکے گی۔ اگر اس کے باوجود کارروائی کی گئی تو مذہبی بیانیے کے ساتھ سوشل میڈیا پر طوفان برپا کیا جائے گا۔ اس مقصد کے لیے دس ہزار کارکنان کا ہدف مقرر کیا گیا اور سوشل میڈیا پر بھرپور مہم چلائی گئی۔ اعلان کیا گیا کہ راولپنڈی اور اسلام آباد کے تمام چھوٹے بڑے عہدیداران، ٹکٹ ہولڈرز اور ارکانِ اسمبلی کارکنان کے ہمراہ اڈیالہ جیل پہنچیں۔ اس مہم میں درجنوں پی ٹی آئی سے وابستہ سوشل میڈیا اکاؤنٹس متحرک رہے جبکہ خود علیمہ خان نے بھی اپنے ایکس اکاؤنٹ سے اس حوالے سے بھرپور پیغام جاری کیا۔ لیکن جب معرکے کا دن آیا تو اڈیالہ جیل پہنچنے والوں کی تعداد محض ساڑھے چار سو سے پانچ سو کے درمیان رہی۔ جس نے نہ صرف تمام منصوبہ بندی کو بے نقاب کر دیا بلکہ علیمہ خان کی تمام امیدوں پر بھی پانی پھیر دیا۔
علیمہ خان کے ساتھ دھرنے میں شریک ایک کلٹ فالوور کے مطابق کارکنان کی اس قدر کم تعداد دیکھ کر عمران خان کی بہنیں شدید مایوس اور دل برداشتہ نظر آئیں۔ انہوں نے اردگرد موجود کارکنان سے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ معلوم نہیں کارکنان کیوں سو گئے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ صرف راولپنڈی ڈویژن میں ہی چھوٹے بڑے ملا کر پانچ ہزار پارٹی عہدیداران ہیں، اگر صرف یہی لوگ نکل آئیں تو دس ہزار کا ہدف پورا ہو سکتا ہے۔
عینی شاہدین کے مطابق رات ساڑھے بارہ بجے کے قریب پولیس نے محمود خان اچکزئی سے رابطہ کر کے خبردار کیا کہ آمد و رفت متاثر ہو رہی ہے اور اگر نصف گھنٹے میں دھرنا ختم نہ کیا گیا تو کارروائی کی جائے گی۔ اسی دوران واٹر کینن کی گاڑیاں پوزیشن سنبھالنے لگیں۔ اچکزئی نے پولیس کے سنجیدہ عزائم کو بھانپ لیا۔ وہ پچھلے دھرنے میں علامہ ناصر عباس کے بھیگنے کا منظر دیکھ چکے تھے اور اس عمر میں خود ایسے تجربے سے گزرنے کے خواہاں نہ تھے۔ چنانچہ انہوں نے علیمہ خان کو مشورہ دیا کہ مزید بیٹھنے کا کوئی فائدہ نہیں، واپسی کی تیاری کی جائے۔ تاہم مسئلہ یہ تھا کہ کارکنان کو واپسی کا کیا جواز دیا جائے۔ اس پر اچکزئی نے پولیس سے کہا کہ ہم واپس جانے کے لیے تیار ہیں، بشرطیکہ اگلے منگل کو بہنوں کی عمران خان سے ملاقات کرا دی جائے۔ پولیس حکام نے جان چھڑانے کے لیے محض یہ کہہ دیا کہ وہ کوشش کریں گے، یعنی ملاقات کی کوئی یقین دہانی نہ کرائی گئی۔ تاہم فیس سیونگ کے لیے یہی جملہ کافی ثابت ہوا، حالانکہ سب جانتے تھے کہ ملاقات کی اجازت دینا پولیس کے اختیار میں نہیں اور اگلے منگل کو بھی صورتحال جوں کی توں رہے گی۔ چنانچہ رات ایک بج کر پانچ منٹ پر قافلہ بنی گالہ روانہ ہو گیا۔یوں اس بار گزشتہ منگل کے مقابلے میں کہیں پہلے ہی ’’انقلاب‘‘ واپس لوٹ گیا۔واپسی سے قبل محمود خان اچکزئی نے موقع پر موجود چند پی ٹی آئی حامی یوٹیوبرز سے گفتگو میں علیمہ خان کی مایوسی کا اظہار کرتے ہوئے کہا: “اگر اڈیالہ کے باہر دس ہزار کارکنان نہیں آئے تو عمران خان سے ملاقات کو بھول جائیں۔”
فوج مخالف بیانیے پر تحریک انصاف ٹوٹنے اور بکھرنے لگی
اب ایک بار پھر آئندہ منگل کے لیے دس ہزار کارکنان جمع کرنے کی تیاری کی جا رہی ہے۔ اصل سوال یہ ہے کہ گزشتہ انتخابات میں خیبر پختونخوا سے پینتالیس فیصد اور پنجاب سے پینتیس فیصد ووٹ لینے اور ملک کی سب سے مقبول جماعت ہونے کا دعویٰ کرنے والی پی ٹی آئی، تمام تر کوششوں کے باوجود اڈیالہ جیل کے باہر محض دس ہزار کارکنان کیوں جمع نہیں کر پا رہی؟ ناقدین کے مطابق عوام اب پارٹی کے دوہرے معیار، قیادت کی اقتدار کی ہوس اور ذاتی مفادات کو سمجھ چکے ہیں۔ لوگ اپنے بچوں کو خود غرض قیادت کا ایندھن بنانے پر آمادہ نہیں۔ عوام نے دیکھ لیا ہے کہ نو مئی اور چھبیس نومبر کے واقعات میں ملوث نوجوانوں کو کس طرح بے یارو مددگار چھوڑ دیا گیا، ان کی زندگیاں اور خاندان برباد ہو گئے۔ لوگ یہ بھی دیکھ رہے ہیں کہ آرام دہ کمروں میں بیٹھ کر سوشل میڈیا مہم چلانے والے اپنے بچوں کو تو محفوظ رکھتے ہیں، مگر دوسروں کے بچوں کو قربانی کے لیے اکساتے ہیں۔ ناقدین کے بقول اڈیالہ جیل کے باہر اجتماع کے لیے پنجاب کی قیادت اور کارکنان کو آگے آنا چاہیے تھا، مگر حیران کن طور پر یہ بوجھ بھی خیبر پختونخوا کے کارکنان پر ڈال دیا گیا۔ پنجاب سے نکلنے کو کوئی تیار نہیں۔ مبصرین کے مطابق حقیقت یہ ہے کہ عوام کا اصل شعور بیدار ہو چکا ہے، اور اسی بیداری کے نتیجے میں پی ٹی آئی کی نام نہاد مقبولیت کا جنازہ نکلتا دکھائی دے رہا ہے۔
